Updated: May 21, 2026, 2:51 PM IST
| Tal Aviv
اسرائیلی فورسیز کو ۲۰۲۵ء کے دوران جنسی حملوں اور ہراسانی سے متعلق ۲؍ ہزار ۴۲۰؍ شکایات موصول ہوئیں، جو گزشتہ برس کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ہے۔ یہ اعداد و شمار کابینہ کی خارجہ امور اور دفاعی کمیٹی کے اجلاس میں پیش کیے گئے۔ رپورٹ کے مطابق صرف ۴۲؍ ملزمان پر فرد جرم عائد کی گئی جبکہ بیشتر کیسز انتظامی کارروائیوں یا اندرونی تادیبی اقدامات تک محدود رہے۔
اسرائیلی فورسیز میں اندر جنسی ہراسانی اور جنسی حملوں کے واقعات میں مسلسل اضافے نے اسرائیل میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ منگل کو پارلیمنٹ کی خارجہ امور اور دفاعی کمیٹی میں پیش کیے گئے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ۲۰۲۵ء کے دوران فوج کو جنسی حملوں اور ہراسانی سے متعلق ۲۴۲۰؍ شکایات موصول ہوئیں، جو گزشتہ برس کے مقابلے میں تقریباً ۳۵۰؍ زیادہ ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق یہ شکایات فوج کے ’’یاہلوم‘‘ یونٹ کو موصول ہوئیں، جو فوج کے اندر جنسی بدسلوکی کے کیسز سے نمٹنے کے لیے قائم کیا گیا ہے۔ تاہم، رپورٹ نے اس بات پر بھی سوالات اٹھائے کہ اتنی بڑی تعداد میں شکایات کے باوجود کتنے کیسز میں حقیقی قانونی کارروائی کی گئی۔
یہ بھی پڑھئے : واشنگٹن کے اشارے کا انتظار، اسرائیل ایران پر حملے کیلئے تیار
رپورٹ کے مطابق ۷۰۰؍ سے زائد شکایات صرف ’’کمانڈ میٹنگز‘‘ یا اندرونی مشاورت کے ذریعے نمٹا دی گئیں، جبکہ صرف ۴۲؍ ملزمان کے خلاف فرد جرم عائد کی گئی۔ مزید ۲۱؍ افراد کو تادیبی کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑا، جن میں سرزنش، عہدوں سے ہٹانا یا انتظامی سزائیں شامل تھیں۔ میرو بن آری جو حزب اختلاف کی جماعت یش عتید سے تعلق رکھتی ہیں اور جنہوں نے اس معاملے پر پارلیمانی بحث کا آغاز کیا، نے اعداد و شمار کو ’’انتہائی تشویشناک‘‘ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ’’مجھے موصول ہونے والا ڈیٹا انتہائی فکر انگیز ہے، خاص طور پر جنسی ہراسانی کی شکایات میں نمایاں اضافے کے تناظر میں۔ فوج کو ہر ممکن طریقہ استعمال کرنا چاہیے تاکہ اس رجحان کو روکا جا سکے اور متاثرین کو بہتر تحفظ فراہم کیا جا سکے۔‘‘
چینل ۱۲؍ کی رپورٹ کے مطابق، صرف ۱۰؍ فیصد مقدمات ایسے تھے جنہیں وزارت داخلہ اور پولیس کی جانب سے فوجداری کارروائی کے لیے لیا گیا۔ مجموعی طور پر ۲۳۴؍ کیسز پولیس یا وزارت داخلہ کو منتقل کیے گئے، لیکن ان میں سے بھی صرف ۴۲؍ پر فرد جرم عائد ہوئی۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ ۴۸؍ شکایت کنندگان نے بعد میں اپنی شکایات واپس لے لیں، جسے ماہرین نے فوجی ماحول، دباؤ اور ممکنہ خوف سے جوڑا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق ۵۹؍ فیصد کیسز کو انتظامی سطح پر نمٹایا گیا، جن میں انضباطی کارروائیاں، وارننگز، سرزنش اور ملازمت سے برطرفی شامل تھیں۔ مزید ۲۲؍ فیصد کیسز کو ’’غیر حل شدہ‘‘ قرار دیا گیا جبکہ ۵؍ فیصد کو نامعلوم ’’بیرونی اداروں‘‘ کے حوالے کیا گیا۔
یہ بھی پڑھئے : سان ڈیاگو کی سب سے بڑی مسجد میں فائرنگ، ۵؍افراد ہلاک
رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فوج نے شکایات میں اضافے کے باوجود اپنے موجودہ اقدامات کا دفاع کیا اور دعویٰ کیا کہ گزشتہ برس رپورٹنگ سسٹم کو بہتر بنایا گیا، تکنیکی آلات متعارف کرائے گئے اور شکایت درج کرانے کے طریقہ کار کو آسان بنایا گیا۔ فوجی حکام کے مطابق انہی اصلاحات کی وجہ سے زیادہ متاثرین سامنے آنے لگے ہیں۔ تاہم، انسانی حقوق کے کارکنوں اور خواتین کے حقوق کی تنظیموں نے فوج کے اس مؤقف پر تنقید کی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ شکایات کے مقابلے میں فرد جرم کی انتہائی کم تعداد ظاہر کرتی ہے کہ متاثرین کو انصاف نہیں مل رہا۔
یہ بھی پڑھئے : غیر موجودگی کا مطلب خاموشی نہیں، میں بہت جلد بنگلہ دیش واپس لوٹوں گی: شیخ حسینہ
کنیسٹ کی ویب سائٹ کے مطابق، اسرائیلی فوج میں جنسی حملوں اور ہراسانی کے کیسز میں گزشتہ ایک دہائی کے دوران مسلسل اضافہ ہوا ہے۔ ۲۰۱۴ء میں ایسی ۶۶۸؍ شکایات درج ہوئی تھیں، جو ۲۰۲۴ء تک بڑھ کر ۲؍ ہزار ۹۲؍ ہو گئیں جبکہ ۲۰۲۵ء میں یہ تعداد ۲۴۲۰؍ تک پہنچ گئی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ فوج کے اندر طاقت کے عدم توازن، سخت درجہ بندی کے نظام اور شکایت کنندگان پر سماجی دباؤ کے باعث متاثرین اکثر مکمل قانونی کارروائی سے گریز کرتے ہیں۔ کئی سابق فوجی اہلکاروں اور خواتین کارکنوں نے اس بات پر زور دیا ہے کہ صرف اندرونی تادیبی اقدامات کے بجائے آزاد اور شفاف عدالتی نظام کی ضرورت ہے تاکہ متاثرین کو انصاف اور تحفظ فراہم کیا جا سکے۔