Updated: January 07, 2026, 10:01 PM IST
| Seoul
جنوبی کوریا کے دارالحکومت سیول میں اسرائیلی سفارتخانے کے سامنے شہری ۵۵۱؍ دنوں سے فلسطین کے ساتھ یکجہتی کے اظہار میں ’’یک شخصی‘‘ احتجاج کر رہے ہیں۔ ہر دن ایک الگ شخص رضاکارانہ طور پر کھڑا ہو کر احتجاج جاری رکھتا ہے، جس میں اسرائیل کے خلاف آواز اٹھائی جاتی ہے۔
جنوبی کوریا کے دارالحکومت سیول میں اسرائیلی سفارتخانے کے سامنے فلسطینی عوام کے حق میں طویل مدت سے ایک منفرد احتجاج جاری ہے، جو اس وقت ۵۵۱؍ ویں دن میں داخل ہوچکا ہے۔ اس احتجاج کی انفرادیت یہ ہے کہ اسرائیلی سفارتخانے کے باہر روزانہ ایک شخص تنہا کھڑا ہوتا ہے اور خود کو احتجاج کیلئے وقف کرتا ہے تاکہ فلسطین کے ساتھ عالمی یکجہتی کا پیغام پہنچایا جا سکے۔ خیال رہے کہ یہ احتجاج ایک بڑی سول سوسائٹی تعاون کے تحت منظم کیا گیا ہے، جس کا نام ’’ارجنٹ ایکشن بائی کورین سول سوسائٹی اِن سولیڈیریٹی وِد فلسطین‘‘ ہے۔ اس اتحاد میں کوریا کی ۲۰۰؍ سے زائد غیر سرکاری تنظیمیں شامل ہیں جو انسانیت، انصاف اور عالمی حقوق کیلئےکام کرتی ہیں۔
احتجاج کی بنیادی جگہ اسرائیلی سفارتخانے کے سامنے ہے، جہاں روزانہ ایک فرد کھڑا ہو کر ’’فلسطینیوں کے خلاف نسل کشی بند کرو‘‘، اور ’’انسانی حقوق کا احترام کرو‘‘ جیسے نعرے اور پیغامات اٹھائے کھڑا رہتا ہے۔ ان پیغامات میں فارسی، عربی اور انگریزی سمیت متعدد زبانوں میں یکجہتی کے مطالبات درج ہوتے ہیں تاکہ عالمی برادری کے دل و دماغ میں فلسطین کے حوالے سے حساسیت اور شعور اجاگر کیا جا سکے۔ اس احتجاج میں حصہ لینے والے رضاکار کہتے ہیں کہ وہ ’’عالمی انصاف‘‘ اور ’’غیر مسلح شہریوں کی حفاظت‘‘ کیلئے آواز اٹھا رہے ہیں، اور ان کا مقصد پرامن احتجاج کے ذریعے انسانی اقدار کی پاسداری ہے، کوئی سیاسی تصادم نہیں۔ سوشل میڈیا پر وائرل ایک نوجوان رضاکار کا کہنا تھا کہ ’’جب سے مَیں نے فلسطین پر ہونے والے ظلم و ستم کے بارے میں سنا ہے، مجھے احساس ہوا کہ ان کے حق میں آواز اٹھانی چاہئے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: وینزویلا ۳۰؍ سے ۵۰؍ملین بیرل تیل ہمارے حوالے کرے گا: ٹرمپ، روڈریگز نےامریکی تسلط کا بیانیہ مسترد کیا
واضح رہے کہ یہ احتجاج نومبر ۲۰۲۳ء میں اس وقت شروع ہوا جب اقوام متحدہ کے ماہرین اور حقوق انسانی تنظیموں نے خبردار کیا کہ غزہ میں اسرائیلی کاروائیاں ممکنہ طور پر نسل کشی کی شکل اختیار کر رہی ہیں۔ اس کے بعد سے اب تک احتجاج میں مختلف عمروں، پیشوں اور پس منظر کے افراد شامل ہو چکے ہیں جبکہ ہر دن ایک نیا چہرہ اپنی باری پر احتجاج میں حصہ لیتا ہے۔اس دوران سول سوسائٹی نے بڑے اجتماع، ویڈیوز، پوسٹر کیمپین اور عوامی پروگرام بھی منعقد کئے ہیں تاکہ مزید لوگوں کو فلسطین کے معاملے پر آگاہی ملے۔ ان گروپوں کا کہنا ہے کہ ان کا سب سے بڑا ہدف یہ ہے کہ جنوبی کوریا حکومت بھی اسرائیل کے ساتھ تعلقات میں انسانی حقوق کو مدنظر رکھے، اور ممکنہ طور پر اسرائیل کو مسلح تعاون فراہم کرنے سے باز رہے۔
یہ بھی پڑھئے: زوماٹو اور بلنک اِٹ کی پروموٹر کمپنی پر ۷ء۳؍کروڑ روپے کا جی ایس ٹی نوٹس
احتجاج کے منتظمین نے اظہار کیا کہ وہ جنوبی کوریا کی حکومت پر زور دیتے ہیں کہ وہ عالمی انسانی قوانین اور اقوام متحدہ کے فیصلوں کی پابندی کرے۔ ان کے مطالبات میں یہ بھی شامل ہے کہ حکومت انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف واضح موقف اختیار کرے اور ایسے اقدامات کرے جو انصاف اور امن کو فروغ دیں۔ احتجاج کے باوجود، بعض اوقات سفارتخانے کے عملے کی طرف سے مزاحمت یا تنقید بھی سامنے آئی ہے، جس میں مظاہرین کے پوسٹر اتارنے یا احتجاج کے دوران رجسٹرڈ جھڑپوں کے دعوے شامل ہیں۔ تاہم مظاہرین کا موقف ہے کہ وہ ہمیشہ پرامن طریقے سے احتجاج کرتے ہیں اور کسی بھی قسم کے تشدد میں ملوث نہیں۔
یہ بھی پڑھئے: رواں مالی سال میں جی ڈی پی کی شرح نمو۴ء۷؍ فیصد رہنے کا امکان
یہ احتجاج نہ صرف جنوبی کوریا بلکہ عالمی سطح پر بھی ایک منفرد علامت بن چکا ہے۔ مظاہرین کا موقف ہے کہ اگرچہ یہ آواز ایک شخص کے ذریعے اٹھائی جاتی ہے لیکن اس کے پیچھے ہزاروں لوگوں کے احساسات اور انسانی ہمدردی چھپی ہے، جو ظلم و ستم کے خلاف اپنی بات پہنچانا چاہتے ہیں۔ اس طویل احتجاج نے انسانی حقوق اور عالمی یکجہتی کے موضوعات پر بحث کو بڑھا دیا ہے، اور ہر روز مختلف شہریوں کا احتجاج میں حصہ لینا اس عزم کی علامت سمجھا جا رہا ہے کہ وہ انسانی حقوق، امن اور انصاف کے اصولوں کو مضبوطی سے پکڑے رہیں گے، چاہے وہ تنہا ہی کیوں نہ ہو۔