• Mon, 23 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

رونالڈو کی النصر کے کھلاڑیوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی، رمضان کے روزے رکھے

Updated: February 23, 2026, 3:56 PM IST | Riyadh

فٹ بال کی دنیا کے عظیم کھلاڑی کرسٹیانو رونالڈو کے حوالے سے ایک حیران کن انکشاف ہوا ہے۔ النصر کے سابق ساتھی کھلاڑی شایع شراحیلی کے مطابق، ۴۱؍سالہ پرتگالی اسٹار نے گزشتہ سال رمضان کے دوران اپنے مسلمان ساتھیوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی اور اسلامی ثقافت کو سمجھنے کے لیے روزے رکھنے کا تجربہ کیا۔

Cristiano Ronaldo.Photo:INN
کرسٹیانو رونالڈو۔ تصویر:آئی این این

 فٹ بال کی دنیا کے عظیم کھلاڑی کرسٹیانو رونالڈو کے حوالے سے ایک حیران کن انکشاف ہوا ہے۔ النصر کے سابق ساتھی کھلاڑی شایع شراحیلی کے مطابق، ۴۱؍سالہ پرتگالی اسٹار نے گزشتہ سال رمضان کے دوران اپنے مسلمان ساتھیوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی اور اسلامی ثقافت کو سمجھنے کے لیے روزے رکھنے کا تجربہ کیا۔ اگرچہ اسلامی روایت کے مطابق پورا مہینہ روزے رکھے جاتے ہیں، لیکن رونالڈو نے اس تجربے کو سمجھنے کے لیے دو دن تک روزہ رکھا۔


ایک اسپورٹس پوڈ کاسٹ پر بات کرتے ہوئے شایع شراحیلی نے بتایا کہ رونالڈو نے غیر مسلم ہونے کے باوجود صرف یہ جاننے کے لیے روزہ رکھا کہ مسلمان روزے کے دوران کیسا محسوس کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا’’گزشتہ سال کرسٹیانو رونالڈو نے النصر کے مسلمان کھلاڑیوں کے ساتھ روزہ رکھنے کی کوشش کی۔ انہوں نے دو دن روزے رکھے تاکہ وہ اس احساس کو خود محسوس کر سکیں جس سے مسلمان روزے کی حالت میں گزرتے ہیں۔‘‘

یہ بھی پڑھئے:رنجی فائنل: میزبان کرناٹک کا مقابلہ تاریخ رقم کرنے کے لئے پر عزم جموں و کشمیر سے ہوگا


سعودی پرو لیگ میں شمولیت کے بعد سے رونالڈو مسلسل وہاں کی ثقافت کو اپناتے ہوئے نظر آئے ہیں۔ حال ہی میں انہوں نے ایک میچ میں فتح کے بعد روایتی سعودی لباس’’بشت‘‘ پہن کر سب کی توجہ حاصل کی۔ اس کے علاوہ وہ اکثر اپنی تقاریر کا آغاز ’’السلام علیکم‘‘ سے کرتے ہیں اور عید الفطر جیسے مواقع پر مداحوں کو ’’عید مبارک‘‘ کے پیغامات بھی بھیجتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے:میکسیکو: کارٹیل لیڈر ہلاک،ہندوستانی شہریوں کو محفوظ مقامات پر پناہ لینے کی ہدایت

سعودی پرو لیگ میں رمضان کے دوران کھلاڑیوں کی توانائی اور کارکردگی کو برقرار رکھنا ایک بڑا چیلنج ہوتا ہے۔ اس حوالے سے لیگ اور کلبز درج ذیل انتظامات کرتے ہیں۔ میچز عام طور پر افطار کے بعد شام کو منعقد کیے جاتے ہیں۔ ٹریننگ سیشنز یا تو رات کو رکھے جاتے ہیں یا پھر دن کے وقت مشقوں کی شدت کم کر دی جاتی ہے تاکہ کھلاڑی تھکاوٹ کا شکار نہ ہوں۔ غیر روزے دار اوقات میں کھلاڑیوں کو مخصوص متوازن غذا فراہم کی جاتی ہے تاکہ ان کی توانائی اور ہائیڈریشن برقرار رہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK