سنبھل کی جامع مسجد میں رنگ و روغن اور سفیدی پر محکمہ آثارقدیمہ ( اے ایس آئی) نے اعتراض جتایا ہے،محکمہ کے وکیل کا کہنا ہے کہ جاری تنازع کے دوران کوئی بھی فیصلہ سپریم کورٹ کی ہدایات کے مطابق ہوگا۔
EPAPER
Updated: February 21, 2026, 2:04 PM IST | Sambhal
سنبھل کی جامع مسجد میں رنگ و روغن اور سفیدی پر محکمہ آثارقدیمہ ( اے ایس آئی) نے اعتراض جتایا ہے،محکمہ کے وکیل کا کہنا ہے کہ جاری تنازع کے دوران کوئی بھی فیصلہ سپریم کورٹ کی ہدایات کے مطابق ہوگا۔
اتر پردیش کے سنبھل میں واقع شاہی جامع مسجد اس بار رمضان المبارک کے مقدس مہینے میںرنگ و روغن اور بنیادی سجاوٹ کی اجازت کے معاملے پر ایک بار پھرزیر بحث ہے۔مسجد کمیٹی نے آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا (اے ایس آئی) کو خط لکھ کر پینٹنگ، صفائی اور معمولی سجاوٹ کے کام کی منظوری مانگی ہے۔ یہ مسجد اے ایس آئی کے تحت ایک محفوظ یادگار ہے۔شاہی جامع مسجد کمیٹی کے صدر جعفر علی نے میرات میں اے ایس آئی کے سپرنٹنڈنگ آرکیالوجسٹ کو خط بذریعہ ڈاک بھیجا۔ خط میں انہوں نے اس حقیقت کا حوالہ دیا کہ گزشتہ سال رمضان کے دوران اسی طرح کی سفیدی اور سجاوٹ کا کام اے ایس آئی کی شمولیت سے کیا گیا تھا۔جعفر علی نے کہا، ’’رمضان المبارک کے مقدس مہینے کے پیش نظر صفائی اور سفیدی ضروری ہے۔ ہمیں امید ہے کہ گزشتہ سال کی طرح اجازت مل جائے گی۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: پٹنہ ہائی کورٹ: اپوزیشن کی ریلی میں مودی کے خلاف نعرے لگانے والے شخص کو ضمانت
بعد ازاں کمیٹی کے اراکین نے کہا کہ رمضان میں معمول کی دیکھ بھال ایک دیرینہ عمل کا حصہ ہے، کیونکہ اس مہینے میں نمازیوں کی تعداد بڑھ جاتی ہے۔تاہم، اے ایس آئی نے محتاط موقف اختیار کیا ہے۔ اے ایس آئی کے وکیل وشنو شرما نے کہا کہ تازہ رنگائی کی کوئی فوری ضرورت نہیں ہے۔انہوں نے کہا، ’’گزشتہ سال کی گئی سفیدی ابھی تک اچھی حالت میں ہے۔ فی الحال کوئی ضرورت نہیں ہے۔ مسجد کی حیثیت سے متعلق معاملہ سپریم کورٹ میں زیر التوا ہے اور ساختی یا دیکھ بھال کے کام کے بارے میں کوئی بھی فیصلہ عدالت کی ہدایات کے مطابق کرنا ہوگا۔‘‘ دریں اثناء اہلکاروں نے اشارہ دیا کہ مزید انتظامی اقدامات کا انحصار قانونی مشورے اور عدالتی کارروائی کے نتائج پر ہوگا۔
یہ بھی پڑھئے: چھتیس گڑھ: میلے میں مسلم تاجروں کو ہٹانے پر کشیدگی، برادران وطن کی حمایت
واضح رہے کہ سنبھل کی شاہی جامع مسجد کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ یہ مغل دور میں ۱۵۲۶ء سے ۱۵۲۹ءکے آس پاس تعمیر کی گئی تھی، اور اسےمحکمہ آثار قدیمہ کی جانب سے محفوظ یادگار قرار دیا گیا ہے۔جبکہ ہندو درخواست گزاروں کا ایک طبقہ دعویٰ کرتا ہے کہ یہ مسجد بابر کے دور میں پہلے سے موجود ہری ہر مندر کو منہدم کرنے کے بعد تعمیر کی گئی تھی۔تاہم ایڈووکیٹ ہری شنکر جین اور دیگر نے عدالت سے رجوع کیا ہے، جس میں مسجدتک رسائی، پوجا کی اجازت اور ان کے مطابق اصل مندر کی بحالی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔دوسری طرف، مسجد کمیٹی اور مقامی مسلم رہائشی ان دعوؤں کو سختی سے مسترد کرتے ہیں۔کمیٹی کے ایک رکن نے کہا، ’’یہ ایک صدیوں پرانی مسجد ہے جہاں مسلسل نماز ادا کی جاتی رہی ہے۔ اس کا مذہبی کردار واضح اور دستاویزی ہے۔‘‘فی الحال، فوری مسئلہ رمضان کے دوران سفیدی اور معمولی دیکھ بھال کی اجازت سے متعلق ہے۔ حتمی فیصلے کا انحصار اے ایس آئی کی منظوری اور سپریم کورٹ کی ہدایات پر ہونے کی امید ہے۔