Inquilab Logo Happiest Places to Work

ناندیڑ میں قریش برادری کی ہڑتال کا دائرہ وسیع

Updated: August 04, 2025, 1:48 PM IST | ZA Khan | Nanded

شہر و ضلع میں مویشی منڈیاں، متعلقہ چھوٹے کاروبار اور ٹرانسپورٹ شعبہ بھی متاثرہورہا ہے، متعلقہ کام و کاروبار سے جڑے مزدور بھی پریشان۔

A shop selling animal ropes and other items can be seen at the Arhapur Animal Market. Photo: INN
ارھا پور جانور منڈی میں  جانوروں  کی رسی اور دیگر اشیاء کی دکان دیکھی جاسکتی ہے۔ تصویر: آئی این این

قریش برادری کی جاری غیر معینہ مدت کی ہڑتال کا اثر اب صرف گوشت کے کاروبار تک محدود نہیں رہا، بلکہ اس کے اثرات مویشی منڈیوں، ان سے وابستہ چھوٹے تاجروں، کاریگروں اور ٹرانسپورٹ شعبے پر بھی گہرائی سے مرتب ہو رہے ہیں۔ اس باعث متاثر ہونےو الے افراد کا مطالبہ ہے کہ شکایات و مطالبات کو سنا جائے اور کاروبار ی سرگرمیوں کو بحال کیا جائے۔
کون کون متاثر ہورہا ہے؟
اردھاپور کی ہفتہ وار مویشی منڈی میں بیلوں کو باندھنے والی رسیاں اور دیگر ضروری اشیاء فروخت کرنے والے چھوٹے تاجر شدید معاشی بحران کا سامنا کر رہے ہیں۔ ان تاجروں کا روزگار اسی منڈی سے جڑا ہوتا ہے، جہاں وہ دور دراز کے علاقوں سے سامان لے کر صرف اس امید پر آتے ہیں کہ کچھ فروخت ہو جائے گا اور ان کے گھر کا چولہا جلے گا۔ تاہم منڈیوں کی بندش نے ان کے کاروبار کو بالکل بند کر دیا ہے۔سنتوش نامی ایک نوجوان تاجر نے بتایا، ’’گزشتہ ایک ماہ سے کاروبار تقریباً ۲۰؍ سے۲۵؍ فیصد تک سکڑ گیا ہے۔ مویشیوں کی خرید و فروخت نہ ہونے کے باعث اب لوگ ہماری دکانوں سے رسیاں اور دیگر چیزیں بھی نہیں خرید رہے۔ اب تو سفر خرچ نکالنا بھی دشوار ہو گیا ہے۔‘‘اسی طرح، مویشیوں کے سینگ تراشنے والے کاریگر بھی اس ہڑتال سے متاثر ہیں۔ یہ کاریگر منڈیوں میں جا کر بیل، بھینس اور دیگر جانوروں کے سینگ تراشتے ہیں، جس سے نہ صرف جانور خوبصورت دکھتے ہیں بلکہ انہیں بہتر دام بھی ملتے ہیں۔ ان کاریگروں کی روزی روٹی انہی خدمات سے وابستہ ہے، مگر منڈیوں کی بندش نے ان کے ہاتھوں سے بھی روزگار چھین لیا ہے۔
 مزید برآں، مویشیوں کی نقل و حمل سے جڑے ٹرانسپورٹ کاروبار پر بھی منفی اثر پڑا ہے۔ جانوروں کو گاڑیوں میں دیہی علاقوں سے منڈیوں تک اور پھر خریداروں کے گھروں تک پہنچانا ایک منظم پیشہ ہے، جس میں سینکڑوں گاڑی مالکان اور مزدور وابستہ ہیں۔ مگر ہڑتال کی وجہ سے ان کے لئے نہ کام بچا ہے اور نہ آمدنی۔ ایسے کئی افراد نے فائنانس پر گاڑیاں خریدی ہیں، جن کی ماہانہ قسطیں اب ادا کرنا مشکل ہو چکا ہے۔گاڑی مالکان چاہتے ہیں کہ قریش برادری کی یہ ہڑتال جلد ختم ہو تاکہ دوبارہ ان کا روزگار بحال ہو۔ تاہم یہ ہڑتال بھی محض اتفاقی نہیں، بلکہ ٹرانسپورٹ کے دوران پیش آنے والی زیادتیوں اور غیرقانونی رکاوٹوں کے خلاف ایک پرامن احتجاج کی صورت میں سامنے آئی ہے۔
 قریش برادری کا الزام و شکایت ہے کہ پولیس اور نام نہاد گئو رکشک اکثر گاڑیوں کو راستے میں روک کر ان سے مار پیٹ کرتے ہیں، پیسے وصولتے ہیں اور کبھی کبھار جھوٹے مقدمات میں بھی پھنسا دیتے ہیں۔ اس ظلم و زیادتی سے تنگ آ کر برادری نے اپنے کاروبار کو غیر معینہ مدت کیلئے  بند کر دیا ہے۔یہ ہڑتال اب بتدریج سماج کے مختلف طبقات کو متاثر کرتی جا رہی ہے۔ قریش برادری کے ساتھ ساتھ دیگر شعبہ ہائے زندگی سے وابستہ افراد بھی اس سے متاثر ہو رہے ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ حکومت اس صورتحال کا سنجیدہ نوٹس لیتی ہے یا نہیں؟  اگر جلد کوئی مثبت قدم نہ اٹھایا گیا تو یہ مسئلہ ایک بڑے معاشی و سماجی بحران کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK