این سی پی شردپوار کے رکن اسمبلی روہت پوار نے ایم پی ایس سی امیدواروں کے احتجاج کو حمایت دی ہے۔ انہوں نے پیر کو پونے میں ہونے والے مظاہرے میں شرکت کی اور اس دوران ریاستی حکومت پر جم کر تنقید کی۔
EPAPER
Updated: September 08, 2026, 12:26 PM IST | Agency | Pune
این سی پی شردپوار کے رکن اسمبلی روہت پوار نے ایم پی ایس سی امیدواروں کے احتجاج کو حمایت دی ہے۔ انہوں نے پیر کو پونے میں ہونے والے مظاہرے میں شرکت کی اور اس دوران ریاستی حکومت پر جم کر تنقید کی۔
این سی پی شردپوار کے رکن اسمبلی روہت پوار نے ایم پی ایس سی امیدواروں کے احتجاج کو حمایت دی ہے۔ انہوں نے پیر کو پونے میں ہونے والے مظاہرے میں شرکت کی اور اس دوران ریاستی حکومت پر جم کر تنقید کی۔ لوکت مت کی رپورٹ کے مطابق انہوں نے کہا کہ ’’اگر برسراقتدارافراد اپنے دوستوں کا بھلا کرنا چاہتے ہیں تو انہیں اپنی پارٹی میں شامل کرلیں، لیکن ایم پی ایس سی جیسے آئینی ادارے میں بدعنوان افسران کو جگہ نہ دیں۔‘‘ روہت پوار نے پرزور انداز میں حکومت کو متنبہ کیا کہ ’’ایم پی ایس سی کے چیئرمین کو فوری طور پر عہدہ سے ہٹایا جائے۔ اگر حکومت نے اگلے ۳؍دنوں میں طلبہ کے مطالبات پر ٹھوس فیصلہ نہیں کیا تو پونے کے شاستری روڈ پر چکّاجام کرکے اس سے بھی زیادہ شدید احتجاج کیا جائے گا۔‘‘
یہ بھی پڑھئے:ظہران ممدانی کا روڈی جیولیانی کو جواب، ۱۱؍ ستمبر یادگاری تقریب میں شرکت کریں گے
انہوں نےریاستی حکومت کو خبردار کیا کہ، ’’اگر مقدمات درج کرنے ہیں تو ہمارے خلاف درج کریں، لیکن اگر طلبہ کو ہاتھ لگایا گیا توپھر ٹھیک نہیں ہوگا!‘‘ روہت پوار نے کہا، ’’تلاٹھی بھرتی گھوٹالے کو’ایم اے ٹی ‘نے تسلیم کیا ہے۔۲۰۱۴ء سے ایک ہی عہدے پر برقرار افسران مسلسل ترقیاں حاصل کر رہے ہیں اور بدعنوانی کر رہے ہیں۔ احتجاج کرنے والے طلبہ کو حکمراں ’نوٹنکی‘ قرار دیتے ہیں، لیکن ترقی پسند مہاراشٹر میں اسے کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔‘‘ انہوں نے مزید مطالبہ کیا کہ ایم پی ایس سی کی بھرتی کا عمل آزادانہ طور پر انجام دیا جائے، ہر ضلع میں کمیشن کا دفتر قائم کیا جائے اور تمام امتحانات صرف آف لائن طریقے سے منعقد کیے جائیں۔ روہت پوار نے یہ بھی واضح کیا کہ وزیر اعلیٰ کے ساتھ ہونے والی میٹنگ میں سیاسی لیڈروں کے بجائے صرف طلبہ اور اساتذہ کے وفد کو ہی بات چیت کرنی چاہیے۔