Updated: August 10, 2026, 9:08 PM IST
| Mascow
روس نے بحرِ ہند تک ریلوے رابطہ قائم کرنے کے امکانات کا جائزہ لینا شروع کردیا ہے، جس میں ایران، پاکستان اور دیگر ممالک کے راستے ہندوستان تک رسائی بھی شامل ہے۔ روسی نائب وزیرِ اعظم کے مطابق یہ ریلوے منصوبہ آبنائے ہرمز اور بوسفورس سے وابستہ تجارتی خطرات کم کرنے میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔
روس بحرِ ہند تک ریلوے کا راستہ قائم کرنے کے امکانات کا جائزہ لے رہا ہے، جس میں ہندوستان تک رسائی بھی زیرِ غور آپشنز میں شامل ہے۔ روس کے نائب وزیرِ اعظم مرات خوسنُلین نے روسی خبر رساں ایجنسی تاس کو دیئےگئے ایک انٹرویو میں یہ بات کہی۔ خوسنُلین نے کہا کہ ریلوے رابطہ بوسفورس اور آبنائے ہرمز سے وابستہ خطرات کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔ انہوں نے ممکنہ راستوں کے طور پر ترکمانستان، ایران، افغانستان اور پاکستان سے گزرنے والے راستوں کا ذکر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’ہندوستان تک رسائی فراہم کرنے والے تمام راستے قابلِ قبول ہیں۔‘‘ آبنائے ہرمز خلیجِ فارس کو خلیجِ عمان سے ملاتی ہے، جبکہ بوسفورس بحیرۂ اسود کو بحیرۂ مرمرہ سے جوڑتا ہے۔ بوسفورس پر کنٹرول رکھنے والے ترکی نے کہا ہے کہ بڑھتی ہوئی تشویش کے باوجود آبنائے بدستور کھلی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: آبنائے ہرمز کھولنے کیلئے ایران نے ۶؍ شرائط پیش کیں
نائب وزیرِ اعظم نے مزید کہا کہ روس کی تعمیراتی صنعت کو اس وقت اپنی ترقی اور توسیع کیلئے طویل مدتی مالی معاونت کی ضرورت ہے۔ انہوں نے تاس سے گفتگو میں کہا، ’’تعمیراتی صنعت پہلے ہی سالانہ مزید ایک ٹریلین روبل کے منصوبوں کو سنبھالنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ تاہم، اگر آئندہ پانچ برس تک اس حجم کی مالی معاونت یقینی بنائی جائے تو پیداواری صلاحیت میں مزید اضافہ کیا جاسکتا ہے اور اس سے بھی زیادہ تعمیرات کی جاسکتی ہیں۔ ‘‘یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان جاری تنازع کے باعث آبنائے ہرمز سے بحری تجارت کے حوالے سے خدشات بڑھ گئے ہیں۔ تاس کے مطابق دنیا کی تقریباً۲۵؍ فیصد تیل کی تجارت اور تقریباً۲۰؍ فیصد ایل این جی کی ترسیل آبنائے ہرمز سے گزرتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: اسرائیل کو امن منظور نہیں، ٹرمپ کا پلان مسترد کر دیا، یاہو نے غزہ خالی نہ کرنے کا اعلان کیا
ہندوستان اور روس کے درمیان ریلوے تعاون
۷؍اگست کو نئی دہلی میں ہندوستان اور روس نے جدید کاری اور صنعتی تعاون سے متعلق ہندوستان۔ روس ورکنگ گروپ کے۱۲؍ویں اجلاس کے دوران مختلف اہم شعبوں میں باہمی تعاون کا جائزہ لیا۔ یہ اجلاس تجارت، اقتصادی، سائنسی، تکنیکی اور ثقافتی تعاون سے متعلق بین الحکومتی کمیشن کے تحت منعقد ہوا، جس میں جدید کاری، کان کنی، کھاد اور ریلوے ٹرانسپورٹ سمیت مختلف شعبوں میں پیش رفت پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ دونوں ممالک نے ریلوے ٹرانسپورٹ کے شعبے میں تعاون کے نئے امکانات کا خیرمقدم کیا، جن میں ریلوے بنیادی ڈھانچہ، وندے بھارت ٹرین منصوبہ اور سگنلنگ آلات شامل ہیں۔ اس کے علاوہ بغیر پائلٹ کے فضائی نظام (UAVs)، تھری ڈی پرنٹنگ، روس کے SJ-100 علاقائی طیارے اور ایرو انجنز کی تیاری میں تعاون پر بھی بات چیت ہوئی۔
یہ بھی پڑھئے: امریکہ: سابق صدر جو بائیڈن کا کینسر پھیل گیا، شدید تکلیف میں مبتلا: ہنـٹر بائیڈن
روس کا بین الاقوامی ریلوے نیٹ ورک
روسی فیڈرل پیسنجر کمپنی (FPC) کے مطابق، جو روس کی قومی مسافر ریلوے کمپنی ہے، روس سے یورپ اور ایشیا کے 19 ممالک تک طویل فاصلے کی 40 بین الاقوامی ریلوے سروسز چلائی جاتی ہیں۔ ان ممالک میں جرمنی، فرانس، اٹلی، پولینڈ، آسٹریا، جمہوریہ چیک، لٹویا، لتھوانیا، ایسٹونیا، فن لینڈ، چین، منگولیا، شمالی کوریا، آذربائیجان، قزاخستان، کرغزستان، ازبکستان، بیلاروس اور مالدووا شامل ہیں۔