Inquilab Logo Happiest Places to Work

پولیس افسران سچن وازے، پردیپ شرما اور دیگر ۸؍ افراد پر فرد جرم عائد

Updated: August 02, 2026, 6:47 PM IST | Shahab Ansari | Mumbai

پولیس افسران سچن وازے، پردیپ شرما اور دیگر ۸؍ افراد پر فرد جرم عائد۔ صنعتکار مکیش امبانی کے گھر کے قریب دھماکہ خیز مادہ سے لدی کار کھڑی کرنے اور منسکھ کے قتل کا مقدمہ چلے گا۔ ملزمین پر دہشت گرد گینگ بنانے کا بھی الزام

Former police officers Sachin Vaze and Pradeep Sharma. Photo: INN
سابق پولیس افسران سچن وازے اورپردیپ شرما۔ تصویر: آئی این این
یہاں واقع ’نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی‘ (این آئی اے) کی خصوصی عدالت نے سنیچر کو سابق پولیس افسران سچن وازے، پردیپ شرما اور دیگر پولیس افسران سمیت کُل ۱۰؍ افراد پر صنعتکار مکیش امبانی کی رہائش گاہ کے قریب دھماکہ خیز مادہ سے لدی کار کھڑی کرنے اور کار کے مالک کو قتل کرنے کے کیس میں فرد جرم عائد کردیا ہے۔
پیر کو عدالت کے ذریعہ پوچھے جانے پر جب ملزمین نے اقرار جرم سے انکار کردیا تب ان پر فرد جرم عائد کیا گیا۔ این آئی اے جج چاکور باویسکر نے ان ملزمین پر جو فرد جرم عائد کیا ہے اس کے تحت اب ان پر تعزیرات ہند کی دفعات کے تحت مجرمانہ سازش، قتل، ہفتہ وصولی اور ثبوت مٹانے کا مقدمہ چلایا جائے گا۔ چونکہ اس کیس میں دھماکہ خیز مادہ پایا گیا تھا اس لئے ملزمین کو ’اَن لافُل ایکٹیویٹیز پریوینشن ایکٹ‘ اور ’ایکسپلوزیو سبسٹنس ایکٹ‘ کی متعلقہ دفعات کا بھی سامنا کرنا پڑے گا۔
 
 
اس کیس میں مزید ۳؍ سابق پولیس افسران و اہلکار شامل ہیں جن کے نام ریاض الدین قاضی، سنیل مانے اور ونائیک شندے ہیں۔ ان سب پر آپس میں مل کر ’دہشت گرد گینگ‘ تشکیل دینے اور فروری سے مارچ ۲۰۲۱ء کے درمیان مجرمانہ سازش رچنے کا الزام بھی عائد کیا گیا ہے۔اس معاملے میں کلیدی ملزم سچن وازے ہے جس پر الزام ہے کہ اُس وقت کے اعلیٰ عہدے پر فائز ایک ریاستی وزیر نے اسے ماہانہ ۱۰۰؍ کروڑ روپے وصول کرنے کا ہدف دیا تھا۔ اس ہدف کو پورا کرنے کیلئے سچن وازے نے شہر کے امیر ترین افراد اور بڑے بڑے ہوٹلوں سے ہفتہ وصولی کا منصوبہ بنایا تھا۔ اس کے علاوہ وہ اپنی انتہائی اہمیت کے حامل پولیس افسر کی کھوئی ہوئی شناخت بھی واپس چاہتا تھا۔
اسی منصوبہ کے تحت مکیش امبانی اور ان کے اہلِ خانہ کو خوفزدہ کرکے ان سے پیسے وصول کرنا اور دیگر بے قصور افراد کو جھوٹے الزامات میں پھنسا کر اس کیس کو حل کرکے شہرت حاصل کرنا چاہتا تھا۔اس کام کیلئے اس نے اپنے تاجر دوست منسکھ ہیرین سے اس کی کار عاریتاً لی تھی اور اس میں دھماکہ خیز مادہ بھر کر قلب شہر میں مکیش امبانی کی رہائش گاہ کے قریب پارک کردی تھی۔ اس وقت اس نے پٹھانی سوٹ پہنا تھا اور اپنا چہرہ ماسک پہن کر چھپا رکھا تھا تاکہ کوئی اسے پہچان نہ سکے۔ البتہ کار میں رکھے دھماکہ خیز مادے کے وائر کو جوڑا نہیں گیا تھا جس کی وجہ سے دھماکہ کا اندیشہ نہیں تھا۔
 
 
امبانی کے سیکوریٹی عملہ کے گھر کے قریب لاوارث کار ملنے کی شکایت پر جب اس کی تلاشی لی گئی تو دھماکہ خیز مادہ ملا تھا۔ اس کے بعد وازے نے جیش الہند نامی سے ’ٹیلی گرام‘ ایپ پر پیغام عام کیا تھا جس میں دھمکی دی گئی تھی کہ ’’اگلی بار کنکٹ ہوکر آئے گا۔‘‘ (اگلی مرتبہ وائر جوڑ کر آئیں گے تاکہ دھماکہ ہوجائے)۔ سچن کے کہنے پر منسکھ نے پولیس میں شکایت درج کروائی تھی کہ جس کار میں دھماکہ خیز مادہ پایا گیا تھا وہ گاڑی تھانے میں کوئی اس سے چھین کر فرارہوگیا تھا۔ تاہم تفتیش میں جب اس جھوٹ کے بے نقاب ہونے کا خوف پیدا ہوا تو سچن نے منسکھ کو دھماکہ خیز مادہ کا الزام اپنے سر لینے کو کہا لیکن جب اس نے انکار کردیا تو اسے کمزور کڑی تصور کرتے ہوئے قتل کردیا گیا۔
سابق اے سی پی اور انکائونٹر اسپیشلسٹ پردیپ شرما پر منسکھ ہیرین کے اغواء اور قتل کی سازش کا الزام ہے۔ ان پر مجرمانہ کارروائی انجام دینے کیلئے موبائیل فون کا سِم کارڈ حاصل کرنے اور دیگر ملزمین سنتوش شیلار، ستیش موتھکوری، منیش وسنت بھائی سونی اور آنند جادھو کو منسکھ کی لاش کو تھانے کی کھاڑی میں پھینکنے کی ہدایت دینے کا بھی الزام ہے۔ اس معاملے میں پردیپ شرما، ریاض الدین، نریش گور اور سنیل مانے کو ضمانت مل چکی ہے جبکہ سچن سمیت دیگر ملزمین جیل میں ہیں۔تفتیشی افسران نے مسودہ الزامات میں دعویٰ کیا ہے کہ اس سازش کو ہفتہ وصولی کے پیسوں سے عملی جامہ پہنایا جارہا تھا اور بے نامی سم کارڈ اور فون استعمال کئے جارہے تھے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK