بے گھر افراد کے کیمپوں میں بھیڑ بڑھنے سےدباؤ، مریب اور راس العرہ کے دواسپتالوں میں زچگی اور نومولود بچوں کی ہنگامی نگہداشت سے متعلق سہولیات معطل۔
EPAPER
Updated: October 01, 2026, 3:44 PM IST | Agency | Sanaa
بے گھر افراد کے کیمپوں میں بھیڑ بڑھنے سےدباؤ، مریب اور راس العرہ کے دواسپتالوں میں زچگی اور نومولود بچوں کی ہنگامی نگہداشت سے متعلق سہولیات معطل۔
یمن میں حوثیوں اور حکومتی فوج کے مابین کئی ہفتوں سے جاری لڑائی کے باعث ہیضہ، خسرہ اور دیگر بیماریوں کے بڑے پیمانے پر پھیلاؤ کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے خبردار کیا ہے کہ ملک میں تشدد کے باعث بے گھر ہو جانے والے لوگوں کے کیمپوں میں بڑھتی ہوئی بھیڑ نے پہلے سے محدود طبی سہولیات پر بھاری دباؤ ڈال دیا ہے۔ خدشہ ہے کہ یہ نظام اب مزید بوجھ برداشت نہیں کر پائے گا۔
ادارے میں خطہ مشرقی بحیرہ روم سے متعلق ہنگامی حالات کے شعبے کی ڈائریکٹر اینیٹ ہائنزل مین نے کہا ہے کہ مریب اور راس العرہ کے دواسپتالوں میں زچگی اور نومولود بچوں کی ہنگامی نگہداشت سے متعلق سہولیات معطل کر دی گئی ہیں، کیونکہ وہاں کے عملے کو زخمیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کا علاج کرنے کے لئے ٹراما کیئر پر منتقل کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے بتایا ہے کہ’ڈبلیو ایچ او‘ کے تعاون سے ۲۰؍سے زیادہ موبائل طبی ٹیمیں ان اہم صوبوں میں تعینات کی گئی ہیں جہاں بڑی تعداد میں کمزور اور ضرورت مند افراد پہنچ رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:امریکہ: تارکین وطن کو تیسرے ملک بھیجنے کی اجازت
ادارے نے تقریباً۶۰؍ ٹن طبی سامان بھی یمن روانہ کیا ہے جس کی مالیت تقریباً۶؍ لاکھ۵۶؍ ہزار ڈالر ہے۔ یہ سامان۱۰؍ صوبوں میں۴۰؍ طبی مراکز اور دفاتر کو فراہم کیا گیا ہے۔
ڈاکٹر ہائنزل مین نے بتایا کہ لڑائی میں۹؍ طبی مراکز کو نقصان پہنچا یا انہیں براہ راست حملوں کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ ان میں زیادہ تر مراکز تعز، لحج اور الحدیدہ کے قریب واقع ہیں۔
انہوں نے کہا ہے کہ بے گھر ہونے والے خاندانوں کو فوری طور پر زچہ و بچہ کی صحت سے متعلق سہولیات، غذائی امداد،ٹیکہ کاری اور ذہنی صحت کے لئے معاونت درکار ہے۔
لڑائی میں شدت آنے سے پہلے بھی یمن کے تقریباً۶۰؍ فیصد طبی مراکز ہی مکمل طور پر فعال تھے جبکہ ٹراما سرجری، خون کی منتقلی اور انتہائی نگہداشت کی سہولیات انتہائی محدود تھیں۔
رواں سال ملک میں ہیضہ کے تقریباً۷؍ ہزار۸؍سو مشتبہ مریض سامنے آئے جن میں۲۲؍ اموات رپورٹ ہو چکی ہیں۔ عارضی پناہ گاہوں میں غیر محفوظ پانی اور ناقص صفائی کے باعث یہ مرض پھوٹنے کے خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔
ہیضے کے علاوہ ڈینگی کا پھیلاؤ بھی تشویش کا باعث ہے۔ اس بیماری سے اب تک۳۷؍ اموات ہو چکی ہیں جبکہ خسرے کے۲۲؍ ہزار سے زیادہ مریضوں کی نشاندہی ہوئی ہے۔ ۶؍اگست سے جنوب مغربی یمن میں دوبارہ شروع ہونے والی لڑائی میں۸۳۰؍ افراد ہلاک اور۳؍ ہزار۶۵۱؍ سے زیادہ زخمی ہو چکے ہیں۔