Inquilab Logo Happiest Places to Work

میرا روڈ کی رہائشی سوسائٹی میں بکرے رکھنے پر ہنگامہ

Updated: May 27, 2026, 10:12 AM IST | Sajid Mehmood Shaikh | Mumbai

انتظامیہ سے تفصیلی بات چیت کے بعد میرا بھائندر میونسپل کارپوریشن نے قربانی کے جانوروں کو رکھنے کیلئے ایک متبادل اور مناسب جگہ کا انتظام کیاجہاں باہمی رضامندی سے بکر ےمنتقل کر دیئے گئے،شر انگیزی کی کوشش ناکام ۔

A View Of Goats Being Moved Along Mira Road. Photo: PTI
میراروڈ میں بکروں کی منتقلی کا ایک منظر۔ تصویر: پی ٹی آئی
میرا روڈ (ساجد محمود شیخ): یہاں کے ایک بڑے اور پاش رہائشی کمپلیکس ’پونم کلسٹر‘ میں عید قرباں کے سلسلے میں بکرا لانے پر دو گروپوں کے درمیان شدید تنازع کھڑا ہو گیا۔ یہ تنازع اس وقت مزید بڑھ گیا جب سوسائٹی کے باہر جمع بجرنگ دل کے کارکنوں اور ایک مقامی شخص کے درمیان ہاتھا پائی ہوئی جس میں مبینہ طور پر چاقو کے استعمال سے بجرنگ دل کا ایک کارکن زخمی ہو گیا۔ اس واقعے سے علاقے میں شدید کشیدگی کا ماحول پیدا ہو گیا لیکن کاشی میرا پولیس نےبروقت کارروائی کرتے ہوئے صورتحال کو مزید بگڑنے سے بچا لیا ۔اس دوران بکروں کو باہمی رضامندی سے دوسرے مقام پر منتقل کردیا گیا۔ 
 اندرونی معاملے میں بیرونی مداخلت کا الزام
موصولہ تفصیلات کے مطابق پونم کلسٹر ہاؤسنگ سوسائٹی کے ایک مسلم خاندان کی جانب سے عید کے لئے بکرا لائے جانے پر سوسائٹی کے کچھ اراکین نے اعتراض کیا تھا۔ مبینہ طور پر اس اندرونی معاملے میں بجرنگ دل کے کارکنوں کو ملوث کیا گیا جس کے بعد تنظیم کے متعدد کارکن سوسائٹی کے باہر جمع ہو گئے۔ اگرچہ سوسائٹی کے اندر کچھ دیر بعد ثالثی کے ذریعے معاملہ سلجھانے اور سمجھوتہ کرانے کی کوشش کی گئی لیکن باہر کا ماحول اس وقت دوبارہ کشیدہ ہو گیا جب ایک شخص کی وہاں موجود کارکنوں سے بحث ہو گئی۔
 چاقو زنی اور پولیس کی کارروائی 
زخمی کارکن ہرش سنگھ کے مطابق، ’’ایک نامعلوم شخص نے وہاں آ کر بجرنگ دل کے ضلع مربی ناگ ناتھ کامبلے کے بارے میں پوچھا اور اچانک چاقو سے حملہ کرنے کی کوشش کی۔ بیچ بچاؤ کرنے پر میرے ہاتھ میں گہری چوٹ آئی جس پر چار ٹانکے لگے ہیں۔‘‘ بجرنگ دل نے الزام لگایا ہے کہ یہ حملہ منصوبہ بند تھا اور انہوں نے اپنے لیڈر کے لئے پولیس پروٹیکشن اور سوسائٹی سے بکرے فوری طور پر باہر نکالنے کا مطالبہ کیا ہے۔
دوسری طرف پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے حملہ آور شخص جس کی شناخت شیخ ابوالرحیم شیخ (۴۴) کے طور پر ہوئی ہے، کو حراست میں لے لیا ہے اور مزید تفتیش جاری ہے۔ کاشی میرا پولیس اسٹیشن کے سینئر پولیس انسپکٹر راجیندر کامبلے نے میڈیا کو بتایا کہ ’’واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس فورس اور اے سی پی پنگلے فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئے۔ پولیس نے مظاہرین کو خاموش کروایا اور صورتحال پر مکمل قابو پا لیا گیا ہے۔‘‘ انہوں نے شہریوں سے امن و امان برقرار رکھنے اور کسی بھی قسم کی افواہ پر دھیان نہ دینے کی اپیل کی ہے۔اس واقعے کے بعد وشو ہندو پریشد اور بجرنگ دل کے سیکڑوں کارکنوں نے پونم کلسٹر سوسائٹی کا گھیراؤ کر لیا جس کے بعد علاقے میں امن و امان کی صورتحال انتہائی سنگین ہو گئی۔ مظاہرین کی بڑی بھیڑ نے شدید نعرے بازی کی اور سڑک پر بیٹھ کر ہنومان چالیسا کا پاٹھ شروع کر دیا۔ اسی دوران علاقے میں خنزیر لائے جانےکے بعد ماحول مزید مکدر ہو گیا۔ امن و امان بحال رکھنے اور عام شہریوں کی آمدورفت کو بحال کرنے کے لئے موقع پر موجود بھاری پولیس فورس نے ہلکا لاٹھی چارج کیا اور نعرے بازی کرنے والے بجرنگ دل اور وی ایچ پی کے کئی سرگرم کارکنوں کو حراست میں لے کر مظاہرین کو منتشر کیا۔
 
 
رکن اسمبلی نریندر مہتا کا وزیر اعلیٰ کے نام مکتوب
معاملہ اس حد تک بڑھ گیا ہے کہ مقامی بی جے پی لیڈر اور رکن اسمبلی نریندر مہتا نے ریاست کے وزیراعلیٰ دیویندر فرنویس کو مکتوب روانہ کر کے اس معاملے میں فوری مداخلت کی اپیل کی ہے۔ وزیراعلیٰ نے بھی معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے میرا بھائندر میونسپل کارپوریشن کے کمشنر کو اس پر فوری قانونی کارروائی کرنے کا حکم دیا ہے۔
 
 
باہمی رضامندی سے بکروںکی منتقلی 
انتظامیہ  سےتفصیلی بات چیت کے بعد میرا بھائندر میونسپل کارپوریشن نے قربانی کے جانوروں کو رکھنے کیلئے ایک متبادل اور مناسب جگہ کا انتظام کیا۔ڈی سی پی راہل چوہان نےبتایا کہ ’’سوسائٹی کے دونوں گروپوں نے انتہائی سمجھداری اور باہمی رضامند ی سے یہ فیصلہ کیا کہ بکروں کو سوسائٹی کے احاطے سے ہٹا دیا جائے۔ انتظامیہ کے فیصلے کا احترام کرتے ہوئے تمام بکروں کو میونسپل کارپوریشن کی جانب سے مقرر کردہ متبادل جگہ پر منتقل کر دیا گیا ہے۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK