Updated: November 08, 2026, 7:02 PM IST
| London
امریکی اور یورپی ماہرین نے روس کے فوجی سیٹیلائٹس ’کاسموس ۲۶۱۲‘ کی فن لینڈ کی کمپنی ICEYE کے ریڈار سیٹیلائٹس کے انتہائی قریب غیر معمولی نقل و حرکت پر تشویش ظاہر کی ہے۔ ایک امریکی خلائی تجزیہ کار نے اسے ممکنہ حملے کی مشق قرار دیا ہے، جبکہ دو مزید روسی سیٹیلائٹس کے ایک دوسرے مغربی سیٹیلائٹس کے مدار کی جانب بڑھنے کی اطلاعات نے خدشات میں اضافہ کر دیا ہے۔
علامتی تصویر۔ تصویر: ایکس
زمین پر جنگوں کے ساتھ اب خلا میں بھی فوجی کشیدگی کے خدشات بڑھ رہے ہیں۔ روس کے ایک فوجی سیٹیلائٹس نے اکتوبر میں فن لینڈ کی کمپنی ICEYE کے زیرِ استعمال ریڈار امیجنگ سیٹیلائٹس ICEYE-X36 کے قریب غیر معمولی انداز میں کئی دن تک نقل و حرکت کی۔ امریکی خلائی تجزیہ کار گریگ گلنگر (Greg Gillinger) نے اس کارروائی کو ممکنہ طور پر کسی سیٹیلائٹس پر حملے کی مشق قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق روسی خلائی جہاز کی یہ سرگرمی محض معمول کی نگرانی سے آگے کی چیز معلوم ہوتی ہے۔ اسی دوران دو مزید روسی فوجی سیٹیلائٹس کے ICEYE کے ایک اور خلائی جہاز X37 کے مدار کی طرف بڑھنے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ رائٹرز کی ۵؍ نومبر ۲۰۲۶ء کی رپورٹ کے مطابق روسی سیٹیلائٹس کاسموس ۲۶۱۲ نے ۱۵؍ سے ۱۹؍ اکتوبر کے درمیان ICEYE-X36 کے قریب غیر معمولی پرواز کی۔ خلائی نگرانی کرنے والے ماہرین کے مطابق روسی سیٹیلائٹس ابتدا میں اس کے مدار سے سیکڑوں کلومیٹر دور تھا، لیکن پھر اس نے اپنی رفتار اور مدار میں تبدیلیاں کرتے ہوئے فاصلہ تیزی سے کم کیا۔ ۱۷؍اکتوبر کو دونوں خلائی جہازوں کے درمیان فاصلہ تقریباً ایک سے ۲؍ کلومیٹر رہ جانے کا اندازہ لگایا گیا، جبکہ امریکی خلائی انٹیلی جنس کمپنی Vantor کی جاری کردہ تصویر میں کاسموس ۲۶۱۲ کو ICEYE-X36 سے تقریباً ایک کلومیٹر دور دکھایا گیا۔ بعض ماہرین کے مطابق 18 اکتوبر کو یہ فاصلہ چند سو میٹر یا اس سے بھی کم ہو سکتا تھا، تاہم اس کی حتمی تصدیق نہیں ہوئی۔
یہ بھی پڑھئے: امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے عہدہ چھوڑنے کی خبروں کی تردید کی
گریگ گلنگر، جو امریکی خلائی مشاورتی ادارے Integrity ISR سے وابستہ ہیں اور امریکی فضائیہ کے سابق انٹیلی جنس افسر رہ چکے ہیں، نے رائٹرز کو بتایا کہ یہ واقعہ انہیں حملے کی مشق جیسا دکھائی دیتا ہے۔ ان کے الفاظ میں، ’’یہ کسی دوسرے ملک کے سیٹیلائٹس کو خطرے میں ڈالنے کے حوالے سے روس کا اب تک کا سب سے جارحانہ رویہ ہے۔‘‘ ان کا کہنا ہے کہ اگر مقصد صرف جاسوسی یا الیکٹرانک مداخلت ہوتا تو اتنے قریب جانے کی ضرورت نہیں تھی۔ ان کے خیال میں اس نقل و حرکت سے یہ جانچنے کی کوشش کی گئی ہو سکتی ہے کہ روسی خلائی جہاز کسی دوسرے ملک کے سیٹیلائٹس کے قریب پہنچ کر اسے جسمانی طور پر نقصان پہنچانے کی صلاحیت رکھتے ہیں یا نہیں۔ یہ معاملہ اس لیے بھی اہم ہے کہ ICEYE کے سیٹیلائٹس زمین کی سطح کی تصاویر حاصل کرنے کے لیے مصنوعی اپرچر ریڈار (Synthetic Aperture Radar یا SAR) ٹیکنالوجی استعمال کرتے ہیں۔ اس ٹیکنالوجی کے ذریعے رات کے وقت اور بادلوں کی موجودگی میں بھی زمین پر موجود اشیا اور سرگرمیوں کی تصاویر حاصل کی جا سکتی ہیں۔ کمپنی کے سیٹیلائٹس مغربی حکومتوں اور فوجی اداروں کو معلومات فراہم کرتے ہیں، جبکہ یوکرین بھی ۲۰۲۲ء میں روسی حملے کے بعد سے اس کمپنی کی خلائی تصاویر اور انٹیلی جنس صلاحیتوں سے فائدہ اٹھا رہا ہے۔ ایسی تصاویر فوجی گاڑیوں، تنصیبات، بنیادی ڈھانچے اور فوجی نقل و حرکت کی نگرانی میں مدد دیتی ہیں۔
امریکی محکمہ خارجہ کے انڈر سیکریٹری تھامس ڈی نینو (Thomas DiNanno) نے اکتوبر کے واقعے کے بعد سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا تھا کہ کاسموس ۲۶۱۲ ایک تجارتی سیٹیلائٹس کے انتہائی قریب خطرناک انداز میں جان بوجھ کر نقل و حرکت کر رہا تھا اور اس کا طرزِ عمل خلا میں ہتھیاروں سے متعلق کارروائیوں سے مطابقت رکھتا ہے۔ دوسری جانب جرمنی کے فوجی خلائی شعبے کے سربراہ میجر جنرل مائیکل ٹراوٹ (Michael Traut) نے خبردار کیا کہ اس طرح کی قربت کے کئی ممکنہ مقاصد ہو سکتے ہیں۔ ان کے مطابق ایسا سیٹیلائٹس دوسرے خلائی جہاز کا معائنہ کر سکتا ہے، اس کی نگرانی کر سکتا ہے یا اس کے نظام میں مداخلت بھی کر سکتا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’ہمیں ممکنہ اثرات کے پورے دائرے کو مدنظر رکھنا چاہیے، جس میں سیٹیلائٹس کی کارروائیوں کو عارضی طور پر متاثر کرنے سے لے کر اسے مستقل طور پر ناکارہ بنانا تک شامل ہے۔‘‘ تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ صرف مدار سے متعلق دستیاب معلومات کی بنیاد پر روس کے ارادے کا تعین نہیں کیا جا سکتا۔ اس واقعے کے بعد ایک نئی تشویش دو مزید روسی فوجی سیٹیلائٹس کی سرگرمیوں سے پیدا ہوئی ہے۔ خلائی تجزیہ کاروں اور امریکی خلائی نگرانی کی کمپنی COMSPOC کے مطابق یہ دونوں سیٹیلائٹس ICEYE کے دوسرے خلائی جہاز X37 کے مدار کے قریب پہنچنے کے لیے نسبتاً بہتر پوزیشن حاصل کر رہے ہیں۔ ابھی تک X37 کے ساتھ کسی قریبی ٹکراؤ یا براہِ راست مداخلت کی تصدیق نہیں ہوئی اور ان سیٹیلائٹس کے ارادے بھی واضح نہیں ہیں۔ تاہم ماہرین کے نزدیک یہ پیش رفت اکتوبر کے واقعے کو ایک الگ تھلگ سرگرمی سمجھنے میں رکاوٹ بن رہی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: اسرائیل کا مشرقی یروشلم میں فلسطینی اسکولوں پرشکنجہ، اسرائیلی نصاب پڑھانے پر زور
کاسموس ۲۶۱۲ کو امریکی خلائی انٹیلی جنس کمپنی Slingshot Aerospace کے عوامی ریکارڈ میں سیٹیلائٹس کی جانچ اور دیکھ بھال کرنے والے خلائی جہاز کے طور پر درج کیا گیا ہے۔ ایسے سیٹیلائٹس کو دوسرے خلائی جہازوں کے قریب لے جا کر ان کا معائنہ کرنے یا تکنیکی سرگرمیاں انجام دینے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ یہی صلاحیت، اگر فوجی مقاصد کے لیے استعمال ہو، تو کسی دوسرے سیٹیلائٹس کے نظام میں مداخلت یا اسے نقصان پہنچانے کا ذریعہ بھی بن سکتی ہے۔ روس نے اپریل ۲۰۲۶ء میں ایسے چھ فوجی سیٹیلائٹس خلا میں بھیجے تھے۔ ماہرین کے مطابق ان میں سے چار نے مئی میں بھی ICEYE-X36 کے قریب مدار اختیار کیا تھا۔ روس پہلے بھی خبردار کر چکا ہے کہ یوکرین کی فوجی سرگرمیوں میں مدد فراہم کرنے والے مغربی تجارتی سیٹیلائٹس کو ممکنہ اہداف تصور کیا جا سکتا ہے۔ اس کے برعکس ICEYE کا کہنا ہے کہ اکتوبر کے واقعے سے X36 کی کارکردگی متاثر نہیں ہوئی۔ کمپنی کی امریکی آپریشنز کی سربراہ این اسٹیونز (Ann Stevens) نے رائٹرز کو بتایا کہ یہ سیٹیلائٹس بدستور فعال ہے اور کام کرتا رہے گا۔ کمپنی کے مطابق اس کے متعدد سیٹیلائٹس پر مشتمل نظام اس انداز میں تیار کیا گیا ہے کہ کسی ایک خلائی جہاز میں خلل پڑنے کے باوجود مجموعی خدمات جاری رہ سکیں۔ روسی وزارتِ دفاع نے رائٹرز کی جانب سے تبصرے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ خلا میں کسی سیٹیلائٹس کو نقصان پہنچانے کے لیے اسے لازماً تباہ کرنا ضروری نہیں۔ اس کے مواصلاتی نظام میں مداخلت، اس کے مدار یا کام کرنے کی صلاحیت کو متاثر کرنا اور اسے مسلسل خطرے سے دوچار رکھنا بھی فوجی یا تجارتی سرگرمیوں کے لیے بڑے مسائل پیدا کر سکتا ہے۔ کسی سیٹیلائٹس کو ممکنہ تصادم سے بچنے کے لیے بار بار اپنا مدار تبدیل کرنا پڑے تو اس کا ایندھن خرچ ہوتا ہے اور اس کی عملی عمر کم ہو سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خلائی ماہرین اب تجارتی سیٹیلائٹس کے تحفظ کو قومی سلامتی کے ساتھ ساتھ عالمی مواصلات، نگرانی اور جدید جنگی حکمت عملی کا اہم مسئلہ قرار دے رہے ہیں۔