Inquilab Logo Happiest Places to Work

سعودی عرب: معمر باپ نے بیٹے کے قاتل کو معاف کر دیا کہ وہ اپنی بوڑھی بیمار ماں کا اکلوتا بیٹا ہے

Updated: June 18, 2026, 6:04 PM IST | Riyadh

سعودی عرب کے جنوبی علاقے عسیر میں ایک غیر معمولی واقعہ نے عرب دنیا کی توجہ حاصل کر لی ہے، جہاں شیخ یحییٰ بن قنس البشری القحطانی نے مبینہ طور پر اپنے بیٹے کے قاتل کو معاف کرتے ہوئے نہ صرف قصاص کا حق چھوڑ دیا بلکہ دیت لینے سے بھی انکار کر دیا۔ شیخ یحییٰ نے یہ فیصلہ اس وقت کیا جب انہیں معلوم ہوا کہ مجرم اپنی بیمار اور ضعیف والدہ کا واحد سہارا ہے۔

Photo: X
تصویر: ایکس

سعودی عرب کے جنوبی صوبے عسیر کا ایک حالیہ واقعہ دنیا بھر میں غیر معمولی توجہ حاصل کر رہا ہے، جہاں ایک باپ نے اپنے مقتول بیٹے کے قاتل کو معاف کر کے قصاص اور مالی معاوضے دونوں سے دستبردار ہونے کا فیصلہ کیا۔ عرب اور سعودی ذرائع ابلاغ میں گردش کرنے والی اطلاعات کے مطابق، شیخ یحییٰ بن قنس البشری القحطانی نے اپنے بیٹے کے قتل میں سزا یافتہ شخص کو مکمل معافی دے دی۔ بتایا جاتا ہے کہ سعودی قانون کے تحت انہیں قصاص کا مطالبہ کرنے یا دیت قبول کرنے کا حق حاصل تھا، تاہم انہوں نے دونوں راستوں سے انکار کر دیا۔ رپورٹس کے مطابق شیخ یحییٰ کا فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب انہیں معلوم ہوا کہ مجرم اپنی بیمار اور ضعیف والدہ کا واحد کفیل ہے۔ مختلف عرب میڈیا پلیٹ فارمز پر شائع ہونے والی معلومات کے مطابق وہ ذاتی طور پر مجرم کے گھر گئے اور اہل خانہ کو اپنے فیصلے سے آگاہ کیا۔

 
 
 
 
 
View this post on Instagram
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 

A post shared by Inquilab - انقلاب (@theinquilab.in)

سوشل میڈیا پر وسیع پیمانے پر شیئر کئے جانے والے ویڈیوز اور معلومات کے مطابق، جب معافی کا اعلان کیا گیا تو مجرم کی والدہ جذباتی ہو گئیں اور رو پڑیں۔ یہی منظر بعد میں اس واقعے کی علامت بن گیا اور دنیا بھرمیں کروڑوںافراد نے اسے رحم، ہمدردی اور انسانی عظمت کی مثال قرار دیا۔ متعدد عرب ذرائع نے شیخ یحییٰ سے منسوب یہ الفاظ بھی نقل کیے ہیں: ’’مَیں ایک ریال بھی نہیں لوں گا‘‘ جبکہ بعض رپورٹوں میں ان کا یہ جملہ بھی بیان کیا گیا: ’’اس کا اجر مجھے اللہ دے گا۔‘‘ ان بیانات کو سوشل میڈیا صارفین نے بڑے پیمانے پر شیئر کیا اور انہیں خالصتاً رضائے الٰہی کے لیے کی گئی معافی کی علامت قرار دیا۔

یہ بھی پڑھئے: نیتن یاہو ایران پر حملے اور سعودی سے تعلقات استوار کرنے کے جنون میں مبتلا: کلنٹن

سعودی عرب کے قصاص اور دیت کے نظام کے تحت قتل کے مقدمات میں مقتول کے ورثہ کو قانونی طور پر یہ اختیار حاصل ہوتا ہے کہ وہ قصاص کا مطالبہ کریں، مالی معاوضہ قبول کریں یا مجرم کو معاف کر دیں۔ مملکت میں ماضی میں بھی ایسے متعدد واقعات سامنے آ چکے ہیں جہاں متاثرہ خاندانوں نے معافی کا راستہ اختیار کیا، تاہم دیت سے مکمل دستبرداری کے واقعات نسبتاً کم دیکھے جاتے ہیں۔ تاہم اس واقعے سے متعلق چند اہم نکات اب بھی سرکاری طور پر تصدیق طلب ہیں۔ اشاعت تک سعودی وزارت انصاف، سعودی پریس ایجنسی یا بڑی بین الاقوامی خبر رساں ایجنسیوں کی جانب سے اس مقدمے کی مکمل عدالتی تفصیلات جاری نہیں کی گئی ہیں۔ اسی طرح عدالتی ریکارڈ، سرکاری فیصلے یا شیخ یحییٰ کے منسوب بیانات کا باضابطہ متن بھی عوامی سطح پر دستیاب نہیں ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK