امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے تعلق سے انتہائی غیر مہذب تبصرہ کیا، حالانکہ بعد میں ٹرمپ نے اس کے اثرات کم کرنے کیلئے انہیں ہوشیار انسان قرار دیا ۔
EPAPER
Updated: March 29, 2026, 10:33 PM IST | Washington
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے تعلق سے انتہائی غیر مہذب تبصرہ کیا، حالانکہ بعد میں ٹرمپ نے اس کے اثرات کم کرنے کیلئے انہیں ہوشیار انسان قرار دیا ۔
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان (ایم بی ایس) کے بارے میں غیر مہذب تبصرہ کیا۔ ٹرمپ کا یہ تبصرہ ایران کے ساتھ جاری جنگ کے دوران سامنے آئے ہیں، جبکہ رپورٹس کے مطابق سعودی قیادت عوامی سطح پر امن کے مطالبے کے باوجود نجی طور پر جنگ میں شدت کی حامی ہے۔ حالانکہ ٹرمپ ایران جنگ کو طول دینے سے گریز کررہے ہیں۔ فلوریڈا میں سعودی حمایت یافتہ سرمایہ کاری فورم میں بولتے ہوئے ٹرمپ نے کہا: ’’انہیں (محمد بن سلمان) نہیں لگتا تھا کہ ایسا ہوگا۔‘‘ جس کے بعد ٹرمپ نے انتہائی تحقیر آمیز جملہ کہا۔ ساتھ ہی ٹرمپ نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ محمد بن سلمان کو لگتا تھا کہ میں زوال پذیر ملک کا ایک عام امریکی صدر ہوں گا۔ لیکن اب انہیں مجھ سے اچھا سلوک کرنا پڑے گا۔ بعد میں ٹرمپ نے نرم لہجہ اختیار کرتے ہوئے ایم بی ایس کو ’’ہوشیار‘‘ اور ’’بہت عام قسم کا آدمی‘‘ قرار دیا۔
یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ کے دور حکومت میں روس پر سے پابندیاں ہٹانے کا امکان نہیں
ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے ایک سال قبل کہا تھا کہ امریکہ ایک مردہ ملک ہے، لیکن اب یہ دنیا کا سب سے تیز رفتار ملک ہے، اور یہ بات ایران کو بری طرح شکست دینے سے پہلے کی ہے۔نیویارک ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق، محمد بن سلمان نجی طور پر ٹرمپ کو جنگ جاری رکھنے پر زور دے رہے ہیں،اور اسے ایران کو کمزور کرنے کا ’’تاریخی موقع‘‘ قرار دے رہے ہیں، اورساتھ ہی توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملوں سمیت سخت کارروائی کی حمایت کر رہے ہیں۔ تاہم، سعودی عرب نے عوامی طور پر طویل جنگ کی حمایت سے انکار کیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: کیا ٹرمپ اور نیتن یاہو میں ٹھن گئی ہے؟
واضح رہے کہ ایران تنازع۲۸؍ فروری کو شروع ہوا جب امریکہ اور اسرائیل نے ایران میں حملے کیے۔ اس کے بعد ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں، جس پر ایران نے اسرائیل اور خلیجی ممالک میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا۔ٹرمپ نے حال ہی میں مذاکرات کی طرف اشارہ کیا ہے اور مبینہ طور پر۱۵؍ نکاتی امن منصوبہ پیش کیا ہے۔۲۵؍ مارچ کو ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے تصدیق کی کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان دوست ممالک کے ذریعے بالواسطہ تبادلہ خیال ہوا ہے۔ دریں اثنا، پاکستان ممکنہ ثالث کے طور پر سامنے آیا ہے، اور اسلام آباد میں سعودی عرب، ترکی، مصر کے وزرائے خارجہ کی میزبانی متوقع ہے۔