Inquilab Logo Happiest Places to Work

روسی فوجیوں کے یوکرین محاذ پر پہنچنے کےاوسطاً۲۰؍ منٹ میں ہلاک ہونیکا خدشہ: رپورٹ

Updated: June 29, 2026, 9:59 PM IST | Washington/Moscow

ناقدین بڑے پیمانے پر ہونے والے جانی نقصان کے باوجود، جنگ پر بضد رہنے کیلئے روس پر سخت تنقید کر رہے ہیں۔ ہر ماہ ۳۰؍ ہزار سے زائد روسی فوجی ہلاک یا زخمی ہورہے ہیں۔ مغربی ذرائع نے کل جانی نقصان کا اندازہ ۱۰؍ لاکھ تک لگایا ہے۔ ہلاکتوں کی اس بلند شرح کی بڑی وجہ یوکرین کی جانب سے فوجی ڈرونز کا بڑھتا ہوا استعمال اور روسی علاقے کے اندر تک کئے جانے والے شدید حملے (ڈِیپ اسٹرائیکس) ہیں۔

Russian soldiers.  Photo: X
روسی فوجی ۔ تصویر: ایکس

مؤرخ پیٹر فرینکوپن نے ’فارین پالیسی‘ (Foreign Policy) میں شائع ہوئے ایک مضمون میں روسی ملٹری بلاگرز کے بیانات کے حوالے سے لکھا کہ یوکرین محاذ پر لڑنے کیلئے بھیجے جانے والے نئے روسی رنگروٹ وہاں پہنچنے کے محض ۲۰؍ سے ۳۵؍ منٹ کے اندر ہلاک ہو سکتے ہیں۔ فرینکوپن نے لکھا کہ ایک روسی فوجی کے ٹریننگ گراؤنڈ پر آمد سے لے کر میدانِ جنگ میں موت تک کا یہ پورا سفر ۱۰؍ دن سے تین ہفتوں کے اندر ہی ختم ہو سکتا ہے۔

واضح رہے کہ روس اور یوکرین کے درمیان جنگ چار سال سے زیادہ عرصے سے جاری ہے۔ ناقدین بڑے پیمانے پر ہونے والے جانی نقصان کے باوجود، جنگ پر بضد رہنے کیلئے روس پر سخت تنقید کر رہے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق، ہر ماہ ۳۰؍ ہزار سے زائد روسی فوجی ہلاک یا زخمی ہورہے ہیں۔ مغربی ذرائع نے روس کے کل جانی نقصان کا اندازہ ۱۰؍ لاکھ تک لگایا ہے۔ ملٹری بلاگرز کا حوالہ دیتے ہوئے فرینکوپن نے لکھا کہ یوکرین کے ہر ایک فوجی کے نقصان کے مقابلے روس کو آٹھ گنا زیادہ جانی نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: امریکی جنگی جرائم کیخلاف قانونی چارہ جوئی کا حکم

ہلاکتوں کی اس بلند شرح کی بڑی وجہ یوکرین کی جانب سے فوجی ڈرونز کا بڑھتا ہوا استعمال اور روسی علاقے کے اندر تک کئے جانے والے شدید حملے (ڈِیپ اسٹرائیکس) ہیں۔ اسی ماہ، یوکرین نے ماسکو کی سب سے بڑی آئل ریفائنری پر ایک بڑا حملہ کیا، جہاں بھاری نقصان کی وجہ سے اگلے سال تک دوبارہ کام شروع نہیں ہو پائے گا۔ رائٹرز (Reuters) کے مطابق، روس کی تیل صاف کرنے کی صلاحیت میں روزانہ تقریباً ۷؍ لاکھ بیرل کی کمی واقع ہوئی ہے، جس کی وجہ سے ایندھن پیدا کرنے ممالک کی فہرست میں تیسرے نمبر پر ہونے کے باوجود روس کے نصف سے زائد حصے کو ایندھن کی راشننگ (محدود سپلائی) پر مجبور ہونا پڑا ہے۔

پوتن پر تنقید میں اضافہ 

روسی صدر ولادیمیر پوتن کو معیشت پر سخت دباؤ ڈالنے اور رنگروٹوں کو مسلسل جنگ میں دھکیلنے پر شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق روس کے قومی بجٹ کا نصف سے زیادہ حصہ فوج کیلئے مختص کیا جا رہا ہے۔ ۲۰۲۵ء کے آخر تک ۴؍ لاکھ ۲۰ ہزار سے زائد نئے فوجی بھرتی کئے گئے تھے۔

یہ بھی پڑھئے: اسرائیلی وزیر بن گویر کیخلاف امریکہ سے جنگی جرائم کی تحقیقات کا مطالبہ

سرکاری میڈیا کے مطابق، اس سال اس تعداد میں ۳۰؍ فیصد کمی آئی ہے۔ روزانہ تقریباً ۸۰۰؍ سے ۱۰۰۰؍ رضا کاروں کو بھرتی کیا جاتا ہے، انہیں جلدی جلدی تربیت دی جاتی ہے اور جنگ میں بھیج دیا جاتا ہے۔ روسی افواج کی جانب سے رضا کاروں کو راغب کرنے کیلئے ۸۰؍ ہزار ڈالر تک کے سائن اپ بونس (بھرتی پر انعام) اور ایک لاکھ ۴۰ ہزار ڈالر تک کے قرضوں کی معافی کی پیشکش کی جا رہی ہے۔ روس کی اوسط ماہانہ تنخواہ (جو کہ صرف تقریباً ۱۰۰۰؍ ڈالر ہے) کے لحاظ سے یہ ایک خطیر رقم ہے۔

روسی بلاگر اور یوکرین جنگ کے تجربہ کار فوجی الیگزینڈر لونن نے روسی افواج پر لڑنے سے انکار کرنے والے فوجیوں پر تشدد کرنے کا الزام لگایا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ جنگ کے محاذ جلد ہی کوئی بغاوت پھوٹ سکتی ہے۔ تاہم، فرینکوپن کا ماننا ہے کہ کسی انقلاب کے آنے کا امکان اب بھی کم ہی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK