دھسئی فاریسٹ رینج میں لگنے والی مسلسل آگ نے نہ صرف سیکڑوں ایکڑ پرمحیط محفوظ جنگلات کو تباہ کر دیا ہے بلکہ محکمہ جنگلات کی کارکردگی پر بھی سوال کھڑا کر دیا ہے۔
شاہ پور میں گزشتہ دنوں لگنے والی آگ کو ایک خاتون نے بجھانے کی کوشش کی تھی-تصویر:آئی این این
شاہ پور کے دھسئی فاریسٹ رینج میں لگنے والی مسلسل آگ نے نہ صرف سیکڑوںایکڑ محفوظ جنگلات کو تباہ کر دیا ہے بلکہ محکمہ جنگلات کی کارکردگی پر بھی سنگین سوالیہ نشان کھڑا کر دیا ہے۔ کنہولی کے چکھل گاؤں نرسری علاقے میں پیش آنے والے آتشزدگی کے حالیہ واقعےنے پورے علاقے کو اپنی لپیٹ میں لے کر قیمتی جنگلاتی وسائل، نایاب پرندوں اور جنگلی جانوروں کے مسکن کو مکمل طور پر برباد کر دیا۔یہ صورتحال کسی ایک حادثے کا نتیجہ نہیں بلکہ طویل عرصے سے جاری لاپروائی، ناقص منصوبہ بندی اور بنیادی سہولیات کی کمی کا شاخسانہ معلوم ہوتی ہے۔
مقامی شہریوں کا کہنا ہے کہ فروری سے مسلسل آگ لگنے کے واقعات پیش آ رہے ہیں، مگر محکمہ جنگلات کی جانب سے نہ تو روک تھام کے سنجیدہ اقدامات کیے گئے اور نہ ہی زمینی سطح پر کوئی مضبوط حکمت عملی اختیار کی گئی۔ فروری کے آخری ہفتے میں لگی آگ پر وقتی قابو پانے کے بعد بھی انتظامیہ نے کوئی سبق نہیں سیکھا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ مارچ میں دوبارہ آگ بھڑک اٹھی اور بالآخر۶؍ اپریل کی شام کو لگنے والی آگ نے باقی ماندہ جنگلات کو بھی صفحۂ ہستی سے مٹا دیا۔
عینی شاہدین کے مطابق، واقعے کے وقت محکمہ جنگلات کا عملہ موقع پر موجود نہیں تھا، یہاں تک کہ ایک مقامی خاتون نے اپنی مدد آپ کے تحت آگ بجھانے کی کوشش کی، مگر وسائل کی کمی کے باعث وہ کامیاب نہ ہو سکیں۔ یہ منظر خود اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ زمینی حقیقت کیا ہے اور ذمہ دار ادارے کس حد تک غیر فعال ہو چکے ہیں۔مزید تشویشناک بات یہ ہے کہ ایک وسیع جنگلاتی علاقے کی نگرانی کے لیے محض چند ملازمین تعینات ہیں، جبکہ چکھل گاؤں نرسری میں گزشتہ ۲؍سال سے پودوں کی تیاری کی اجازت بھی نہیں دی گئی۔ پہلے جہاں موسمی مزدور آگ پر قابو پانے میں مددگار ثابت ہوتے تھے، اب ان کی تعداد بھی کم کر دی گئی ہے جس سے حالات مزید بگڑ گئے ہیں۔ درختوں کے تحفظ کیلئے حکومت کی جانب سے فراہم کردہ لاکھوں روپے کا فنڈ بھی اس آگ کی نذر ہو چکا ہے جو خود بدانتظامی کی ایک واضح مثال ہے۔ماہرین ماحولیات کے مطابق، اس طرح کی مسلسل آتشزدگی نہ صرف فضا کو آلودہ کرتی ہے بلکہ زمین کی زرخیزی کو بھی متاثر کرتی ہے جس سے آئندہ برسوں میں شجرکاری اور حیاتیاتی توازن دونوں خطرے میں پڑ سکتے ہیں۔
حیرت کی بات یہ ہے کہ سابق فاریسٹ رینج افسر درشن ٹھاکر کے دور میں یہی علاقہ مسلسل تین سال تک ’زیرو فائر زون‘ رہا مگر موجودہ انتظامیہ اس معیار کو برقرار رکھنے میں مکمل طور پر ناکام دکھائی دے رہا ہے۔
اب حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ عوامی حلقوں میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے اور اعلیٰ سطحی تحقیقات، ذمہ دار افسران کے خلاف کارروائی اور فوری مؤثر اقدامات کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے۔