• Tue, 27 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

سیپ بلاٹر کا امریکی پالیسیوں کے خلاف بائیکاٹ کا اعلان، عالمی سطح پر کھلبلی!

Updated: January 27, 2026, 7:11 PM IST | Zurich

فٹ بال کی دنیا کے سب سے طاقتور اور متنازع سابقہ شخصیت، سیپ بلاٹر نے ایک بار پھر عالمی فٹ بال کے ایوانوں میں زلزلہ برپا کر دیا ہے۔ فیفا کے سابق صدر نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی سخت گیر پالیسیوں کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے فیفا ورلڈ کپ ۲۰۲۶ء کے بائیکاٹ کی کھلی حمایت کر دی ہے۔

Sepp Blatter.Photo:INN
سیپ بلاٹر۔ تصویر:آئی این این

فٹ بال کی دنیا کے سب سے طاقتور اور متنازع سابقہ شخصیت، سیپ بلاٹر نے ایک بار پھر عالمی فٹ بال کے ایوانوں میں زلزلہ برپا کر دیا ہے۔ فیفا کے سابق صدر نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی سخت گیر پالیسیوں کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے فیفا ورلڈ کپ ۲۰۲۶ء کے بائیکاٹ کی کھلی حمایت کر دی ہے۔ سیپ بلاٹر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس  پر سوئس ماہرِ قانون مارک پیتھ کے اس مؤقف کی تائید کی ہے جس میں شائقین کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ امریکہ جانے سے گریز کریں۔
مارک پیتھ کے مطابق، امریکہ پہنچنے والے فٹ بال دیوانوں کو سخت امیگریشن رویوں، غیر ضروری تفتیش اور ذرا سی ناپسندیدگی پر ملک بدری کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔سینیگال، آئیوری کوسٹ، ایران اور ہیٹی جیسے ممالک کے شائقین کے لیے امریکہ کے دروازے تقریباً بند نظر آ رہے ہیں، جس نے ٹورنامنٹ کی روح پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔
صرف بلاٹر ہی نہیں، بلکہ یورپ اور افریقہ کے فٹ بال حلقوں میں بھی امریکہ کے خلاف غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔ جرمن فٹ بال فیڈریشن کے نائب صدر اوکے گوٹِلش نے مطالبہ کیا ہے کہ ورلڈ کپ کے بائیکاٹ پر سنجیدگی سے غور کیا جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ جب سیاسی بنیادوں پر اولمپکس کا بائیکاٹ ہو سکتا ہے تو اس ورلڈ کپ کا کیوں نہیں؟
جنوبی افریقہ کے سیاسی رہنما جولیئس ملیما نے اپنی قومی ٹیم سے ورلڈ کپ سے دستبردار ہونے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ انسانی حقوق کی پامالیوں پر خاموشی بزدلی ہے۔فیفا ورلڈ کپ ۲۰۲۶ء امریکہ، کنیڈا اور میکسیکو کی مشترکہ میزبانی میں۱۱؍ جون سے شروع ہونا ہے، لیکن ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے بعض ممالک پر سفری پابندیوں نے اس میگا ایونٹ کو سیاست کی نذر کر دیا ہے۔ برطانیہ اور نیدرلینڈز میں بھی شائقین اس بائیکاٹ مہم کا حصہ بن رہے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر بڑی ٹیموں نے دستبرداری کا فیصلہ کیا تو یہ تاریخ کا سب سے کمزور اور متنازع ورلڈ کپ ثابت ہو سکتا ہے۔

 
 
 
 
 
View this post on Instagram
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 

A post shared by TRT Afrika Français (@trtafrikafr)

فیفا ویمنز ورلڈ کپ  ۲۰۲۷ء: آفیشل لوگو اور برانڈ کی رونمائی
 فٹ بال کی عالمی تنظیم فیفا  نے برازیل کے شہر ریو ڈی جینیرو میں ایک پروقار تقریب کے دوران فیفا ویمنز ورلڈ کپ ۲۰۲۷ء کے آفیشل لوگو، برانڈ اور نعرے کی نقاب کشائی کر دی ہے۔ جنوبی امریکہ میں پہلی بار منعقد ہونے والے اس میگا ایونٹ کی لانچنگ ریو کے عالمی شہرت یافتہ ساحل کوپاکابانا پر کی گئی۔ایونٹ کا باضابطہ نعرہ (سلوگن) ’’گوایپک‘‘’’GO EPIC‘‘ رکھا گیا ہے، جو مداحوں کو ایک عظیم الشان مہم جوئی کا حصہ بننے کی ترغیب دیتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے:کرن جوہر نے سوشل میڈیا سے بریک لیا

 نیا نشان برازیل کے قومی پرچم کے رنگوں اور فٹ بال پچ کی جیومیٹری سے متاثر ہے۔ ا تقریب میں برازیلی `سامبا ردھم اور افروبرازیلین  ثقافت سے سجی مخصوص موسیقی بھی متعارف کرائی گئی۔ جیانی انفینٹینو (صدر فیفا) نے کہا کہ برازیل وہ ملک ہے جو فٹ بال میں سانس لیتا ہے۔ یہاں کا جوش و خروش ثابت کرتا ہے کہ یہ ٹورنامنٹ خواتین کے کھیل کی تاریخ میں ایک یادگار موڑ ثابت ہوگا۔ ‘‘

یہ بھی پڑھئے:ٹی ۲۰؍ ورلڈ کپ: اسکاٹ لینڈ کے اسکواڈ کا اعلان، افغان نژاد بولر پہلی بار شامل


برازیل کی مایہ ناز فٹ بالر مارٹا نے اپنے خصوصی ویڈیو پیغام میں کہا کہ برازیل خواتین کے فٹ بال کو فخر کے ساتھ گلے لگانے کے لیے تیار ہے اور یہ ایونٹ نئے ہیروز کو جنم دے گا۔ لانچنگ سے قبل ریو کی مشہور شاہراہ ایوینیڈا اٹلانٹیکا  کو روایتی اسٹریٹ پینٹنگ  کے ذریعے ایک بڑے کینوس میں بدل دیا گیا، جہاں فٹ بال اور ثقافتی رنگوں نے پورے شہر میں ورلڈ کپ کا سماں باندھ دیا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK