Inquilab Logo Happiest Places to Work

بی ایم سی کی جانب سے تاخیر کے سبب سائن بریج کا کام ادھورا

Updated: August 17, 2026, 10:45 AM IST | Saeed Ahmed Khan | CSMT

۲؍سال بعد بھی کام پورا نہ ہونے پر شہریوں کی مشکلات برقرار۔ ریلوے اوربی ایم سی کی شراکت ۔ بریج پر آمد رفت شروع کرنے کیلئے مزیدایک ماہ انتظار کرنا ہوگا۔

A view of the Sion Bridge under construction. Picture: Inquilab
زیر تعمیر سائن بریج کا ایک منظر۔ تصویر:انقلاب

سائن بریج کا کام بی ایم سی کی جانب سے تاخیر کے سبب اب بھی ادھورا ہے۔ اب بھی حتمی طور پر یہ نہیں کہا جاسکتا کہ کس تاریخ سے اس بریج کا ایک حصہ ٹریفک کے لئے کھول دیا جائے گا۔ ہاں، اتنا ضرور ہے کہ جس سست روی سے سے کام چل رہا ہے اسے دیکھ کر یہ اندازہ ہوتا ہے اور کچھ افسران کی جانب سے بھی بتایا گیا ہے کہ ابھی مزید ایک ماہ انتظار کرنا ہوگا۔ حالات یہ ہیں کہ ۲؍ سال بعد ایک جانب کا بھی کام پورا نہ کئے جانے سے شہریوں کی دقتیں برقرار ہیں۔دوسری جانب ریلوے کی جانب سے گرڈر لانچنگ کرنے کے ساتھ ہی یہ دعوی کیا گیا ہے کہ ریلوے نے اپنے حصے کا کام پورا کرلیا ہے اب بی ایم سی کو اپنا کام پورا کرنا ہے۔ مطلب بی ایم سی اور ریلوے کی ساجھے داری میں عام شہری پس رہا ہے۔ اتنا ہی نہیں ریلوے کی جانب سے یوم آزادی پر بریج شروع کرنے کا یقین دلایا گیا تھا مگر اب کچھ اور کہا جارہا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: آزادی کی تاریخ اوراسلاف کی عظیم قربانیوں سے نسلِ نو کو واقف کرانے کا عہد

بریج بند کئے جانے سے شہری پریشان ہیں، روانہ ٹریفک جام سے بڑا حال رہتا ہے، مشرق ومغرب کا رابطہ بریج بند کئے جانے سے ختم ہوگیا ہے، طلبہ کو اسکول جانے کی پریشانیاں ہیں، گاڑیاں چلنے کے نام پر رینگتی ہیں پھر بھی وعدے کے مطابق کام پورا نہیں کیا گیا۔ حالانکہ بریج کو خستہ حال بتانے اور بند کرنے کے وقت جنگی پیمانے پر کام پورا کرنے کا یقین دلایا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھئے: ’اسکول ٹھیک کرو مہم‘ کوملک گیرحمایت

ریلوے کے ایک سینئر آفیسر کے مطابق بریج ٹریفک کے لئے کھولنا یہ ریلوے کا نہیں بی ایم سی کا کام ہے۔ یہاں چونکہ دونوں کا اشتراک ہے اس لئے کافی چیلنجنگ ہونے کے باوجود ریلوے نے وعدے کے مطابق اپنا کام پورا کردیا تاکہ کام آگے بڑھانے میں دقت نہ ہو۔ اب بی ایم سی کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے حصے کا کام کس قدر تیزی کے پورا کرتی ہے۔واضح ہوکہ بریج بند ہونے سے شہریوں کی پریشانی سے آگاہ کراتے ہوئے دھاراوی بچاؤ آندولن کے ذمہ داران پر مشتمل ایک وفد نے  ۲۸؍جولائی کو چیف انجینئر برائے پُل دیپک نارائن کے موجود نہ ہونے پر ڈپٹی چیف انجینئر برائے تعمیرات سینٹرل ریلوے رضوان احمد سے ملاقات کی تھی ۔

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK