Inquilab Logo Happiest Places to Work

میرا بھائندر میں پانی کاسنگین بحران، شیو سینا شندے کا احتجاج

Updated: June 10, 2026, 4:07 PM IST | Sajid Mehmood Shaikh | Mumbai

میرا بھائندر شہر میں پانی کی شدید قلت اور کارپوریشن انتظامیہ کی مبینہ لاپروائی کے خلاف منگل کو شیو سینا شندے کی جانب سے میونسپل کارپوریشن کے صدر دفتر پر ایک مظاہرہ (ٹمریل آندولن) کیا گیا۔

Water Crisis.Photo:INN
پانی کا بحران۔ تصویر:آئی این این
میرا بھائندر شہر میں پانی کی شدید قلت اور کارپوریشن انتظامیہ کی مبینہ لاپروائی کے خلاف منگل کو شیو سینا شندے کی جانب سے میونسپل کارپوریشن کے صدر دفتر پر ایک مظاہرہ (ٹمریل آندولن) کیا گیا۔ اس احتجاج میں خاص طور پر خواتین کی ایک بہت بڑی تعداد نے شرکت کی جو اپنے ہاتھوں میں پانی کے برتن اور پلے کارڈز لئے کارپوریشن انتظامیہ کے خلاف نعرے بازی کر رہی تھیں۔شیو سینا مہیلا اگھاڑی کی ضلع آرگنائزر نارویکر کی قیادت میں نکالے گئے اس احتجاجی مارچ میں مظاہرین نے کارپوریشن کمشنر سے فوری جواب طلبی کا مطالبہ کیا۔مظاہرین کی قیادت کرنے والے شیوسینا لیڈر وکرم پرتاپ سنگھ نے کارپوریشن انتظامیہ کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ میرا بھائندر کی موجودہ آبادی کے لحاظ سے ۲۱۶ ؍سے ۲۲۰ ؍یم ایل ڈی پانی کا کوٹہ منظور کیا گیا ہے۔ اس کے باوجود شہر کو روزانہ تقریباً ۸۰؍ سے ۱۰۰ ؍ایم ایل ڈی پانی کم سپلائی کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ:’’کارپوریشن کی جانب سے سرکاری طور پر صرف ۲۴ ؍گھنٹے پانی کی کٹوتی کا اعلان کیا جاتا ہے لیکن عملی طور پر شہریوں کو ۳۸ ؍ سے ۴۰ ؍گھنٹے تک پانی سے محروم رہنا پڑتا ہے جس کی وجہ سے عوام کا جینا محال ہو چکا ہے۔‘‘
 
 
شیو سینا لیڈر نے کارپوریشن کی کارکردگی پر سوال اٹھاتے ہوئے یاد دلایا کہ ۳؍ سال قبل  وزیر پرتاپ سرنائیک نے سوریا ڈیم پروجیکٹ سے اندرونی واٹر لائنیں بچھانے اور واٹر ٹینکوں کی تعمیر کے لئے ۵۰۰؍ کروڑ روپے کا فنڈ منظور کروایا تھا۔ کام تیزی سے جاری تھالیکن ایک نجی کمپنی کی مبینہ ہٹ دھرمی اور لاپروائی کی وجہ سے ٹینک کا کام ادھورا پڑا ہوا ہے۔ اس نامکمل پروجیکٹ کا خمیازہ آج میرا بھائندر کے شہریوں کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔کارپوریشن ہیڈ کوارٹر پر احتجاجی مظاہرے کے دوران شیو سینا کے عہدیداران نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ:’’پانی شہریوں کا بنیادی حق ہے، یہ کارپوریشن کا کوئی احسان نہیں ہے۔ ہم بلدیاتی حکام سے یہ پوچھنے آئے ہیں کہ نجی کمپنی کے خلاف کارروائی کیوں نہیں کی جا رہی؟ ٹینک کی تعمیر میں کون سی کمپنیاں رکاوٹ بن رہی ہیں ؟‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK