Updated: October 15, 2026, 10:09 PM IST
| Rotterdam
نیدرلینڈز کے شہر روٹرڈیم میں کچرا اٹھانے والی گاڑیوں پر شعر و شاعری لکھنے کی ۳۸؍ سالہ روایت کو ثقافتی ورثے کا درجہ دے دیا گیا ہے۔ ۱۹۸۸ء سے جاری اس منفرد ادبی روایت کے تحت سیکڑوں شعرا کے اشعار شہر کی سڑکوں پر گھومنے والی گاڑیوں کے ذریعے عوام تک پہنچتے رہے ہیں۔ اس روایت میں پہلی بار ڈچ اشاروں کی زبان میں بھی ایک نظم پیش کی گئی ہے، جسے گاڑی پر درج کرکے سماعت سے محروم افراد کے لیے شاعری کی نمائندگی کو وسعت دی گئی۔
نیدرلینڈز کے شہر روٹرڈیم میں کچرا اٹھانے والی گاڑیوں پر شعر و شاعری لکھنے کی ۳۸؍ سالہ روایت کو ثقافتی ورثے کا درجہ دے دیا گیا ہے۔ ۱۹۸۸ء سے جاری اس منفرد ادبی روایت کے تحت سیکڑوں شعرا کے اشعار شہر کی سڑکوں پر گھومنے والی گاڑیوں کے ذریعے عوام تک پہنچتے رہے ہیں۔ اس روایت میں پہلی بار ڈچ اشاروں کی زبان میں بھی ایک نظم پیش کی گئی ہے، جسے گاڑی پر درج کرکے سماعت سے محروم افراد کے لیے شاعری کی نمائندگی کو وسعت دی گئی۔ اس اقدام نے روزمرہ شہری خدمات کو ادب، فن اور ثقافتی شناخت سے جوڑنے والی ایک غیر معمولی مثال کو نئی شناخت دی ہے۔ اس روایت کی بنیاد ۱۹۸۸ء میں اس خیال پر رکھی گئی تھی کہ سالانہ عالمی شعری میلے میں شرکت کے لیے آنے والے شاعروں کی تخلیقات میلے کے اختتام کے بعد بھی شہر کی زندگی کا حصہ بنی رہیں۔ اس وقت کے شاعرِ شہر ژولس ڈیلیڈر نے اس منصوبے کے لیے جو مصرع پیش کیا، وہی اس کا نام بھی بن گیا: ’’شاعری ایک پیغام ہے۔‘‘ ڈچ زبان میں اس مصرعے کو ’’ہیت خِدِخت اِس اَین بِرِخت‘‘ کہا جاتا ہے۔ یہ مصرع آج بھی ہر سال شہر کی کسی ایک کچرا اٹھانے والی گاڑی پر دوبارہ درج کیا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: بچوں کے تحفظ کیلئے موثر اقدامات پر زور، دنیا کے۲۰؍ فیصد بچے انتہائی غربت کا شکار
اس منصوبے کو پوئٹری انٹرنیشنل اور روٹرڈیم کی بلدیہ مشترکہ طور پر آگے بڑھاتے ہیں۔ جب شہر کی صفائی کے محکمے کو نئی کچرا اٹھانے والی گاڑیاں یا سڑکوں کی صفائی کرنے والی مشینیں ملتی ہیں تو پویٹری انٹرنیشنل ان پر لکھنے کے لیے اشعار منتخب کرتا ہے۔ اس طرح مقامی، قومی اور بین الاقوامی شاعروں کی تخلیقات شہری زندگی کا حصہ بنتی ہیں۔ یہ اشعار صرف کتابوں، لائبریریوں یا ادبی تقریبات تک محدود نہیں رہتے، بلکہ ان محلوں تک بھی پہنچتے ہیں جہاں کے رہائشی شاید کسی شعری میلے میں کبھی شریک نہ ہوئے ہوں۔ اس سال روایت میں ایک اور اہم اضافہ ہوا، جب بہرے شاعروں سیم اونکلن اور بواز بلوم نے ڈچ اشاروں کی زبان میں ایک مصرع تخلیق کیا۔ اس کا مفہوم ہے: ’’میرے خوابوں میں طوفانی اشارے، رقص کرتے ہاتھ فضا میں شاعری لکھتے ہیں۔‘‘ اس تخلیق کو جون ۲۰۲۶ء میں پوئٹری انٹرنیشنل میلے کے دوران ایک کچرا اٹھانے والی گاڑی پر پیش کیا گیا۔ اس کے ذریعے اشاروں کی زبان کو محض رابطے کا ذریعہ نہیں، بلکہ ادبی اظہار اور تخلیقی شناخت کے طور پر بھی نمایاں کیا گیا۔
یہ بھی پڑھئے: روس کے بڑے حملے میں یوکرین میں کم از کم۶؍ افراد ہلاک
روٹرڈیم کی نائب میئر برائے ثقافت، کمیونٹی اور زبان جان ننلی کے مطابق، اس منصوبے کی اہمیت یہ ہے کہ شاعری لوگوں کی روزمرہ زندگی میں داخل ہوتی ہے۔ ان کے بقول، صفائی کی گاڑی گزرنے کا انتظار کرتے ہوئے کوئی شخص اس پر لکھا ایک مصرع پڑھ سکتا ہے، جو دن بھر اس کے ذہن میں رہ جائے۔ اس روایت کو ثقافتی ورثے کی فہرست میں شامل کرنا ان صفائی کارکنوں کی خدمات کا اعتراف بھی ہے، جن کی گاڑیاں تقریباً چار دہائیوں سے شہر میں شاعری پہنچا رہی ہیں۔ نیدرلینڈز کے غیر مادی ثقافتی ورثے کی فہرست میں اس روایت کی شمولیت کا مطلب ہے کہ اسے ملک کی زندہ ثقافتی روایات میں باضابطہ جگہ مل گئی ہے۔ اس فہرست میں ۴۰۰؍ سے زیادہ روایات اور رسم و رواج شامل ہیں۔ روٹرڈیم کی مثال یہ بتاتی ہے کہ ثقافت کو محفوظ رکھنے کے لیے ضروری نہیں کہ اسے کسی عجائب گھر یا مخصوص عمارت تک محدود رکھا جائے؛ اسے روزمرہ شہری خدمات کے ساتھ جوڑ کر بھی عوام تک پہنچایا جا سکتا ہے۔