Updated: January 13, 2026, 7:16 PM IST
| Gaza
آکسیجن مشین کی سہولیات دستیاب نہ ہونے پر ایک فلسطینی شخص نے اپنی والدہ کو آکسیجن فراہم کرنے کیلئے سائیکل کے ٹائر پمپ کو آکسیجن مشین میں تبدیل کر دیا۔ انہوں نے بتایا کہ اپنی ماں کو آکسیجن دینے کیلئے ان کے پاس اس کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں تھا۔
آکسیجن کی عدم دستیابی اور اسرائیلی پابندیوں کی وجہ سے اسپتال تک رسائی نہ ملنے کے بعد ایک فلسطینی شخص نے اپنی والدہ کو آکسیجن فراہم کرنے کیلئے سائیکل کے ٹائر پمپ کو آکسیجن مشین میں تبدیل کر دیا۔ صحت کے سنگین خطرات کے باوجود ۳۴؍ سالہ سمیح ابو سعدہ اپنی والدہ کو آکسیجن دینے کیلئے ہر شام پمپ تیار کرتے ہیں، جو دائمی بیماریوں اور سانس لینے میں دشواری کا سامنا کررہی ہیں۔ وہ ٹریکٹر کے ٹریلر پر کھڑے ایک نازک خیمے میں رہتی ہیں جہاں انہیں موسم سرما کی سختیاں برداشت کرنی پڑتی ہے۔
ابو سعدہ نے انادولو ایجنسی کو بتایا کہ ’’غزہ کے اسپتالوں میں علاج کے تمام ذرائع ختم ہونے کے بعد میں نے اپنی والدہ کی خراب صحت کے ابتدائی حل کے طور پر ٹائر پمپ استعمال کرنے کا سہارا لیا۔‘‘ انہوں نے مزید بتایاکہ ان کی والدہ کو آکسیجن فراہم کرنے کے لیے کوئی طبی سامان دستیاب نہیں ہے اور کہا کہ ’’آکسیجن مشین کی سہولت نہ ہونے پر میرے پاس اپنی والدہ کو آکسیجن فراہم کرنے کا یہ واحد حل ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: ایران احتجاج: امریکہ نے اپنے شہریوں کو ایران چھوڑنے کی وارننگ جاری کی
ابو سعدہ نے اپنی والدہ کو آکسیجن فراہم کرنے کیلئے ٹائر پمپ میں تبدیلی کرکے اسے بطور ابتدائی حل استعمال کیا۔ انہوں نے کہا کہ ’’میری والدہ کو آکسیجن فراہم کرنے کیلئے یہاں کوئی سہولت موجود نہیں ہے اور یہاں قریب میں کوئی اسپتال بھی نہیں ہے جہاں ہم پہنچ سکیں۔‘‘ انہوں نے مزید بتایا کہ سب سے قریبی اسپتال تک پہنچنے کا خرچ ۱۰؍ ڈالر سے زیادہ ہے، نقل و حمل پر پابندی کے بعد تیل کی قلت ہونے کی وجہ سے یہ خرچ وہ نہیں اٹھا سکتے۔ غزہ کے صحت اہلکاروں نے بتایا کہ جنگ سے پہلے، دائمی امراض کے شکار افراد جنہیں روزانہ آکسیجن کی ضرورت ہوتی ہیں، آسانی سے گھریلو استعمال کے لیے طبی آکسیجن سلنڈر حاصل کر سکتے تھے۔ غزہ کی وزارت صحت کے مطابق، اسرائیلی فوج نے جنگ کے دوران تقریباً ۱۰؍ مرکزی آکسیجن جنریشن اسٹیشنوں کو تباہ کر دیا، جس سے آکسیجن کے آلات کی شدید قلت اور صحت کے بحران میں اضافہ ہوا۔ ابو سعدہ نے کہا کہ وہ ہر رات پمپ اپنے پاس رکھتے ہیں تاکہ اپنی والدہ کو سانس کے مرض میں دوبارہ مبتلا ہونے سے بچا سکیں۔
یہ بھی پڑھئے: اسرائیل: نیتن یاہو کو تمام الزامات سے بری کرنے کیلئے اتحاد کی قانون سازی
شدید بحران
ابو سعدہ نے بتایا کہ جنوبی غزہ میں ناصر میڈیکل کمپلیکس کے ڈاکٹروں نے انہیں اپنی والدہ کو آکسیجن فراہم کرنے کیلئے ٹائر پمپ کے استعمال سے ہونے والے ممکنہ نقصانات سے خبردار کیا ہے۔ ڈاکٹروں نے انہیں بتایا کہ پمپ کا استعمال ’’مناسب حل‘‘ نہیں ہے لیکن وہ اسے استعمال کرنے پر مجبور ہیں کیونکہ اس کے علاوہ ’’کوئی متبادل نہیں ہے۔‘‘ طبی اور سائنسی ویب سائٹس نے متنبہ کیا ہے کہ پمپ کے ذریعے پیدا ہونے والی ہوا آلودہ ہو سکتی ہے، جس سے سانس کے ذریعے کاربن مونوآکسائیڈ اور سانس میں تیل کے ذرات داخل ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ واضح رہے کہ غزہ کے نظام صحت کو اسرائیلی حملوں سے تقریباً دو برسوں میں شدید نقصان پہنچا ہے جس میں اسپتالوں، طبی سہولیات، ادویات کے گوداموں اور طبی عملے کو نشانہ بنایا گیا ہے، جس سے اس کی دیکھ بھال کی صلاحیت کو نقصان پہنچا ہے۔ حملوں کے ساتھ امداد، طبی سامان اور آلات کے داخلے پر اسرائیلی پابندیوں نے بہت سی سہولیات کو صرف زندگی بچانے والے معاملات تک محدود رکھنے پر مجبور کر دیا ہے۔ غزہ کے وزارت صحت کے مطابق ۵۲؍ فیصد دوائیں اور تقریباً ۷۱؍ فیصد طبی استعمال کی اشیاء کا ذخیرہ ختم ہو چکا ہے۔ وزارت نے کہا کہ اسرائیل نے طبی سپلائی ٹرکوں کے داخلے کو غزہ کی ماہانہ ضروریات کے ۳۰؍ فیصد سے بھی کم کر دیا ہے، جس سے ادویات اور آلات کی قلت بڑھ گئی ہے۔
یہ بھہ پڑھئے: ہم مذاکرات چاہتے ہیں لیکن جنگ کیلئے بھی تیار ہیں: ایران
واضح رہے کہ اسرائیلی فوج اکتوبر؍ ۲۰۲۳ء سے اب تک ۷۱۴۰۰؍ سے زیادہ افراد کو ہلاک کر چکی ہے، جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے ہیں۔ اسرائیل کے حملوں میں اب تک ایک لاکھ ۷۱؍ ہزار سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔ انادولو نے وزارت صحت کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ جنگ بندی معاہدے کے باوجود اسرائیلی فوج کے حملے جاری ہیں۔ ۱۰؍ اکتوبر کو غزہ میں جنگ بندی نافذ ہونے کے بعد سے اب تک ۴۴۲؍ فلسطینی شہید ہوئے ہیں اور ۱۲؍ ہزار سے زیادہ زخمی ہوچکے ہیں۔