Inquilab Logo Happiest Places to Work

آبنائے ہرمز کھولنے کیلئے ایران نے ۶؍ شرائط پیش کیں

Updated: August 10, 2026, 10:59 AM IST | Tehran

تہران نے واضح کیا کہ ہر مز کو دوبارہ کھولنے کا فیصلہ واشنگٹن کے ان شرائط کو قبول کرنے سے مشروط ہے ، اس کا ایران اور عمان میں جاری مذاکرات سے کوئی تعلق نہیں۔

The standoff between Iran and the US over the Strait of Hormuz continues. Photo: INN
آبی گزرگاہ ہرمز کے معاملے پر ایران اورامریکہ کے درمیان تعطل برقرارہے۔ تصویر: آئی این این

ایران کی سپریم نیشنل سیکوریٹی کونسل نے آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر دوبارہ کھولنے کیلئے امریکہ کے سامنے نئی شرائط پیش کی ہیں۔ کونسل کے سیکریٹری محمد باقر ذوالقدر نے سنیچر کہا کہ واشنگٹن کی جانب سے اپنا رویہ درست کیے جانے تک آبنائے ہرمز بند رہے گی۔ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی کے مطابق ذوالقدر نے کہا کہ ایران نے امریکہ کے سامنے ۶؍ شرائط رکھی ہیں۔ ان میں ایران کے خلاف امریکی دھمکیوں اور ملک کی قومی و مذہبی اقدار کی مبینہ توہین کا خاتمہ، ایران اور لبنان، فلسطین، یمن اور عراق میں اس کے اتحادیوں کے خلاف حملوں کا مستقل خاتمہ شامل ہے۔

دیگر شرائط میں امریکی بحری ناکہ بندی ختم کرنا، ایران کے گرد موجود امریکی بحری اور فضائی افواج کا انخلاء، ایران پر عائد پابندیاں ختم کرنا، ایران کو مسلط کی گئی دو جنگوں میں ہونے والے نقصانات کا معاوضہ دینا اور منجمد ایرانی اثاثوں کو غیر مشروط طور پر جاری کرنا شامل ہے۔ایران کی اسلامی انقلابی گارڈ کورپس (آئی آر جی سی) نے بھی کہا کہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کا فیصلہ واشنگٹن کے ان شرائط کو قبول کرنے سے مشروط ہے اور اس کا ایران اور عمان کے درمیان جاری مذاکرات سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق آئی آر جی سی کے ترجمان حسین محبی نے کہاکہ جب بھی امریکہ ایران کی شرائط قبول کرے گا، آبنائے ہرمز یقینی طور پر دوبارہ کھول دی جائے گی۔

یہ بھی پڑھئے: اسرائیل کو امن منظور نہیں، ٹرمپ کا پلان مسترد کر دیا، یاہو نے غزہ خالی نہ کرنے کا اعلان کیا

ذوالقدر کی جانب سے پیش کی گئی چھ شرائط میں جون کے مفاہمت نامے میں طے کیے گئے نکات کے مقابلے میں سیاسی، فوجی اور اقتصادی مطالبات کا دائرہ وسیع کردیا گیا ہے۔ خاص طور پر لبنان کے ساتھ فلسطین، یمن اور عراق کو بھی شامل کرتے ہوئے ایران اور اس کے اتحادیوں کے خلاف حملے ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔شرائط میں ایران کے گرد امریکی بحری اور فضائی افواج کے انخلاء، مسلط کی گئی دو جنگوں سے ہونے والے نقصانات کے مکمل معاوضے، پابندیاں ختم کرنے اور منجمد ایرانی اثاثوں کی غیر مشروط رہائی کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق جون کے مفاہمت نامے میں ان میں سے بعض معاملات کو باہمی اور مرحلہ وار عمل کا حصہ قرار دیا گیا تھا، جبکہ ذوالقدر اب انہیں آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر دوبارہ کھولنے سے قبل واشنگٹن کی جانب سے پوری کی جانے والی شرائط کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔یہ موقف واشنگٹن کے حالیہ موقف سے بھی مختلف ہے۔ رائٹرز کو جمعہ کو ایک امریکی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا تھا کہ آبنائے ہرمز کے ذریعے تجارتی جہازرانی بغیر کسی رکاوٹ بحال ہونے کے بعد ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی ختم کردی جائے گی اور امریکی اقدامات ایران کی جانب سے اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے سے مشروط ہوں گے۔

یہ بھی پڑھئے: امریکہ: سابق صدر جو بائیڈن کا کینسر پھیل گیا، شدید تکلیف میں مبتلا: ہنـٹر بائیڈن

دوسری جانب پنٹاگن نے دفاعی کمپنیوں سے کہا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ تنازع کے باعث شدید قلت کا شکار ہتھیاروں اور گولہ بارود کی پیداوار اور امریکی فوج کو ان کی فراہمی میں تیزی لائیں۔ واشنگٹن پوسٹ نے ایک داخلی دستاویز کے حوالے سے یہ اطلاع دی ہے۔نیویارک ٹائمس نے امریکی حکام کے حوالے سے بتایا کہ ایران کے ساتھ تنازع کے دوران امریکہ کے پاس پیٹریاٹ میزائلوں کا ذخیرہ ۱۷۰۰؍ سے بھی کم رہ گیا ہے۔پنٹاگن نے دفاعی کمپنیوں کو ہتھیاروں کی پیداوار کو تیز کرنے کیلئے ۲۱؍ دن کی مہلت دے دی ہے۔واشنگٹن پوسٹ نے محکمۂ دفاع کے ایک میمو کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ کیا کہ پنٹاگن نے امریکی دفاعی صنعت کے رہنماؤں سے کہا کہ وہ ہتھیاروں کی پیداوار اور ترسیل کو بڑھانے کے منصوبے تیار کریں کیونکہ اسلحہ کی قلت کی خبریں پھیل رہی ہیں۔میمو کے مطابق ڈپٹی ڈیفنس سکریٹری اسٹیو فینبرگ نے لکھا کہ لیڈروں کے پاس نمایاں طور پر تیز رفتار، زیادہ جارحانہ ترسیل کے نظام الاوقات اور اہم صلاحیتوں کے ہتھیاروں کی پیداوار میں اضافے کے منصوبے پیش کرنے کے لیے ۲۱؍ دن سے زیادہ کا وقت نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ سالوں کے ترقیاتی منصوبے قابل قبول نہیں ہیں۔ ہمیں اپنے پروگرام کے نظام الاوقات کو ڈرامائی طور پر تیز کرنا چاہیے اور اب اپنی ہتھیاروں کی پیداواری صلاحیت کو بڑھانا چاہیے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK