• Sat, 12 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ناندیڑ میں بڑی عیدگاہ پر نمازِ استسقاء کا اہتمام، بارانِ رحمت کیلئےہزاروں ہاتھ دعا کیلئےاٹھے

Updated: September 12, 2026, 1:41 PM IST | ZA Khan | Nanded

بچے، بوڑھے،جوان سبھی عیدگاہ پہنچے ، بہتیرے اپنے معصوم جانور بھی ساتھ لائے،نم آنکھوں اور ہچکیوں، سسکیوں کے ساتھ رب کے حضور فریاد کی گئی۔

Maulana Saad Abdullah Nadwi and the general Muslim public offering supplications after the Salat-ul-Istisqa. Photo: INN
نماز استسقاء کے بعد مولانا سعد عبداللہ ندوی اورعامۃ المسلمین دعا کرتے ہوئے۔ تصویر: آئی این این

مراٹھواڑہ میں رواں سال اب تک اطمینان بخش بارش نہ ہونے کے باعث کسانوں کے ساتھ عام شہری بھی تشویش میں مبتلا ہیں۔ بارش کی کمی سے کئی علاقوں میں خشک سالی جیسی صورتحال پیدا ہونے لگی ہے۔ اسی صورتِ حال کے پیشِ نظر مراٹھواڑہ کے مختلف شہروں میں مسلمان بارانِ رحمت کے لیے نمازِ استسقاء کا اہتمام کر رہے ہیں۔ اسی سلسلے میں جمعہ،۱۱؍ ستمبر کو ناندیڑ شہر کی بڑی عیدگاہ، قدوائی نگر میں دوپہر۳۰:۳؍ بجے نمازِ استسقاء ادا کی گئی۔ نمازاستسقاء کی امامت مولانا سعد عبداللہ ندوی نے کی۔

قابل ذکر ہے کہ اس خصوصی نماز میں شرکت کیلئے ناندیڑ شہر اور اطراف کے علاقوں سے بڑی تعداد میں مسلمان عیدگاہ میدان پہنچے۔شرکاء کی تعداد کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ کچھ ہی دیر میں عیدگاہ کا وسیع میدان پورا کے پورا بھرگیا ، اور اطراف میں بھی صفیں لگانی پڑیں۔ عالم یہ تھا کہ ہر طرف سروں کا سمندر دکھائی دے رہا تھا۔ نماز میں شریک ہونے کے لئے کئی افراد اپنے چھوٹے بچوں، بزرگوں اور مویشیوں کو بھی ساتھ لے کر پہنچے۔ 

یہ بھی پڑھئے: حوثیوں کا بحیرۂ احمر کے پورے ساحلی علاقے پرقبضہ

عیدگاہ کا منظر اس اعتبار سے غیر معمولی تھا کہ جس طرح عام طور پر عیدالفطر اور عیدالاضحی کے موقع پر بڑی تعداد میں لوگ نماز کے لئے یہاں جمع ہوتے ہیں، اسی طرح بارانِ رحمت کی طلب میں بھی ہزاروں افراد انتہائی عاجزی اور امید کے ساتھ عیدگاہ کی جانب آتے دکھائی دئیے۔

نماز سے قبل مولانا سعد عبداللہ ندوی نے مختصر مگرپراثر خطاب کرتے ہوئے بارش کی کمی کے حوالے سے دینی نقطۂ نظر بیان کیا۔ انہوں نے کہا کہ’’ جب زمین پر گناہوں میں اضافہ ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کے نتیجے میں بارش رک سکتی ہے اور انسان کو اپنے اعمال پر غور کرنے کا موقع ملتا ہے۔‘‘ مولانا نے لوگوں کو اپنے گناہوں سے سچی توبہ کرنے، اللہ تعالیٰ سے معافی مانگنے اور بارانِ رحمت کے لئے  عاجزی و انکساری کے ساتھ دعا کرنے کی تلقین کی۔ انہوں نے اس موقع کو محض بارش کی طلب تک محدود رکھنے کے بجائے توبہ، استغفار اور اپنے اعمال کی اصلاح کا ذریعہ بنانے پر بھی زور دیا۔اس کے بعد عیدگاہ میں موجود ہزاروں افراد نے دو رکعت نمازِ استسقاء ادا کی۔ نماز کے اختتام پر مولانا سعد عبداللہ ندوی نے انتہائی دردمندانہ انداز میں اللہ تعالیٰ کے حضور بارانِ رحمت کے لئے دعا کی۔اس دوران عیدگاہ کا ماحول انتہائی رقت آمیز ہوگیا۔ ہزاروں افراد نے اپنے ہاتھ اللہ تعالیٰ کے حضور بلند کیے اور عاجزی و انکساری کے ساتھ سسکیوں اور ہچکیوں کے درمیان بارش کی دعا مانگی۔ کئی افراد کی آنکھیں نم دکھائی دیں، جبکہ معصوم بچے بھی اپنے ننھے منے ہاتھ اٹھائے  اللہ تعالی سے بارش طلب کرتے نظر آئے۔یہ منظر اس بات کی عکاسی کر رہا تھا کہ بارش کی کمی نے کسانوں کے ساتھ ساتھ عام لوگوں کو بھی کس قدر فکرمند کر رکھا ہے اور لوگ اللہ تعالیٰ کی رحمت کے منتظر ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: ولادیمیر پوتن یوکرین کے ساتھ معاہدہ کرنا چاہتے ہیں: ڈونالڈ ٹرمپ

نماز اور دعا کے موقع پر بڑی تعداد میں لوگوں کی موجودگی کے باوجود نظم و ضبط برقرار رکھنے کے لیے خادمینِ امت کے رضاکاروں نے ٹریفک اور آمدورفت کو منظم کرنے میں اپنا کردار ادا کیا۔ لوگوں کی سہولت کے لیے پاکیزہ نگر کے مقامی نوجوان بھی سرگرم رہے۔مقامی نوجوانوں نے عیدگاہ میں صف بندی، نظم و ضبط اور لوگوں کی رہنمائی کے ساتھ ساتھ پینے کے پانی اور وضو کے پانی کا بھی انتظام سنبھالا، جس سے بڑی تعداد میں شریک ہونے والے افراد کو سہولت حاصل ہوئی۔نمازِ استسقاء اور خصوصی دعا کے اختتام کے بعد لوگوں نے کسی بدنظمی کے بغیر منظم انداز میں عیدگاہ سے اپنے گھروں کی طرف روانگی اختیار کی۔ رضا کاروں اور مقامی نوجوانوں کی جانب سے کیے گئے انتظامات کے باعث واپسی کے وقت بھی نظم و ضبط برقرار رہا۔مراٹھواڑہ میں بارش کی کمی کے باعث پیدا ہونے والی تشویش کے درمیان ناندیڑ کی بڑی عیدگاہ میں نمازِ استسقاء کا یہ اجتماع اللہ تعالیٰ کی رحمت، بارانِ رحمت کی امید اور اجتماعی توبہ و دعا کا ایک پُراثر منظر بن گیا۔

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK