Inquilab Logo Happiest Places to Work

صمود فلوٹیلا: آسٹریلوی کارکن وطن لوٹے، اسرائیلی حراست میں جنسی زیادتی کے الزام

Updated: May 25, 2026, 10:03 PM IST | Canberra

غزہ کے لیے انسانی امداد لے جانے والے عالمی صمود فلوٹیلا میں شامل آسٹریلوی کارکن وطن واپس پہنچنا شروع ہو گئے ہیں۔ کارکنوں نے الزام لگایا ہے کہ اسرائیلی حراست کے دوران انہیں تشدد، مارپیٹ، جنسی زیادتی، طبی سہولیات سے محرومی اور غیر انسانی سلوک کا سامنا کرنا پڑا۔ متعدد کارکنوں کا کہنا ہے کہ انہیں اندھیرے کمروں میں رکھا گیا، مارا گیا اور بعض افراد کو نامعلوم انجکشن بھی لگائے گئے۔

File photo. Photo: X
فائل فوٹو۔ تصویر: ایکس

غزہ کے لیے انسانی امداد پہنچانے کی کوشش کرنے والے عالمی صمود فلوٹیلا میں شامل آسٹریلوی کارکن اسرائیلی حراست سے رہائی کے بعد وطن واپس پہنچنا شروع ہو گئے ہیں، جہاں انہوں نے مبینہ تشدد، جنسی زیادتی اور غیر انسانی سلوک کے سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق ۱۱؍ آسٹریلوی کارکن ان سیکڑوں بین الاقوامی رضاکاروں میں شامل تھے جو امدادی مشن کے تحت غزہ کی طرف روانہ ہوئے تھے۔ گزشتہ ہفتے اسرائیلی فورسیز نے بین الاقوامی پانیوں میں فلوٹیلا کو روک کر اس پر کارروائی کی اور متعدد کارکنوں کو حراست میں لے لیا۔ آسٹریلوی نشریاتی ادارے ایس بی ایس نیوز کے مطابق کئی کارکنوں نے دعویٰ کیا کہ حراست کے دوران ان کی ہڈیاں ٹوٹی گئیں، چہروں پر تشدد کیا گیا اور بعض افراد کو نامعلوم مادوں کے انجکشن لگائے گئے۔

وائلٹ کوکو، جو پیر کی صبح میلبورن واپس پہنچیں، نے الزام لگایا کہ اسرائیلی حکام نے کارکنوں کو مارا پیٹا، جنسی طور پر ہراساں کیا اور جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ متعدد زیر حراست افراد کو فریکچر اور سر کی چوٹیں آئیں جبکہ کچھ مریض کئی دن تک انسولین اور بلڈ پریشر کی دواؤں سے محروم رہے۔ وائلٹ کوکو کے مطابق انہیں ایک اندھیرے کمرے میں دھکیل دیا گیا جہاں ان سے چھیڑ چھاڑ کی گئی اور بار بار مارا گیا۔ اسی طرح جیما او تولے، جو اتوار کی رات آسٹریلیا واپس پہنچنے والی پہلی کارکنوں میں شامل تھیں، نے بھی جسمانی اور جنسی تشدد کے الزامات عائد کیے۔ ۲۳؍ سالہ طالبہ نے اے بی سی نیوز سے گفتگو میں کہا کہ اسرائیلی فورسیز نے حراست کے دوران کارکنوں کے ساتھ بدسلوکی کی اور انہیں خوفزدہ کرنے کی کوشش کی۔

دوسری جانب سوریہ میک ایون، جو نیو ساؤتھ ویلز سے تعلق رکھنے والی نگہداشت کارکن ہیں، نے بتایا کہ یہ غزہ امداد پہنچانے کی ان کی تیسری کوشش تھی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ انہیں تقریباً ۸۰؍  گھنٹے تک قید رکھا گیا اور ایک کمرے میں تشدد کا نشانہ بنایا گیا جبکہ اسرائیلی فوجی قومی ترانہ گا رہے تھے۔ سوریہ میک وین نے اسرائیلی جیل نما جہازوں کو ’’جنگی قیدیوں کے کیمپ‘‘ سے تشبیہ دیتے ہوئے کہا کہ وہاں سونے کی محدود جگہ، چند بیت الخلاء اور انتہائی خراب حالات موجود تھے، جبکہ فوجیوں کی جانب سے ربڑ کی گولیاں بھی چلائی گئیں۔ امدادی مشن کے متعدد شرکاء نے کہا ہے کہ وہ اپنے تجربات وکلاء کے ساتھ شیئر کر رہے ہیں تاکہ فلسطینیوں اور کارکنوں کے خلاف مبینہ زیادتیوں کے ثبوت بین الاقوامی فوجداری عدالت میں جمع کرائے جا سکیں۔

یہ بھی پڑھئے: ایران اور امریکہ معاہدے کے لیے فریم ورک پر متفق ہو گئے ہیں: ایرانی وزارت خارجہ

اسرائیلی حکام کی جانب سے ان الزامات پر فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔ یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب غزہ جنگ اور انسانی بحران کے باعث اسرائیل پر بین الاقوامی دباؤ مسلسل بڑھ رہا ہے، جبکہ امدادی مشنوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی سرگرمیاں بھی عالمی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK