وینزویلا کے سابق صدر نکولس مادورونے امریکی حراست سے پہلا پیغام جاری کیا ، جس میں انہوں نے کہا کہ وہ پر اعتماد اور پرسکون ہیں۔
EPAPER
Updated: March 29, 2026, 10:33 PM IST | New York
وینزویلا کے سابق صدر نکولس مادورونے امریکی حراست سے پہلا پیغام جاری کیا ، جس میں انہوں نے کہا کہ وہ پر اعتماد اور پرسکون ہیں۔
وینزویلا کے سابق صدر نکولس مادورو نے جنوری میں اغوا کے بعد امریکی حراست سے پہلا پیغام جاری کیا۔نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ نے امریکی اغوا کے بعد اپنے پہلے پیغام میں کہا ہے کہ وہ’’ پر اعتماد‘‘ اور ’’پر سکون‘‘ ہیں۔معزول وینزویلائی صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ سیلیا فلوریس نے امریکی افواج کے ہاتھوں اغوا کے بعد پہلی بار عوامی سطح پر بات کی ہے۔ بروکلین کی وفاقی جیل میں تقریباً تین ماہ سے حراست میں رکھے گئے اس جوڑے نے کہا کہ وہ اپنے حامیوں سے توانائی حاصل کر رہے ہیں۔یہ پیغام مادورو کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر پوسٹ کیا گیا، جس میں لکھا تھا،’’ہم ٹھیک ہیں، پر اعتماد، پر سکون اور مسلسل دعا گو ہیں۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: اسرائیلی حملہ میں دو صحافیوں کی موت
رپورٹس کے مطابق اغوا کے بعد سے مادورو اور فلوریس کو انٹرنیٹ یا خبروں تک براہِ راست رسائی نہیں ہے، وہ صرف خاندان اور وکلاء سے محدود فون کالز پر انحصار کرتے ہیں۔دریں اثناء وینزویلائی حکومت کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ مادورو بائبل پڑھنے میں وقت گزارتے ہیں اور میٹروپولیٹن ڈیٹینشن سینٹر میں کچھ قیدی انہیں اب بھی ’’صدر‘‘ کہتے ہیں۔واضح رہے کہ مادورو، جنہوں نے خود کو ’’جنگی قیدی‘‘ قرار دیا ہے، نے منشیات سے متعلق دہشت گردی کی سازش اور منشیات کی اسمگلنگ سمیت متعدد الزامات میں قصوروار نہ ہونے کی استدعا کی ہے۔دراصل جنوری میں ہونے والے امریکی کارروائی نے مادورو کی ایک دہائی سے زائد کی حکمرانی کا خاتمہ کر دیا اور وینزویلا کے سیاسی منظر نامے کو بدل دیا۔
یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ کے دور حکومت میں روس پر سے پابندیاں ہٹانے کا امکان نہیں
بعد ازاں سابق نائب صدر ڈیلسی روڈریگوئز اب ملک کی قیادت کر رہی ہیں، جنہوں نے سیاسی قیدیوں کے لیے معافی اور تیل کے شعبے میں اصلاحات جیسی وسیع تبدیلیاں متعارف کروائی ہیں۔ اپنے بیان میں مادورو اور فلوریس نے اپنے حامیوں کو سراہا اور وینزویلا کے اندر اور باہر یکجہتی کا مظاہرہ کرنے والوں کے لیے تشکر کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ’’ سابق لیڈر نیویارک میں جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہیں ، صدارتی محل سے بہت دورجس پر وہ کبھی حکمرانی کرتے تھے۔‘‘