Inquilab Logo Happiest Places to Work

بہار کے اشوک دھام مندر میں خوفناک بھگدڑ، ۷؍ ہلاک، ۱۲؍ سے زائد زخمی

Updated: August 17, 2026, 10:07 AM IST | Lakhisarai

بہار کے ضلع لکھی سرائے میں واقع اشوک دھام مندر میں ساون کے تیسرے پیر کے موقع پر عقیدت مندوں کی بڑی بھیڑ کے درمیان اچانک بھگدڑ مچ گئی، حادثے میں کم از کم ۷؍ افراد ہلاک اور ۱۲؍ سے زائد زخمی ہوگئے، بتایا جا رہا ہے کہ صبح سویرے دو ٹرینوں کی آمد کے بعد مندر کی جانب جانے والے راستے پر بھیڑ میں اچانک اضافہ ہوا، حفاظتی رکاوٹ ٹوٹنے اور بجلی کے کھمبے یا تار سے متعلق افواہ پھیلنے کے بعد افراتفری پیدا ہوئی، پولیس اور ضلعی انتظامیہ نے موقع پر پہنچ کر امدادی کارروائیاں شروع کردیں اور زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا گیا۔

The injured are undergoing treatment at the hospital. Photo: INN
زخمی افراد اسپتال میں زیرِ علاج ہیں۔ تصویر: آئی این این

بہار کے ضلع لکھی سرائے میں واقع مشہور اشوک دھام مندر میں پیر کی صبح عقیدت مندوں کی شدید بھیڑ کے باعث خوفناک بھگدڑ مچ گئی۔ اطلاعات کے مطابق حادثے میں تقریباً ۷؍ عقیدت مند ہلاک جبکہ ۱۲؍ سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔ زخمیوں کو فوری طور پر قریبی اسپتالوں میں منتقل کیا گیا، جہاں ان کا علاج جاری ہے۔ یہ افسوسناک واقعہ ساون کے تیسرے پیر کے موقع پر پیش آیا، جب بڑی تعداد میں عقیدت مند جل چڑھانے اور عبادت کیلئے اشوک دھام مندر پہنچے تھے۔ ابتدائی اندازوں کے مطابق مندر کے اطراف تقریباً پچاس ہزار افراد جمع تھے۔

صبح سویرے اچانک بھیڑ بڑھ گئی

ضلع مجسٹریٹ شیلندر کمار کے مطابق پیر کی صبح تقریباً ساڑھے چھ بجے سے پونے سات بجے کے درمیان دو ٹرینیں قریبی ریلوے اسٹیشن پر پہنچیں، جس کے بعد مندر کی طرف جانے والے راستے پر عقیدت مندوں کی تعداد اچانک بہت بڑھ گئی۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ساون کے تیسرے پیر کے موقع پر بڑی تعداد میں لوگوں کی آمد کا اندازہ پہلے سے تھا اور اسی حساب سے انتظامات کئے گئے تھے، تاہم لوگوں کی تعداد توقع سے کہیں زیادہ بڑھ گئی اور صورت حال قابو سے باہر ہونے لگی۔

رکاوٹیں ٹوٹنے کے بعد بھگدڑ مچی

ضلعی انتظامیہ کے مطابق شدید دباؤ کے باعث ایک جانب لگائی گئی حفاظتی رکاوٹ ٹوٹ گئی۔ اس کے بعد کئی افراد ایک دوسرے پر گر پڑے اور چند ہی لمحوں میں وہاں افراتفری پھیل گئی۔ عینی شاہدین کے مطابق مندر کی جانب جانے والے راستے پر پہلے ہی بہت زیادہ بھیڑ موجود تھی۔ اچانک لوگوں کے آگے بڑھنے اور پیچھے سے دباؤ آنے کے باعث متعدد افراد اپنا توازن برقرار نہ رکھ سکے اور زمین پر گر گئے۔ اس کے بعد لوگوں میں خوف پھیل گیا اور بھگدڑ کی صورت حال پیدا ہوگئی۔

یہ بھی پڑھئے: ’اسکول ٹھیک کرو مہم‘ کوملک گیرحمایت

بجلی کے تار یا کھمبے سے متعلق اطلاعات

حادثے کی ابتدائی وجوہات میں بجلی کے تار یا کھمبے سے متعلق واقعہ بھی سامنے آیا ہے۔ پولیس حکام کے مطابق ایک بجلی کا تار گرنے یا کھمبا گرنے کی اطلاع کے بعد لوگوں میں خوف پھیلا۔ بعض اطلاعات کے مطابق یہ افواہ بھی پھیل گئی کہ بجلی کا کرنٹ لگ رہا ہے، جس کے بعد لوگ گھبرا کر مختلف سمتوں میں بھاگنے لگے۔ تاہم پولیس نے واضح کیا ہے کہ حادثے کی حتمی وجہ ابھی زیرِ تفتیش ہے اور بجلی کے واقعے سے متعلق تمام دعووں کی تصدیق کی جا رہی ہے۔

سات افراد جاں بحق

لکھی سرائے کے پولیس حکام کے مطابق حادثے میں اب تک ۷؍ افراد کی موت کی تصدیق ہوئی ہے۔ ابتدائی اطلاعات میں ہلاکتوں کی تعداد ۶؍ بتائی گئی تھی، لیکن بعد میں یہ تعداد بڑھ کر ۷؍ ہوگئی۔ زخمیوں میں خواتین سمیت متعدد عقیدت مند شامل ہیں۔ ۱۲؍ سے زائد زخمیوں کو اسپتال پہنچایا گیا ہے۔ حکام کی جانب سے زخمیوں کی حالت اور ہلاکتوں سے متعلق مزید تفصیلات جمع کی جا رہی ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: آسٹریلیا: بونڈی بیچ حملے کے بعد نیو ساؤتھ ویلز میں بندوق واپسی اسکیم

امدادی کارروائی شروع

واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس، ضلعی انتظامیہ اور امدادی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں۔ لوگوں کو بھیڑ سے نکالنے اور زخمیوں کو اسپتال منتقل کرنے کا کام فوری طور پر شروع کیا گیا۔ ضلعی مجسٹریٹ شیلندر کمار کے مطابق ابتدائی طور پر ۱۰؍ سے ۱۵؍ زخمی افراد کو فوری طور پر اسپتال پہنچایا گیا۔ انتظامیہ نے موقع پر اضافی اہلکار بھی تعینات کئے تاکہ مزید بھگدڑ کو روکا جا سکے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK