• Thu, 05 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

سنبھل: رمضان سے قبل شاہی جامع مسجد نے لاؤڈ اسپیکر کی اجازت مانگی

Updated: February 04, 2026, 10:08 PM IST | Sambhal

اتر پردیش کے ضلع سنبھل میں واقع شاہی جامع مسجد نے رمضان المبارک کے پیش نظر لاؤڈ اسپیکر نصب کرنے کی اجازت کے لیے ضلع انتظامیہ سے باضابطہ درخواست دی ہے۔ مسجد انتظامیہ کا کہنا ہے کہ بڑھتی ہوئی تعداد کے باعث امام کی آواز نمازیوں تک پہنچانا مشکل ہو جاتا ہے۔ تاہم، ماضی میں پیش آئے کشیدہ واقعات کے باعث انتظامیہ نے معاملے پر احتیاط برتتے ہوئے ابھی کوئی فیصلہ نہیں سنایا۔

The Shahi Jama Masjid in Sambhal. Photo: X
سنبھل میں واقع شاہی جامع مسجد۔ تصویر: ایکس

رمضان المبارک کی آمد سے قبل سنبھل میں واقع شاہی جامع مسجد نے لاؤڈ اسپیکر نصب کرنے کی اجازت کے لیے ضلع انتظامیہ سے تحریری درخواست دی ہے۔ مسجد کمیٹی کا مؤقف ہے کہ رمضان کے دوران نمازیوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوتا ہے، جس کے باعث بغیر صوتی نظام کے امام کی آواز پچھلی صفوں تک واضح طور پر نہیں پہنچ پاتی۔ مسجد کمیٹی کے صدر ظفر علی نے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کو دی گئی درخواست میں کہا ہے کہ وہ صرف ایک محدود لاؤڈ اسپیکر استعمال کرنا چاہتے ہیں، جو حکومت اور عدالت کی جانب سے مقررہ آواز کی حد کے اندر ہوگا۔ درخواست میں یہ بھی یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ شور سے متعلق تمام قوانین اور ضوابط کی مکمل پابندی کی جائے گی۔ درخواست کی ایک کاپی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کو بھی ارسال کی گئی ہے کیونکہ انتظامیہ اس معاملے کو صرف مذہبی نہیں بلکہ قانون و نظم کے زاویے سے بھی دیکھ رہی ہے۔ ضلع حکام نے تاحال اس پر کوئی حتمی فیصلہ نہیں سنایا ہے اور معاملہ زیرِ غور بتایا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: شب برأت بم دھماکوں کی ۲۰؍ویں برسی کی مناسبت سے مالیگاؤں کے بڑے قبرستان میں روایتی احتجاج

خیال رہے کہ یہ درخواست ایک حساس پس منظر میں سامنے آئی ہے۔ شاہی جامع مسجد گزشتہ چند مہینوں سے تنازع کی زد میں رہی ہے، خاص طور پر نومبر ۲۰۲۴ء میں دائر کی گئی ایک عرضی کے بعد، جس میں مسجد کے مقام سے متعلق دعویٰ کیا گیا تھا۔ اس معاملے میں عدالت کے حکم پر کیے گئے سروے کے دوران علاقے میں کشیدگی پھیلی تھی، جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر پولیس تعیناتی کرنی پڑی تھی۔ بعد ازاں، شور کی شکایات اور عدالتی ہدایات کے تحت فروری ۲۰۲۵ء میں ضلع انتظامیہ نے شاہی جامع مسجد سمیت دیگر مقامات سے لاؤڈ اسپیکرز ہٹوا دیے تھے۔ اسی پس منظر کے باعث موجودہ درخواست کو انتظامیہ انتہائی احتیاط کے ساتھ دیکھ رہی ہے۔ مسجد کمیٹی کا کہنا ہے کہ رمضان کے دوران نمازِ تراویح، فجر اور دیگر عبادات میں نمازیوں کی بڑی تعداد شریک ہوتی ہے، اور لاؤڈ اسپیکر کا مقصد صرف عبادات کو منظم بنانا ہے، نہ کہ کسی قسم کی عوامی یا سیاسی سرگرمی۔

یہ بھی پڑھئے: سپریم کورٹ کی ہدایت کے باوجود بلڈوزر کارروائی تشویشناک: الہ آباد ہائی کورٹ

مقامی علما اور سماجی نمائندوں نے بھی انتظامیہ سے اپیل کی ہے کہ رمضان کے تقدس کو مدنظر رکھتے ہوئے محدود اور قواعد کے مطابق اجازت دی جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس سے عبادات میں سہولت پیدا ہوگی اور کسی قسم کے نظم و ضبط کے مسئلے سے بچا جا سکے گا۔ دوسری جانب، پولیس اور سول انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ وہ عدالتی احکامات اور ریاستی پالیسی کے دائرے میں رہتے ہوئے ہی کوئی فیصلہ کریں گے۔ حکام کے مطابق، کسی بھی اجازت کا انحصار سیکیورٹی جائزے، شور کی سطح اور مقامی حالات پر ہوگا۔ فی الحال، ضلع انتظامیہ کی جانب سے درخواست پر غور جاری ہے اور فیصلہ رمضان کے آغاز سے قبل سنائے جانے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے، تاہم کوئی سرکاری ٹائم لائن جاری نہیں کی گئی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK