مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں زائرین کے تجربے کو بہتر بنانے کیلئے پہلی مرتبہ مذہبی ٹیکنالوجی ہیکاتھون ’’ہدایہ تھون‘‘ شروع کی گئی ہے، جس میں جدید ڈجیٹل حل تیار کرنے کا چیلنج دیا گیا ہے۔
EPAPER
Updated: January 21, 2026, 10:00 PM IST | Riyadh
مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں زائرین کے تجربے کو بہتر بنانے کیلئے پہلی مرتبہ مذہبی ٹیکنالوجی ہیکاتھون ’’ہدایہ تھون‘‘ شروع کی گئی ہے، جس میں جدید ڈجیٹل حل تیار کرنے کا چیلنج دیا گیا ہے۔
سعودی عرب میں مذہبی خدمات کے شعبے کو ڈجیٹل دور سے ہم آہنگ کرنے کے لیے ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ دنیا کی پہلی مذہبی ٹیکنالوجی ہیکاتھون ’’ہدایہ تھون‘‘ کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا ہے، جس کا مقصد دو مقدس مساجد (مسجد حرام اور مسجد نبوی) میں آنے والے زائرین اور حجاج کے تجربے کو جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے بہتر بنانا ہے۔ یہ منفرد ہیکاتھون جنرل پریزیڈنسی برائے امورِ حرمین اور ام القریٰ یونیورسٹی کے اشتراک سے منعقد کی جا رہی ہے۔ اس اقدام کے تحت نوجوان ڈیولپرز، ٹیک ماہرین، اسٹارٹ اپس اور اختراع کاروں کو مدعو کیا گیا ہے کہ وہ ایسے ڈجیٹل حل پیش کریں جو دو مقدس مساجد میں عبادت اور زیارت کے دوران سہولت، رہنمائی اور انتظامی خدمات کو مزید مؤثر بنا سکیں۔
ہیکاتھون میں پیش کیے جانے والے منصوبوں کا محور زائرین کے سفر کو آسان بنانا، بھیڑ کے بہتر انتظام، اسمارٹ گائیڈنس سسٹمز، ڈجیٹل معلوماتی پلیٹ فارمز، زبان کی رکاوٹ دور کرنے والے ایپس اور عبادت سے متعلق ڈیجیٹل معاونت جیسے شعبے ہوں گے۔ منتظمین کے مطابق جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں آنے والے لاکھوں زائرین کو بہتر، محفوظ اور زیادہ بامعنی تجربہ فراہم کیا جا سکتا ہے۔’’ہدایہ تھون‘‘ نہ صرف ٹیکنالوجی اور مذہبی خدمات کے امتزاج کی ایک نئی مثال ہے بلکہ یہ سعودی عرب کے وژن ۲۰۳۰ء کے تحت ڈجیٹل تبدیلی کے اہداف سے بھی ہم آہنگ ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے اقدامات سے مذہبی سیاحت میں جدت آئے گی اور دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے سہولیات میں نمایاں بہتری ممکن ہو سکے گی۔
یہ بھی پڑھئے: پینے کے صاف پانی کے حوالے سے ہندوستان۱۲۲؍ ممالک میں۱۲۰؍ ویں نمبر پر
منتظمین کے مطابق کامیاب آئیڈیاز کو عملی جامہ پہنانے کے مواقع بھی فراہم کیے جائیں گے تاکہ یہ منصوبے صرف تصور تک محدود نہ رہیں بلکہ حقیقی معنوں میں زائرین کی خدمت کر سکیں۔ ’’ہدایہ تھون‘‘ کو مذہبی ٹیکنالوجی کے میدان میں ایک تاریخی سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔