• Mon, 26 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

سربیا: طلبہ تحریک نے ووچیچ کے ۱۴؍ سالہ اقتدار کو ہلا دیا، پارلیمانی انتخابات میں شکست

Updated: October 26, 2026, 2:04 PM IST | Belgrade

تقریباً ۲؍ سال تک بدعنوانی اور حکومتی جواب دہی کے خلاف جاری مظاہروں کے بعد طلبہ کی تحریک انتخابی میدان میں بھی کامیاب ہوگئی؛ ۲۰۲۴ء میں ریلوے اسٹیشن کی چھت گرنے سے ۱۶؍ افراد کی موت نے احتجاج کو جنم دیا تھا، اب ووچیچ کی جماعت ۲۵۰؍ رکنی پارلیمان میں تقریباً ۱۰۵؍ نشستوں تک محدود رہنے کا امکان ہے۔

 Aleksandar Vučić. Picture: X
الیگزینڈر ووکیچ۔ تصویر: ایکس

سربیا کی سیاست میں ایک اہم تبدیلی سامنے آئی ہے، جہاں ایک طویل عرصے سے ملکی اقتدار پر غالب رہنے والے الیگزینڈر ووچیچ نے پارلیمانی انتخابات میں طلبہ کی قیادت میں قائم سیاسی اتحاد کے ہاتھوں شکست تسلیم کرلی ہے۔ ۲۵؍ اکتوبر کو ہونے والے قبل از وقت انتخابات کے ابتدائی اندازوں کے مطابق طلبہ کی حمایت یافتہ ’’اسٹوڈنٹ لسٹ‘‘ کو ۲۵۰؍ رکنی پارلیمان میں ۱۳۵؍ سے ۱۴۰؍ نشستیں مل سکتی ہیں، جبکہ ووچیچ کی سربیئن پروگریسو پارٹی (ایس این ایس) کے حصے میں تقریباً ۱۰۵؍ نشستیں آنے کا امکان ظاہر کیا گیا۔ ووچیچ نے اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا، “یہ واضح ہے کہ ہم یہ انتخابات ہار گئے ہیں۔ اسٹوڈنٹ لسٹ جیت گئی ہے۔” یہ اعتراف اس سیاسی رہنما کے لیے بڑا دھچکا ہے جس نے ۲۰۱۴ءسے وزیر اعظم یا صدر کی حیثیت سے سربیا کی سیاست پر نمایاں اثر قائم رکھا تھا۔ تاہم، یہ نشستوں کے ابتدائی تخمینے ہیں؛ انہیں حتمی سرکاری نتائج کے طور پر پیش نہیں کیا جانا چاہیے۔

انتخابی نتیجے کے سامنے آنے کے بعد دارالحکومت بلغراد سمیت مختلف مقامات پر طلبہ تحریک کے حامی سڑکوں پر نکل آئے۔ لوگوں نے گاڑیوں کے ہارن بجا کر، نعرے لگا کر اور جشن مناکر اس کامیابی کا استقبال کیا۔ ووٹنگ میں حصہ لینے والوں کی تعداد بھی غیر معمولی رہی۔ انتخابی حکام اور رائے شماری کرنے والے اداروں کے اندازوں کے مطابق ووٹ ڈالنے کی شرح تقریباً ۷۰؍ فیصد کے قریب پہنچی، جو ۱۹۹۲ء میں یوگوسلاویہ کے ٹوٹنے کے بعد بلند ترین سطح بتائی گئی۔ اس بڑی شرکت نے ظاہر کیا کہ انتخابات میں محض جماعتوں کے درمیان مقابلہ نہیں تھا، بلکہ عوام کی ایک بڑی تعداد سربیا کے سیاسی مستقبل کے بارے میں فیصلہ کرنے کے لیے متحرک ہوئی تھی۔ 

یہ بھی پڑھئے:برازیل: لولا دا سلوا کی تاریخی واپسی، چوتھی بار صدر منتخب

حادثے سے شروع ہونے والا احتجاج ملک گیر تحریک کیسے بنا؟

اس تحریک کی جڑیں یکم نومبر ۲۰۲۴ء کے اس حادثے میں ملتی ہیں، جب سربیا کے شمالی شہر نووی ساد میں ریلوے اسٹیشن کی چھت کا ایک حصہ گرنے سے۱۶؍ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ حادثے کے بعد طلبہ نے شفاف تحقیقات، ذمہ داروں کے احتساب اور سرکاری اداروں میں جواب دہی کا مطالبہ کیا۔ ابتدائی طور پر یہ احتجاج حادثے کی تحقیقات اور انتظامی غفلت کے خلاف تھا، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ اس کا دائرہ وسیع ہوتا گیا۔ مظاہرین نے حکومت پر بدعنوانی، اداروں میں سیاسی مداخلت اور اقتدار کو اپنے حق میں استعمال کرنے کے الزامات عائد کیے۔ ووچیچ اور ان کی جماعت نے ان الزامات کو مسترد کیا۔

یونیورسٹیوں کے طلبہ کی قیادت میں شروع ہونے والے مظاہروں میں اساتذہ، ڈاکٹروں، کارکنوں اور سماج کے دوسرے طبقات نے بھی حصہ لیا۔ تحریک نے بالآخر انتخابی سیاست میں قدم رکھا اور ’’اسٹوڈنٹ لسٹ‘‘ کے نام سے امیدوار میدان میں اتارے۔ اس فہرست میں روایتی سیاست دانوں کے بجائے یونیورسٹی کے اساتذہ، ڈاکٹر، فن کار، کسان اور مختلف پیشوں سے تعلق رکھنے والے افراد شامل تھے۔ تحریک کے نمایاں رہنماؤں میں نووی ساد کی میڈیکل فیکلٹی کے پروفیسر اور ماہر امراضِ قلب الیجا سردانووچ شامل ہیں۔

طلبہ اتحاد نے بدعنوانی کے خلاف کارروائی، سرکاری اداروں کو سیاسی اثر سے آزاد کرنے، قانون کی حکمرانی بحال کرنے اور شہری حقوق کے تحفظ کو اپنے اہم مطالبات میں شامل کیا۔ اس نے ایسے ووٹروں کو بھی متوجہ کرنے کی کوشش کی جو عام طور پر انتخابات میں حصہ نہیں لیتے تھے۔ ووچیچ کی جماعت کے پاس ایک منظم سیاسی ڈھانچا اور مستحکم ووٹر بنیاد تھی، لیکن طلبہ تحریک نے طویل احتجاج کے دوران اپنی حمایت کو وسیع کیا اور اسے انتخابی طاقت میں تبدیل کرنے کی کوشش کی۔

یہ بھی پڑھئے: مسجد الحرام کے سربراہ کی مکہ، مدینہ پر حوثی حملوں کی مذمت

ووچیچ کا سیاسی سفر اور اقتدار سے پسپائی

الیگزینڈر ووچیچ ۲۰۱۲ء سے سربیا کی حکومت میں اہم عہدوں پر فائز رہے۔ وہ ۲۰۱۴ء میں وزیر اعظم بنے اور ۲۰۱۷ء میں صدر منتخب ہوئے۔ ۲۰۲۲ء میں دوبارہ صدر منتخب ہونے کے بعد ان کی مدت ۲۰۲۷ء تک جاری رہنی تھی، لیکن مسلسل احتجاج کے دباؤ کے درمیان انہوں نے ستمبر ۲۰۲۶ء میں صدارت سے استعفیٰ دے کر قبل از وقت پارلیمانی انتخابات کا راستہ اختیار کیا۔ ان کا مقصد اپنی سیاسی جماعت کے ذریعے حکومت میں واپسی اور وزیر اعظم کا منصب حاصل کرنا تھا۔

ووچیچ کے حامی ان کے دور کو معاشی ترقی، نئی شاہراہوں، ریلوے، اسکولوں اور اسپتالوں کی تعمیر سے جوڑتے ہیں۔ ان کے دور میں سربیا کی معیشت میں توسیع اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافے کے اعدادوشمار بھی پیش کیے جاتے رہے ہیں۔ تاہم، حکومت کے ناقدین کا کہنا ہے کہ ترقی کے ان دعوؤں کے باوجود بدعنوانی، زندگی کے بڑھتے اخراجات اور ریاستی اداروں پر سیاسی اثرورسوخ جیسے مسائل برقرار رہے۔ یہی معاملات طلبہ تحریک کے احتجاج اور انتخابی مہم میں نمایاں رہے۔ رائٹرز کے مطابق ۲۰۱۲ء سے سربیا میں بے روزگاری کی شرح میں کمی اور معیشت کے مجموعی حجم میں اضافہ ہوا، لیکن عام شہریوں کے معیارِ زندگی اور مہنگائی سے متعلق سوالات سیاسی بحث کا حصہ بنے رہے۔

انتخابات سے پہلے ووچیچ نے طلبہ کو حکومت مخالف سرگرمیوں کے لیے بیرونی عناصر کی حمایت حاصل ہونے کا الزام بھی دیا تھا، جسے تحریک نے مسترد کردیا۔ انسانی حقوق کے کارکنوں اور حکومت کے ناقدین نے احتجاج کے دوران دباؤ اور جبر میں اضافے کی شکایات بھی کیں، جبکہ ووچیچ اور ان کی جماعت نے مخالفین کے خلاف جبر، بدعنوانی اور جاسوسی کے الزامات کو بارہا رد کیا۔ انتخابی مہم کے دوران ان الزامات پر اختلاف برقرار رہا، اس لیے انہیں ثابت شدہ حقائق کے بجائے فریقین کے دعوؤں کے طور پر ہی دیکھا جانا چاہیے۔

یہ بھی پڑھئے: اسرائیل کا مقبوضہ مغربی کنارے کے الخلیل سے۲۰۰۰؍ فلسطینیوں کی جبری بےدخلی کا اعتراف

نئی حکومت کے سامنے بڑے چیلنج

طلبہ اتحاد کی انتخابی کامیابی کے باوجود یہ واضح نہیں کہ نئی حکومت کی قیادت کون کرے گا اور تحریک اپنے وعدوں کو کس طرح عملی شکل دے گی۔ اس کے امیدواروں کی بڑی تعداد روایتی قومی سیاست میں معروف نہیں، جبکہ بدعنوانی کے خلاف کارروائی، پولیس اور سکیورٹی اداروں میں اصلاحات اور قانون کی حکمرانی کی بحالی جیسے وعدوں پر عمل درآمد کے لیے مضبوط انتظامی صلاحیت درکار ہوگی۔

خارجہ پالیسی بھی نئی قیادت کے لیے ایک اہم امتحان ہوگی۔ سربیا کے چین کے ساتھ سرمایہ کاری اور معاشی روابط ہیں، روس اس کا روایتی اتحادی اور قدرتی گیس کا اہم فراہم کنندہ ہے، جبکہ یورپی یونین اس کی سب سے بڑی تجارتی شراکت دار ہے۔ طلبہ تحریک نے ملکی اداروں کی اصلاح اور بدعنوانی کے خاتمے پر زیادہ زور دیا ہے، لیکن چین، روس اور یورپی یونین کے ساتھ تعلقات کے بارے میں اس کی آئندہ پالیسی کے کئی پہلو ابھی واضح نہیں۔

یورپی کمیشن کی صدر ارسولا فان ڈیر لاین اور یورپی یونین کے دیگر عہدیداروں نے طلبہ اتحاد کو کامیابی پر مبارک باد دی اور قانون کی حکمرانی، ذرائع ابلاغ کی آزادی، بدعنوانی کے خلاف اقدامات اور جمہوری اداروں کو مضبوط بنانے میں تعاون کی پیش کش کی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سربیا کی سیاسی تبدیلی پر صرف ملک کے اندر ہی نہیں بلکہ پورے یورپ میں نظر رکھی جارہی ہے۔

انتخابی عمل کے دوران بے ضابطگیوں کی شکایات بھی سامنے آئیں۔ آزاد انتخابی نگرانی کرنے والے ادارے سی آر ٹی اے نے کہا کہ اس کے مبصرین نے جن ۵۰۰؍ پولنگ اسٹیشنوں کی نگرانی کی، ان میں سے تقریباً ایک تہائی پر ووٹروں یا انتخابی عملے پر دباؤ ڈالنے کے واقعات ریکارڈ کیے۔ ایک دوسرے انتخابی نگرانی کے ادارے سی ای ایس آئی ڈی کو بھی ووٹ کی رازداری، بیلٹ پیپر کی تصاویر لینے اور ووٹ ڈالنے کے طریقۂ کار سے متعلق ممکنہ بے ضابطگیوں کی سیکڑوں شکایات موصول ہوئیں۔ ان شکایات کی موجودگی انتخابی عمل کی نگرانی اور حتمی نتائج کی شفافیت کو اہم بناتی ہے۔

سربیا کی سیاست میں یہ نتیجہ اس لیے بھی اہم ہے کہ طلبہ نے تقریباً دو سال کی سڑکوں پر جاری تحریک کو انتخابی مہم میں تبدیل کرکے ایک تجربہ کار حکمران جماعت کو پارلیمان میں اکثریت سے محروم کرنے کی پوزیشن میں پہنچا دیا ہے۔ اب اصل امتحان یہ ہوگا کہ تحریک اپنی انتخابی کامیابی کو ایک مستحکم حکومت، ادارہ جاتی اصلاحات اور بدعنوانی کے خلاف قابلِ پیمائش اقدامات میں کس حد تک بدل پاتی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK