Updated: August 31, 2026, 10:01 PM IST
| Moscow
ڈجیٹل روبل، نقدی اور بینک ڈپازٹس کے ساتھ ساتھ روس کی قومی کرنسی کی تیسری شکل کے طور پر کام کرے گا۔ اس کی قدر روبل کی دیگر شکلوں کے برابر ہی ہوگی۔ کرپٹو کرنسیوں کے برعکس، اسے براہِ راست روسی سینٹرل بینک جاری کرتا ہے اور اس کی پشت پناہی کرتا ہے۔ روس کا مرکزی بینک، ڈجیٹل روبل کو دیگر ممالک کے مرکزی بینکوں کے زیر انتظام ڈجیٹل کرنسی سسٹمز کے ساتھ مربوط کرنے پر بھی کام کر رہا ہے۔
روس نے منگل کے روز اپنے ڈجیٹل روبل کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے۔ اب اس کے تحت بڑے ملکی بینکوں اور خوردہ فروشوں (ریٹیلرز) کو قومی کرنسی کی اس نئی شکل کا استعمال کرتے ہوئے ادائیگیوں اور رقم کی منتقلی پر عمل درآمد کرنے کی اجازت مل گئی ہے۔ روس کا یہ اقدام یورپی یونین کی جانب سے ۲۳ اپریل کو منظور کئے گئے اپنے ۲۰ ویں پابندیوں کے پیکیج کے تحت ڈجیٹل روبل سے متعلق لین دین پر پابندی عائد کرنے کے باوجود سامنے آیا ہے۔
روسی صارفین شراکت دار بینکوں کی موبائل ایپلی کیشنز کے ذریعے ڈجیٹل روبل اکاؤنٹس کھولنے اور روایتی بینک اکاؤنٹس سے ڈجیٹل روبل میں ماہانہ ۳ لاکھ روبل (تقریباً ۳ لاکھ ۳۰ ہزار روپے) تک منتقل کرنے کے اہل ہوں گے۔ کاروباری اداروں پر اس قسم کی حد لاگو نہیں ہوگی۔
یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ نے امریکہ کے ساتھ کاروبار کرنے والی تمام کمپنیوں کو امریکہ منتقل ہونے کا حکم دیا
ڈجیٹل روبل، نقدی اور بینک ڈپازٹس کے ساتھ ساتھ روس کی قومی کرنسی کی تیسری شکل کے طور پر کام کرے گا۔ اس کی قدر روبل کی دیگر شکلوں کے برابر ہی ہوگی۔ کرپٹو کرنسیوں کے برعکس، اسے براہِ راست روسی سینٹرل بینک جاری کرتا ہے اور اس کی پشت پناہی کرتا ہے۔ روس کا مرکزی بینک، ڈجیٹل روبل کو دیگر ممالک کے مرکزی بینکوں کے زیر انتظام ڈجیٹل کرنسی سسٹمز کے ساتھ مربوط کرنے پر بھی کام کر رہا ہے، جس کا مقصد ثالثوں پر انحصار کم کرنا، لین دین کی لاگت میں کمی لانا اور بین الاقوامی ادائیگیوں میں پابندیوں سے متعلق خطرات کو کم کرنا ہے۔