Updated: August 04, 2026, 9:05 PM IST
| New Delhi
ایندھن میں ملاوٹ اور معیار سے متعلق خدشات کے درمیان مرکزی حکومت نے واضح کیا ہے کہ ملک بھر میں پیٹرول اور ڈیزل کے معیار کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے۔ وزارتِ پیٹرولیم و قدرتی گیس (ایم او پی این جی ) کے مطابق تیل مارکیٹنگ کمپنیاں ایندھن کے معیار پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں اور نگرانی کے نظام کو پہلے سے زیادہ سخت بنا دیا گیا ہے۔
ای ۲۰؍پیٹرول۔ تصویر:آئی این این
ایندھن میں ملاوٹ اور معیار سے متعلق خدشات کے درمیان مرکزی حکومت نے واضح کیا ہے کہ ملک بھر میں پیٹرول اور ڈیزل کے معیار کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے۔ وزارتِ پیٹرولیم و قدرتی گیس (ایم او پی این جی ) کے مطابق تیل مارکیٹنگ کمپنیاں ایندھن کے معیار پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں اور نگرانی کے نظام کو پہلے سے زیادہ سخت بنا دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:ویمنز ٹی۲۰: پاکستان نے تیسرا میچ ۴؍ وکٹوں سے جیت لیا، سری لنکاکا سیریز پر قبضہ
وزارت نے بتایا کہ ملک کے ۸۷؍ ہزار سے زائد پیٹرول پمپوں پر پانی کی ملاوٹ (Water Ingress) کی جانچ اب روزانہ ۸؍ سے۱۲؍ مرتبہ کی جا رہی ہے، تاکہ ایندھن کے معیار کو یقینی بنایا جا سکے اور کسی بھی خرابی یا آلودگی کا بروقت پتہ چل سکے۔ حکومت کے مطابق اب تک پورے ملک میں کلورائیڈ آلودگی کے صرف دو واقعات سامنے آئے ہیں۔ ان کی نشاندہی ہوتے ہی متعلقہ پیٹرول پمپوں پر ایندھن کی فروخت فوری طور پر روک دی گئی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ نگرانی کا نظام مؤثر انداز میں کام کر رہا ہے۔
وزارت نے مزید بتایا کہ اب تک ۲۰۰۰؍ سے زیادہ ایندھن کے نمونوں کی کلورائیڈ اور سلفائیڈ آلودگی کے لیے جانچ کی جا چکی ہے۔ اس کے علاوہ تیل کمپنیوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ ایندھن کی پوری سپلائی چین کی مسلسل نگرانی کریں تاکہ کسی بھی قسم کی ملاوٹ یا آلودگی کو بروقت روکا جا سکے۔ حکومت نے خبردار کیا ہے کہ اگر کسی بھی پیٹرول پمپ پر ایندھن میں ملاوٹ یا آلودگی پائی گئی تو اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ وزارت نے کہا کہ صارفین کو معیاری اور محفوظ ایندھن فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔
یہ بھی پڑھئے:’’دی ریلوے مین‘‘ کے بعد یش راج فلمز کا نیا پروجیکٹ ’’ٹنل مین‘‘
ای ۲۰؍ پیٹرول کے معیار کے حوالے سے وزارت نے وضاحت کی کہ پیٹرول میں شامل کیے جانے والے ایتھنول کے لیے بیورو آف انڈین اسٹینڈرڈز (بی آئی ایس) کے آئی ایس ۱۵۴۶۴؍ معیار پر عمل کرنا لازمی ہے اور اس کی خالصیت کم از کم ۶ء۹۹؍ فیصد ہونی چاہیے۔ ہر کھیپ کے ساتھ معیار کی تصدیق شدہ رپورٹ بھی فراہم کی جاتی ہے۔ وزارت کے مطابق ایندھن میں ملاوٹ روکنے کے لیے مخصوص ذخیرہ گاہیں، باقاعدہ معیار کی جانچ، ایتھنول ٹینکروں سے نمونے لینا اور ہر کھیپ کو قبول کرنے سے پہلے اوپری اور نچلے حصے سے نمونے لے کر ٹیسٹ کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔
حکومت نے بتایا کہ جولائی ۲۰۲۴ء سے جون ۲۰۲۶ء کے درمیان معیار پر پورا نہ اترنے کی وجہ سےو ۳۰۲؍ ایتھنول ٹینکروں کو مسترد کیا گیا، جن میں تقریباً ۱۰۵۰۰؍ کلو لیٹر ایتھنول موجود تھا۔وزارت نے کہا کہ یہ وضاحت ان میڈیا رپورٹس کے بعد جاری کی گئی ہے جن میں بعض پیٹرول پمپوں پر ایندھن کے معیار اور ممکنہ ملاوٹ پر سوالات اٹھائے گئے تھے۔ حکومت نے یقین دلایا کہ ملک بھر میں نگرانی اور معیار کی جانچ کا مضبوط نظام نافذ ہے اور صارفین کو محفوظ، معیاری اور مقررہ ضوابط کے مطابق ایندھن فراہم کرنے کے لیے ہر ممکن اقدام کیا جا رہا ہے۔