خوراک کی اشیا، ایندھن اور قیمتی دھاتوں کی قیمتوں میں اضافے کے باعث مئی ۲۰۲۶ء میں ملک میں صارف قیمت اشاریہ (سی پی آئی) پر مبنی خردہ مہنگائی کی شرح بڑھ کر۹۳ء۳؍فیصد ہو گئی۔
EPAPER
Updated: June 12, 2026, 8:04 PM IST | Mumbai
خوراک کی اشیا، ایندھن اور قیمتی دھاتوں کی قیمتوں میں اضافے کے باعث مئی ۲۰۲۶ء میں ملک میں صارف قیمت اشاریہ (سی پی آئی) پر مبنی خردہ مہنگائی کی شرح بڑھ کر۹۳ء۳؍فیصد ہو گئی۔
خوراک کی اشیا، ایندھن اور قیمتی دھاتوں کی قیمتوں میں اضافے کے باعث مئی ۲۰۲۶ء میں ملک میں صارف قیمت اشاریہ (سی پی آئی) پر مبنی خردہ مہنگائی کی شرح بڑھ کر۹۳ء۳؍فیصد ہو گئی۔ قومی شماریاتی دفتر (این ایس او) کی جانب سے جمعہ کو جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق اپریل میں خردہ مہنگائی ۴۸ء۳؍ فیصد تھی جبکہ مئی میں مسلسل چوتھے ماہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
اعداد و شمار کے مطابق دیہی علاقوں میں مہنگائی کی شرح ۲۵ء۴؍ فیصد اور شہری علاقوں میں ۵۳ء۳؍ فیصد رہی۔ خوراکی اشیا کی مہنگائی کی شرح ۷۸ء۴؍فیصد درج کی گئی جبکہ پان اور تمباکو مصنوعات میں مہنگائی ۶۲ء۶؍ فیصد اور مال برداری خدمات میں ۶۳ء۷؍ فیصد رہی۔
یہ بھی پڑھئے:فرحان اختر آر ڈی برمن کی بایوپک میں ان کا کردار ادا کریں گے
رپورٹ کے مطابق گزشتہ ایک سال کے دوران سب سے زیادہ اضافہ چاندی کے زیورات کی قیمتوں میں دیکھا گیا، جو ۱۵۵؍ فیصد بڑھ گئیں۔ اس کے بعد ٹماٹر کی قیمت میں ۴۸؍ فیصد اور سونے، ہیرے اور پلاٹینم کے زیورات کی قیمتوں میں ۴۱؍ فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ دوسری جانب بعض اشیا کی قیمتوں میں کمی بھی دیکھی گئی۔ آلو ۲۴؍ فیصد، مٹر۱۱؍ فیصد اور موٹر کاروں و جیپوں کی قیمتیں تقریباً ۷؍ فیصد کم ہوئیں۔
یہ بھی پڑھئے:فیفاورلڈ کپ: پہلے میچ میں ۳؍ ریڈ کارڈز، سوشل میڈیا پر میمزکا سیلاب
ریاستوں میں تلنگانہ میں سب سے زیادہ ۷۱ء۶؍فیصد مہنگائی ریکارڈ کی گئی، جبکہ تمل ناڈو میں ۱۱ء۵؍ فیصد، آندھرا پردیش میں ۹۰ء۴؍ فیصد، کرناٹک میں ۵۹ء۴؍ فیصد اور ادیشہ میں ۵۴ء۴؍ فیصد مہنگائی درج کی گئی۔