سی پی آئی (ایم) نے تمل ناڈو حکومت سے ’غیرت کے نام پر قتل‘ کے خلاف ایک خصوصی قانون نافذ کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔
EPAPER
Updated: August 28, 2025, 9:51 PM IST | Chennai
سی پی آئی (ایم) نے تمل ناڈو حکومت سے ’غیرت کے نام پر قتل‘ کے خلاف ایک خصوصی قانون نافذ کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔
کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (ایم) نے تمل ناڈو میں خاندانی مخالفت اور ذات سے متعلق تشدد کے بڑھتے ہوئے واقعات کے درمیان اعلان کیا کہ ریاست بھر میں اس کے دفاتر بین ذات شادیوں کیلئے مقامات کے طور پر دستیاب ہوں گے۔ بدھ کو ونائیک چترتھی کے موقع پر تیروورور ضلع کے تیروترائی پونڈی میں سی پی آئی (ایم) کے دفتر میں ایک بین ذات شادی کا اہتمام کیا گیا۔
اطلاعات کے مطابق، دلہن امرتھا، ورمبییم سے تعلق رکھتی تھی اور پوسٹ گریجویشن تک تعلیم تعلیم یافتہ تھی جبکہ دلہا سنجے کمار، پڈوکوٹئی کے ماتور سے تعلق رکھتا تھا اور بی بی اے گریجویٹ تھا۔ دونوں گزشتہ سات برسوں سے ایک دوسرے سے پیار کرتے تھے اور شادی کرنا چاہتے تھے۔ اگرچہ ان کے خاندانوں نے پہلے ایک مقامی مندر میں شادی کرانے پر رضامندی ظاہر کی تھی لیکن سنجے کمار کے چچا نے مبینہ طور پر شادی کو روکنے کیلئے اسے اغوا کر لیا، جس کے بعد مخالفت شروع ہو گئی۔ ایک شکایت پر کارروائی کرتے ہوئے، پولیس نے اس کا پتہ لگایا اور اسے بچا لیا، جس کے بعد تقریب کو سی پی آئی (ایم) کے دفتر میں منتقل کر دیا گیا، جہاں پارٹی لیڈران کی موجودگی میں اسے مکمل کیا گیا۔
سی پی آئی (ایم) کے ریاستی سیکریٹری پی شانموگم نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اس واقعے کی تصدیق کی اور مزید کہا کہ اس سلسلے میں پولیس میں ایک درخواست بھی دائر کی گئی ہے جس میں نو بیاہتا جوڑے کیلئے تحفظ کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ کچھ ہی دن پہلے، تیروونیلویلی میں سی پی آئی (ایم) کے دفتر میں ایک اور بین ذات شادی کو دلہن کے رشتہ داروں نے توڑ پھوڑ کر کے روک دیا تھا۔
پارٹی کا موقف
شانموگم نے زور دیا کہ پارٹی بین ذات شادیوں کی حمایت جاری رکھے گی۔ انہوں نے اسے ذات پات کے امتیازی سلوک کے خلاف ایک اہم قدم قرار دیا۔ انہوں نے تمل ناڈو حکومت سے ’غیرت کے نام پر قتل‘ کے خلاف ایک خصوصی قانون نافذ کرنے کا بھی مطالبہ کیا اور یاد دلایا کہ ۲۰۱۵ء میں پیش کیا گیا ایک ایسا ہی بل ناکام رہا تھا۔ شانموگم نے انکشاف کیا کہ سی پی آئی (ایم)، سی پی آئی اور وی سی کے رہنماؤں نے حال ہی میں وزیر اعلیٰ ایم کے اسٹالن سے ملاقات کی تھی اور قانون سازی کیلئے دباؤ ڈالا تھا۔
یہ بھی پڑھئے: حیدرآباد: رفیع بن کر تین مسلم لڑکیوں سے شادی کرنے والا روی کمار گرفتار
اس مسئلے کی فوری نوعیت کو اجاگر کرتے ہوئے، شانموگم نے نوٹ کیا کہ اکیلے تیروونیلویلی میں ایک سال میں ذات پات سے متعلق معاملات میں ۲۴۰ ہلاکتیں ریکارڈ کی گئی ہیں۔ انہوں نے صورتحال کو ”مکمل طور پر قابو سے باہر“ قرار دیا اور زور دیا کہ بڑھتی ہوئی عوامی حمایت کو حکومت کو فیصلہ کن کارروائی کرنے پر مجبور کرنا چاہئے۔