اقوام متحدہ کے صحت کے ادارے کا کہنا ہے کہ بچوں، نوعمروں کے موٹاپے میں ۱۹۹۰ء سےچار گنا اضافہ ہوا ہے، جبکہ اس سے سترہ کروڑ افراد متاثر ہیں،۵؍ سے ۱۹؍ سال کی عمر کے بچوں میں موٹاپے کی شرح۲؍ فیصد سے بڑھ کر۸؍ فیصد ہو گئی۔
EPAPER
Updated: October 12, 2026, 2:08 PM IST | Washington
اقوام متحدہ کے صحت کے ادارے کا کہنا ہے کہ بچوں، نوعمروں کے موٹاپے میں ۱۹۹۰ء سےچار گنا اضافہ ہوا ہے، جبکہ اس سے سترہ کروڑ افراد متاثر ہیں،۵؍ سے ۱۹؍ سال کی عمر کے بچوں میں موٹاپے کی شرح۲؍ فیصد سے بڑھ کر۸؍ فیصد ہو گئی۔
عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے بدھ کو کہا کہ۱۹۹۰ء سے دنیا بھر میں۵؍ سے ۱۹؍ سال کی عمر کے بچوں اور نوعمروں میں موٹاپا چار گنا بڑھ گیا ہے،۲۰۲۴ء میں سترہ کروڑ افراد اس دائمی بیماری کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں۔ڈبلیو ایچ او کے مطابق، اس عمر کے گروپ میں اس کی شرح ۱۹۹۰ءمیں ۲؍ فیصد سے بڑھ کر۲۰۲۴ء میں۸؍ فیصد ہو گئی۔ جبکہ متاثرہ افراد میں سے۷؍ کروڑ بچے۵؍ سے ۹؍ سال کی عمر کے تھے اور۱۰؍ کروڑ نوعمر۱۰؍ سے ۱۹؍ سال کی عمر کے تھے۔واضح رہے کہ یہ اعداد و شمار اس وقت سامنے آئے جب ڈبلیو ایچ او نے بچوں اور نوعمروں کے لیے موٹاپے کی دیکھ بھال کے بارے میں اپنی پہلی ہدایات جاری کیں، جس میں خوراک، جسمانی سرگرمی اور رویے میں تبدیلی پر مرکوز منظم مداخلتوں کی سفارش کی گئی تھی۔ ایجنسی نے کہا کہ وزن کم کرنے کی دوائیں، بیریاٹرک سرجری اور وزن کم کرنے والے آلات کو ۹؍سال کی عمر تک کے بچوں کے علاج کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔تاہم ۱۰؍ ۱۹؍ سال کی عمر کے نوعمروں کے لیے،صرف اس صورت میں منظور شدہ ادویات پر غور کیا جا سکتا ہے، جب زیر نگرانی ملٹی موڈل طرز زندگی کا پروگرام مطلوبہ نتائج حاصل کرنے میں ناکام رہا ہو، جبکہ شدید موٹاپے کے لیے سخت شرائط کے تحت بیریاٹرک سرجری پر غور کیا جا سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: کیمسٹری کا نوبیل انعام ہنری کاگن، کینسو سوئی کے نام، مالیکیولز کا صدیوں پرانا راز حل
بعد ازاں ڈبلیو ایچ او نے خبردار کیا کہ موٹاپا کم عمری سے ہی ٹائپ۲؍ ذیابیطس اور قلبی امراض سمیت بیماریوں کے خطرے کو بڑھا سکتا ہے۔اس نے موٹاپے سے وابستہ ذہنی صحت کے نتائج کو بھی اجاگر کیا، بشمول بدنامی، غنڈہ گردی، اضطراب، ڈپریشن اور کم خود اعتمادی، ساتھ ہی جسمانی اور ذہنی صحت کے حالات کو ایک ساتھ حل کرنے کا مطالبہ کیا۔ڈبلیو ایچ او میں نیوٹریشن اینڈ فوڈ سیفٹی کے شعبہ کی ڈائریکٹر ڈاکٹر لز ماریا ڈی ریگل نے کہا، ’’بچوں اور نوعمروں کے لیے موٹاپے کی دیکھ بھال کی بنیاد دوا یا سرجری نہیں ہے، بلکہ جامع مدد تک رسائی ہے جو صحت مند کھانے، جسمانی سرگرمی اور پائیدار رویے میں تبدیلی کو قابل بناتی ہے۔‘‘مزید برآں انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ترجیح یہ یقینی بنانا ہونی چاہیے کہ ہر بچہ اور نوعمر چھوٹی عمر سے ہی معیاری دیکھ بھال اور معاون ماحول تک رسائی حاصل کر سکے، جس سے انہیں صحت مند وزن حاصل کرنے اور برقرار رکھنے میں مدد ملے اور تاحیات صحت اور تندرستی کی بنیاد رکھی جائے۔
یہ بھی پڑھئے: نیند سے محروم جاپان نے بہترین جھپکی لینے کو مقابلے میں بدل دیا
علاوہ ازیں ڈبلیو ایچ او نے اس بات پر زور دیا کہ موٹاپے کی دیکھ بھال وزن میں کمی سے آگے بڑھنی چاہیے، بچوں اور ان کے خاندانوں کے لیے طویل مدتی، عمر کے مطابق دیکھ بھال کے ساتھ مجموعی صحت، کام کاج اور تندرستی پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے۔ساتھ ہی ادارے نے یہ بھی خبردار کیا کہ صرف علاج سے موٹاپے کی بڑھتی ہوئی شرح کو تبدیل نہیں کیا جا سکتا، جبکہ صحت مند خوراک اور جسمانی سرگرمی کو زیادہ قابل رسائی اور سستا بنانے کے اقدامات کا مطالبہ کیا۔