• Tue, 22 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

تعلیمی اداروں میں قبائلی طلبہ کو ہراساں کرنے کے بڑھتے واقعات پرمبنی فلم ’جینتی ۲‘ کی اسکریننگ

Updated: September 22, 2026, 5:02 PM IST | Owais Siddiqui | Dadar

آل انڈیا اسٹوڈنٹس اسوسی ایشن کی جانب سے پلازہ تھیٹرمیں فلم کی اسکریننگ میں بڑی تعداد میں طلبہ شریک ہوئے۔ فلم کے بعد اس پرگفتگو کا موقع بھی دیاگیا۔

Students are seen holding photographs and placards during the screening of the film `Jayanti 2` at the Plaza Theatre. Photo: INN
پلازہ تھیٹر میں فلم ’جینتی ۲‘ کی اسکریننگ کے دوران طلبہ ہاتھوں میں تصاویر اور پلے کارڈز لئے نظر آرہے ہیں۔ تصویر: آئی این این
یہاں کے مشہورپلازہ تھیٹر میںطلبہ تنظیم ’اے آئی ایس ایف ‘کی جانب سے اتوار کو مراٹھی فلم’جینتی ۲‘کی اسکریننگ کی گئی۔ فلم انگریزی سب ٹائٹل کے ساتھ دکھائی گئی جبکہ فلم کے بعد اس پر گفتگو کا بھی موقع دیا گیا ۔ یہ فلم بالخصوص تعلیمی اداروں کی ناکامیوں اور قبائلی و معاشی طور پر کمزورطلبہ کے ساتھ خراب رویے کو اجاگر کرتی ہے۔ واضح رہے کہ یہ فلم۱۱؍ ستمبر کو امیزون پرائم ، زی ۵؍جیسے او ٹی ٹی پلیٹ فارمزپر ریلیز ہوئی۔ فلم کومراٹھی فلمسازاور مشہور مصنف شیلیش نرواڑے نے بنایا اورلکھا ہے۔ 
فلم میں خاص طور پر ایک ایسی قبائلی طالبہ کی کہانی بتائی گئی ہے جو ایک پسماندہ خاندان سے تعلق رکھتی ہے اور پونے کے ایک کالج میں تعلیم حاصل کرنے کیلئے داخلہ لیتی ہےلیکن وہاں کالج انتظامیہ ، اساتذہ اور طلبہ کی جانب سے اسے ہراساں کیا جاتا ہے۔ اسی طرح وہ ذات پات کے امتیاز کا شکار ہوجاتی ہے جس کے بعد اسے اس ظلم کے خلاف آواز اٹھانے پر کالج سے معطل کر دیا جاتا ہے پھر کچھ مزید کردار اس طالبہ کے حق میں ذات پات کے امتیاز کے خلاف لڑائی لڑتے ہیں اور پورے تعلیمی نظام کو بدلنے اور بہتر بنانے کا مطالبہ کرتے ہیں۔
 
 
فلم کی اسکریننگ میں موجود ایک سماجی کارکن چیتا لی دوشی نے انقلاب سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ذات پات کے نظام نےصدیوں سے نسلوںکو مساوات سے محروم رکھا ہےجبکہ آئین ہند میں انصاف، مساوات اور وقار کے ذریعے ان حقوق کی بحالی کی یاددہانی کرائی جاتی ہے۔ انہوں نے مزیدکہاکہ میرے نزدیک ’جینتی۲‘ فن کا ایک ایسا طاقتور نمونہ ہے جو اس پیغام کو اسکرین پر پیش کرتا ہے۔
اسکریننگ میں شامل طلبہ کا کہنا ہے کہ فلمیں محض تفریح کا ذریعہ نہیں ہوتیں بلکہ بعض دفعہ یہ معاشرے کی تصویر کشی کرتی ہیں اور حقیقت سے آشنا کرواتی ہیں ۔ فلم کی اسکریننگ کے منتظم عامر قاضی نے انقلاب کو بتایا کہ بڑی تعداد میں طلبہ اس اسکریننگ میں شامل ہوئے اور فلم ختم ہونے بعد اس پر گفتگو کا بھی موقع دیاگیا جہاں طلبہ نے کھل کر ذات پات کے نظام سے متعلق اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ اس فلم کی  اسکریننگ  کا مقصد آج کی نوجوان نسل ’جین زی ‘ کومعاشرے کی حقیقت سے روشنا س کرانا تھا کیونکہ بالخصوص اعلیٰ تعلیمی اداروں میں طلبہ کو جس طرح ذات پر مبنی امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑتا ہے او ر انہیں طرح طرح سے ہراساں کیا جاتا ہے  جس کے سبب وہ ذہنی طور پر بہت پریشان ہوجاتے ہیں اور ڈپریشن میں چلےجاتے ہیں اس لئے  جین زی کو چاہئے کہ وہ ان مسائل کو سمجھیں اور ان کے خلاف ڈٹ کر اپنی آواز بلند کریں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK