Inquilab Logo Happiest Places to Work

بنیلی اور امبیولی کے درمیان سڑک دھنس گئی،آمد ورفت متاثر

Updated: July 07, 2026, 2:59 PM IST | Ejaz Abduilghani | Titwala

ممبئی۔بروڈہ ایکسپریس وے سے متصل بنیلی گاؤں کے قریب نالے پر قائم سڑک کا ایک حصہ اچانک دھنس جانے سے وہاں بڑا شگاف پڑ گیا جس کے نتیجے میں ۲؍ افراد اس گڑھے میں گرگئے۔

Rain.Photo:INN
بارش۔ تصویر:آئی این این
ممبئی۔بروڈہ ایکسپریس وے سے متصل بنیلی گاؤں کے قریب نالے پر قائم سڑک کا ایک حصہ اچانک دھنس جانے سے وہاں بڑا شگاف پڑ گیا جس کے نتیجے میں ۲؍ افراد اس گڑھے میں گرگئے۔خوش قسمتی سے موقع پر موجود راہگیروں نے حاضر دماغی اور مستعدی کا مظاہرہ کرتے ہوئے فوری طور پر دونوں افراد کو بحفاظت باہر نکال لیا جس سے ایک بڑا سانحہ ٹل گیا۔سڑک دھنسنے کے بعد حفاظتی نقطۂ نظر سے پیر کی دوپہر اس اہم شاہراہ پر ٹریفک مکمل طور پر معطل کر دیا گیا۔ اچانک راستہ بند ہونے کے باعث شاہراہ کے دونوں جانب گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئیں اور  سیکڑوں مسافروں کو شدید دشواریوں اور طویل انتظار کا سامنا کرنا پڑا۔
 
 
اطلاعات کے مطابق مسلسل موسلا دھار بارش کے باعث بنیلی گاؤں اور امبیولی میں تعمیر کئے گئے انڈر پاس کے قریب سڑک کا ایک حصہ دھنس گیا جس کے پیشِ نظر احتیاطی تدابیر اختیار کرتے ہوئے انتظامیہ نے دوپہر تقریباً ۲؍بجے سے شام ۷ ؍بجے تک ٹٹوالا جانے والی تمام گاڑیوں کی آمد و رفت معطل کر دی۔ حفاظتی نقطۂ نظر سے متاثرہ مقام کو فوری طور پر بند کر کے ٹریفک کو متبادل راستوں کی جانب موڑ دیا گیا۔ ٹریفک پولیس نے گاڑیوں کی آمد و رفت کو برقرار رکھنے کے لئے موہیلی اور مانیولی کے راستوں سے ٹریفک کا رخ موڑا جبکہ بنیلی سے امبھارنی جانے والی سڑک کو بھی متبادل راستے کے طور پر استعمال میں لایا گیا جس سے ٹریفک کی روانی کسی حد تک برقرار رکھنے میں مدد ملی۔
 
 
مقامی سماجی کارکن نجیف رئیس کے مطابق سڑک دھنس جانے کے باعث بنیلی، ٹٹوالا اور کلیان کی سمت جانے والی ٹریفک تقریباً ۵؍ گھنٹے تک مکمل طور پر متاثر رہی جس سے مسافروں اور مقامی شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ ادھر سابق کارپوریٹر میور پاٹل نے جائے وقوعہ کا معائنہ کرنے کے بعد متعلقہ محکمہ سے مطالبہ کیا کہ  سڑک کی ہنگامی بنیادوں پر مرمت کی جائے تاکہ مستقبل میں کسی بڑے حادثے کا خطرہ ٹالا جا سکے اور شہریوں کو آمد و رفت میں پیش آنے والی مشکلات سے جلد از جلد نجات مل سکے۔

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK