• Wed, 14 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

سعودی عرب: محکمہ تجارت کی تھیلوں اور پیکجنگ پر’اللہ‘ کے نام لکھنے پر پابندی عائد

Updated: January 14, 2026, 2:06 PM IST | Riyadh

سعودی عربیہ کے محکمہ تجارت نے تھیلوں اور پیکجنگ پر اللہ کے نام لکھنے پر پابندی عائد کر دی ، محکمہ نے تجارتی اداروں کے لیے ایسی کسی بھی شے پر اللہ کے نام لکھنے پر پابندی عائد کر دی ہے جو بےحرمتی کا باعث بن سکتی ہوں۔

Saudi Crown Prince Mohammed bin Salman. Photo: INN
سعودی ولیعہد محمد بن سلمان۔ تصویر: آئی این این

سعودی عربیہ کے محکمہ تجارت نے تجارتی اداروں کے لیے ایسی کسی بھی شے پر اللہ کے نام لکھنے پر پابندی عائد کر دی ہے جو بے حرمتی کا باعث بن سکتی ہوں، جیسے تھیلے، پیکجنگ اور وہ مواد جو نامناسب استعمال کے لیے ہوں۔محکمہ تجارت کے ترجمان عبدالرحمن الحسین نے اس حوالے سے بتایا کہ یہ اقدام اللہ کے ناموں کی بے حرمتی کے ممکنہ واقعات سے بچنے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔ایکس پلیٹ فارم پر جاری بیان میں انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ اللہ کے خوبصورت ناموں (الاسماء الحسنیٰ) کی تعظیم اور حفاظت کے جذبے سے اخذ کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: فلسطینی شخص نے اپنی والدہ کو آکسیجن دینے کیلئے ٹائر پمپ کو آکسیجن مشین بنا دیا

قابل ذکر ہے کہ چند ماہ قبل محکمہ تجارت کی منظور کردہ تجارتی ناموں کی قانونی ضابطہ کاری میں یہ شق شامل کی گئی تھی کہ کسی تجارتی نام میں ممنوعہ ناموں کی فہرست، سرکاری یا نیم سرکاری اداروں کے نام شامل نہیں ہوں گے، ساتھ ہی سعودی عرب اور شہروں کے ناموں کے رجسٹریشن کے قواعد کا احترام کیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھئے: غزہ: بدترین انسانی بحران کے خلاف فلسطینیوں کا احتجاج، یو این سے مداخلت کا مطالبہ

واضح رہے کہ حالیہ دنوں میں تجارتی ادارے اپنی مصنوعات کی تشہیر اور ان کے فروخت میں اضافہ کیلئے مذہبی علامات کو استعمال کرتے ہیں، تاکہ صارفین کے جذبات کا تجارتی مقاصد کیلئے استحصال کیا جاسکے۔ جبکہ انہیں اس بات کی پرواہ نہیں رہتی کے ان کے اس اقدام کے سبب ان علامات کی بے حرمتی ہوتی ہے۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ لوگ مذہبی علامات یا نام والی اشیاء استعمال کے بعد پھینک دیتے ہیں، جبکہ کچھ لوگوں کو ان استعمال شدہ اشیاء کو پھینکنا بھی تذبذب  میں مبتلا کریتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی ان علامات اور نام والی اشیاء کا یوں ہی کوڑے میں پڑے رہنا اس مذہب کے پیروکاروں کے ایمانی جذبات کو مجروح کرنے کا ذریعہ بنتا ہے۔ سعودی مملکت کا یہ فیصلہ انہیں جذبات کو ملحوظ رکھتے ہوئے اٹھایا گیا ایک قابل تحسین اقدام ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK