Updated: July 25, 2026, 8:03 PM IST
| Mumbai
ممبئی میں طلبہ کے احتجاج کے دوران پولیس وین کے سامنے کھڑے ہو کر وائرل ہونے والی ماڈل اور کانٹینٹ کریئیٹر رِیا آہیر نے سوشل میڈیا پر اپنے خلاف چلنے والی مہم کو ’’جھوٹا اور تذلیل آمیز‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں نشانہ بنا کر طلبہ کی تحریک سے توجہ ہٹانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے خواتین کے خلاف نفرت انگیز مہم اور صنفی تعصب کی بھی مذمت کی۔
ممبئی میں حالیہ طلبہ احتجاج کے دوران پولیس وین کے سامنے ڈٹ کر کھڑی ہونے کی وجہ سے سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی رِیا آہیر نے اپنے خلاف گردش کرنے والے دعوؤں پر پہلی بار کھل کر ردعمل دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے بارے میں پھیلائی جا رہی معلومات ’’جھوٹی، گمراہ کن اور تذلیل آمیز‘‘ ہیں اور ان کا مقصد اصل احتجاجی تحریک سے عوام کی توجہ ہٹانا ہے۔ رِیا آہیر نے انسٹاگرام اسٹوریز میں کہا کہ ان کے Instagram Subscriptions سے متعلق سوشل میڈیا پر جو دعوے کیے جا رہے ہیں، وہ حقیقت پر مبنی نہیں۔ ان کے مطابق یہ فیچر انسٹاگرام کی جانب سے تخلیق کاروں کو فراہم کیا جانے والا ایک باقاعدہ آپشن ہے، لیکن بعض صفحات نے اسے توڑ مروڑ کر اس انداز میں پیش کیا جیسے وہ احتجاج کی مقبولیت کو مالی فائدے کے لیے استعمال کر رہی ہوں۔
یہ بھی پڑھئے: جنتر منتر کے رضاکار محمد جنید کا یوپی پولیس پر اہلِ خانہ کو ہراساں کرنے کا الزام
انہوں نے اپنے خلاف مہم چلانے والے اکاؤنٹس کو رپورٹ کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ یہ معاملہ صرف ان کی ذات تک محدود نہیں بلکہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ خواتین کو عوامی سطح پر آواز اٹھانے پر کس طرح صنفی بنیادوں پر نشانہ بنایا جاتا ہے۔ ان کے مطابق آن لائن نفرت انگیز مہم معاشرے میں موجود گہرے Misogyny کی عکاس ہے۔ گلف نیوز کی ایک رپورٹ کے مطابق رِیا آہیر نے زور دے کر کہا کہ وہ اس تحریک کا اصل چہرہ نہیں ہیں۔ ان کے الفاظ میں، ’’اس احتجاج کا حقیقی چہرہ میں نہیں بلکہ طلبہ ہیں، اس لیے توجہ میری ذات پر نہیں بلکہ ان کے مطالبات پر ہونی چاہیے۔‘‘
خیال رہے کہ رِیا آہیر اس وقت قومی سطح پر توجہ کا مرکز بن گئیں جب ممبئی میں ہونے والے احتجاج کے دوران انہوں نے حراست میں لیے گئے مظاہرین کو لے جانے والی ایک پولیس وین کے سامنے کھڑے ہو کر اسے روکنے کی کوشش کی۔ اس واقعے کی تصاویر اور ویڈیوز بڑے پیمانے پر وائرل ہوئے اور انہیں احتجاج کی علامتی شخصیت کے طور پر دیکھا جانے لگا۔ تاہم، ان کے اس اقدام کے بعد ان کی ذاتی زندگی اور سوشل میڈیا سرگرمیوں کو بھی شدید تنقید اور افواہوں کا سامنا کرنا پڑا۔ رِیا آہیر کا کہنا ہے کہ اس تمام تنازع کے باوجود ان کی توجہ اب بھی طلبہ کے مطالبات اور احتجاج کے بنیادی مقصد پر مرکوز ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو چاہیے کہ وہ ان کی شخصیت کے بجائے ان نوجوانوں کی آواز سنیں جو امتحانی نظام میں شفافیت اور جوابدہی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔