Updated: May 22, 2026, 4:13 PM IST
| Cannes
ہالی ووڈ اداکار سیباسٹین اسٹین، جنہوں نے ۲۰۲۴ء کی فلم ’’The Apprentice‘‘ میں امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کا کردار ادا کیا تھا، نے دعویٰ کیا ہے کہ ٹرمپ نے کانز فلم فیسٹیول میں فلم کا پریمیر رکوانے کی کوشش کی تھی۔ کانز میں اپنی نئی فلم ’’Fjord‘‘ کی تشہیر کے دوران اسٹین نے کہا کہ امریکہ ’’واقعی بہت برے ہاتھوں میں ہے‘‘ اور میڈیا سینسرشپ، دباؤ اور دھمکیوں کا ماحول بڑھ رہا ہے۔
سیباسٹین اسٹین فلم میں ٹرمپ کے کردار میں۔ تصویر: آئی این این
۲۰۲۴ء کی متنازع اور زیر بحث رہنے والی فلم ’’The Apprentice‘‘ میں امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کا کردار ادا کرنے والے ہالی ووڈ اداکار سیباسٹین اسٹین نے بڑا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ٹرمپ نے کانز فلم فیسٹیول میں فلم کے پریمیر کو رکوانے کی کوشش کی تھی۔ اداکار نے یہ بیان حال ہی میں فرانس میں جاری کانز فلم فیسٹیول کے دوران دیا، جہاں وہ اپنی نئی فلم ’’Fjord‘‘ کی تشہیر میں مصروف ہیں۔ سیباسٹین اسٹین نے ایک گفتگو کے دوران امریکہ کی موجودہ سیاسی اور سماجی صورتحال پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ملک ’’واقعی بہت برے ہاتھوں میں ہے۔ موجودہ حالات صرف مذاق یا طنز کا موضوع نہیں بلکہ ایک سنجیدہ مسئلہ ہیں، کیونکہ میڈیا کی آزادی، اظہار رائے اور تخلیقی کاموں پر دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے : امیشا پٹیل نے کہا کہ ہندوستان میں اداکاروں کو اپنے ہی لوگ بری طرح ٹرول کرتے ہیں
اداکار نے کہا، ’’یہ صرف ہنسنے والی بات نہیں ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ امریکہ واقعی بہت بری جگہ پر پہنچ چکا ہے۔ اگر آپ دیکھیں کہ میڈیا پر دباؤ، سینسرشپ اور دھمکیوں کا ماحول کیسے بڑھ رہا ہے تو یہ تشویشناک ہے۔‘‘ سیباسٹین اسٹین کے مطابق ’’The Apprentice‘‘ کی ٹیم کو کانز فلم فیسٹیول کے آغاز سے صرف تین دن پہلے تک یہ یقین نہیں تھا کہ فلم کی اسکریننگ ہو سکے گی یا نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ فلم کے گرد پیدا ہونے والے تنازع اور دباؤ نے اس کی نمائش کو غیر یقینی بنا دیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ’’فیسٹیول سے صرف تین دن پہلے تک ہمیں یقین نہیں تھا کہ فلم دکھائی جائے گی یا نہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ لوگ اب اس فلم پر زیادہ توجہ دے رہے ہیں۔‘‘ اسٹین نے مزید کہا کہ انہیں اس پورے تجربے میں میڈیا پر دباؤ اور طاقتور حلقوں کی مداخلت کا سامنا کرنا پڑا، اور یہ سب کچھ انہیں امریکی ٹاک شو میزبانوں جمی کامل اور اسٹیفن کولبرٹ جیسے شخصیات کے خلاف حالیہ ردعمل کی یاد دلاتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے : نیتو کپور کی واپسی سے خود کو جوڑ پاتی ہوں، خواتین کو ایسی ہمت ملنی چاہیے: روبینہ دلائک
واضح رہے کہ ’’The Apprentice‘‘ ایک سوانحی ڈرامہ فلم ہے، جس کی کہانی ۱۹۷۰ء اور ۱۹۸۰ء کی دہائی کے نیویارک میں ترتیب دی گئی ہے۔ فلم ایک نوجوان ڈونالڈ ٹرمپ کی زندگی کے ابتدائی دور کو دکھاتی ہے، جب وہ اپنی رئیل اسٹیٹ سلطنت قائم کرنے اور امریکی اشرافیہ میں جگہ بنانے کی کوشش کر رہے تھے۔ فلم میں خاص طور پر معروف وکیل رائے کوہن کے ساتھ ٹرمپ کے تعلقات پر توجہ دی گئی ہے۔ رائے کوہن کو ایک ایسے طاقتور اور جارحانہ وکیل کے طور پر پیش کیا گیا ہے، جس نے ٹرمپ کو طاقت حاصل کرنے، مخالفین سے نمٹنے اور میڈیا کے بیانیے کو اپنے حق میں استعمال کرنے کے طریقے سکھائے۔
فلم کا عنوان ’’The Apprentice‘‘ بھی علامتی اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ یہ اس سفر کی نمائندگی کرتا ہے جس میں ٹرمپ طاقت، سیاست اور اثر و رسوخ کے اصول سیکھتے ہوئے ایک بڑی عوامی شخصیت بننے کی طرف بڑھتے ہیں۔ فلم کی ریلیز کے بعد سے ہی یہ سیاسی حلقوں اور میڈیا میں بحث کا موضوع بنی ہوئی ہے۔ ناقدین کے مطابق فلم نہ صرف ٹرمپ کی شخصیت بلکہ امریکی طاقت کے ڈھانچے، میڈیا اور سیاسی اثر و رسوخ کے پیچیدہ تعلقات کو بھی اجاگر کرتی ہے۔ سیباسٹین اسٹین کے حالیہ بیانات نے ایک بار پھر اس بحث کو زندہ کر دیا ہے کہ کیا سیاسی شخصیات اور طاقتور ادارے فنون، سنیما اور اظہار رائے پر اثر انداز ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔ کانز میں اداکار کے ان ریمارکس کے بعد سوشل میڈیا پر بھی اس موضوع پر شدید بحث دیکھنے میں آ رہی ہے۔