بیورو آف سول ایوی ایشن سیکوریٹی (بی سی اے ایس) کاروبار میں آسانی کے لیے عمل کو ڈجیٹل بنانے، ہوائی اڈوں پر سیکوریٹی زون سے باہر تجارتی اکائیوں کے لیے ضوابط کو آسان بنانے اور سکیورٹی کلیئرنس میں لگنے والے وقت کو کم کرنے کے لیے پہل قدمیاں کر رہا ہے۔
EPAPER
Updated: October 02, 2026, 4:05 PM IST | New Delhi
بیورو آف سول ایوی ایشن سیکوریٹی (بی سی اے ایس) کاروبار میں آسانی کے لیے عمل کو ڈجیٹل بنانے، ہوائی اڈوں پر سیکوریٹی زون سے باہر تجارتی اکائیوں کے لیے ضوابط کو آسان بنانے اور سکیورٹی کلیئرنس میں لگنے والے وقت کو کم کرنے کے لیے پہل قدمیاں کر رہا ہے۔
حکومت نے ہوائی اڈوں پر کام کرنے والے لوگوں اور کمپنیوں کے لیے سیکوریٹی کلیئرنس کے عمل کو آسان بنانے کے لیے جمعرات کے روز کئی اصلاحات کا اعلان کیا۔ سول ایوی ایشن کے سکریٹری سمیر کمار سنہا نے دہلی میں راجیو گاندھی اڑان بھون میں ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ بیورو آف سول ایوی ایشن سیکوریٹی (بی سی اے ایس) کاروبار میں آسانی کے لیے عمل کو ڈجیٹل بنانے، ہوائی اڈوں پر سیکوریٹی زون سے باہر تجارتی اکائیوں کے لیے ضوابط کو آسان بنانے اور سیکوریٹی کلیئرنس میں لگنے والے وقت کو کم کرنے کے لیے پہل قدمیاں کر رہا ہے۔
ابھی ہوائی اڈوں پر نو مختلف زمروں میں الگ الگ سیکوریٹی کلیئرنس دیے جاتے ہیں۔ ان میں مجاز ایجنٹ، گراؤنڈ ہینڈلر، کیٹرنگ، ایئرپورٹ آپریٹر، ریگولیٹڈ ایجنٹ، معاون سروس فراہم کنندہ، خوردونوش کی خدمات سے جڑے لوگ، نجی سیکوریٹی ایجنٹ اور ایندھن کی فراہمی سے متعلق لوگ شامل ہیں۔ اب کسی ایک زمرے میں کسی شخص کو جاری سیکوریٹی کلیئرنس تمام زمروں کے لیے قابلِ قبول ہوگا۔
یہ بھی پڑھئے:عالیہ بھٹ ارتھ شاٹ پرائز ۲۰۲۶ء کی ممبئی تقریب میں شرکت کریں گی
ہوائی اڈے پر کام کرنے والی کسی کمپنی کے لیے سیکوریٹی کلیئرنس اب پانچ سال کے لیے کارآمد ہوگا۔ سیکوریٹی کلیئرنس کا عمل جاری رہنے کے دوران درمیان میں ٹھیکہ ختم ہونے پر بھی عمل بیچ میں نہیں روکا جائے گا۔ بی سی اے ایس کے ہر علاقائی دفتر میں ہر منگل کے روز اوپن ہاؤس میں لوگ اپنے مسائل رکھ سکیں گے۔ ہوائی اڈوں پر تجارتی ایریا کے لیے اور تجارتی ایریا کی الاٹمنٹ کے لیے اب بی سی اے ایس کی منظوری کی ضرورت نہیں ہوگی، یہ صرف سیکوریٹی سے متعلق امور تک محدود رہے گی۔
یہ بھی پڑھئے:پاور پلے کے بعد ہم پر دباؤ نہیں تھا: شبھ من گِل
منظور شدہ تجارتی ایریا میں سرگرمیوں کی تبدیلی کے لیے اب الگ سے سیکوریٹی کلیئرنس کی ضرورت نہیں ہوگی۔ ایسے فیصلے جو سیکوریٹی سے نہیں جڑے ہیں، ہوائی اڈے کے آپریٹر خود کر سکیں گے۔ سنہا نے بتایا کہ ہوائی اڈے پر داخلے کے لیے جاری ہونے والے پرمٹ (اے ای پی) کے لیے اسی مہینے ایک پورٹل جاری کیا جائے گا جس پر آن لائن درخواست دی جا سکے گی۔ اس سے کافی وقت کی بچت ہوگی اور جانچ نیز کلیئرنس کے عمل میں تیزی آئے گی۔ مختلف ہوائی اڈوں پر اوسطاً ہر سال ۱۵؍ لاکھ اے ای پی جاری کیے جاتے ہیں۔ ان اصلاحات کے بعد ملک کے ہوائی اڈوں پر تجارتی سرگرمیوں کے لیے سیکوریٹی کلیئرنس تیز ہونے کی امید ہے۔