Updated: April 09, 2026, 7:05 PM IST
| Washington
امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ جنگ بندی کے بعد دونوں ممالک نے کامیابی کے دعوے کیے ہیں، تاہم ماہرین اس کے نتائج پر سوالات اٹھا رہے ہیں۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے بیان اور مختلف تجزیہ کاروں کی آراء کے مطابق یہ معاہدہ پیچیدہ سفارتی توازن کی عکاسی کرتا ہے۔ ٹرمپ نے اسے مکمل کامیابی قرار دیا، جبکہ ایرانی حکام نے اپنی شرائط کی منظوری کو اپنی فتح کہا۔
امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ جنگ بندی کے اعلان کے بعد دونوں فریقوں کی جانب سے کامیابی کے دعوے کیے جا رہے ہیں، تاہم بین الاقوامی ماہرین اور تجزیہ کار اس معاہدے کے حقیقی اثرات اور نتائج پر سوالات اٹھا رہے ہیں۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے ایک بیان نے اس بحث کو مزید تقویت دی، جس میں انہوں نے کہا کہ ایرانی فریق نے مذاکراتی عمل میں غیر معمولی مہارت کا مظاہرہ کیا۔ ان کا یہ تبصرہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب جنگ بندی کے بعد سفارتی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں اور آئندہ مذاکرات کے لیے اسلام آباد میں بات چیت متوقع ہے۔صدر ٹرمپ نے اس معاہدے کو ’’سو فیصد مکمل کامیابی‘‘ قرار دیا، جبکہ دوسری جانب ایران کی سپریم نیشنل سیکوریٹی کونسل نے بھی اسے اپنی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ نے دشمنی کے خاتمے کے لیے تہران کی شرائط کو تسلیم کیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ایران کا امریکہ کو انتباہ: جنگ بندی یا جنگ، ایک منتخب کریں
تاہم ماہرین کے مطابق اس معاہدے میں کئی اہم نکات اب بھی غیر واضح ہیں۔ نئی دہلی میں قائم سینٹر فار پالیسی ریسرچ سے وابستہ ماہر برہما چیلانی نے کہا کہ ’’اس پورے تنازع میں امریکہ اپنے بنیادی مقصد، یعنی ایران میں حکومتی تبدیلی، حاصل کرنے میں ناکام رہا، جو اس کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’’آبنائے ہرمز کے حوالے سے ابتدائی طور پر جو غیر مشروط مطالبات سامنے آئے تھے، اب وہ ایک ایسے نقطے پر پہنچ گئے ہیں جہاں ایران کے کردار کو تسلیم کیا جا رہا ہے، اور یہ صورتحال طاقت کے توازن میں تبدیلی کی نشاندہی کرتی ہے۔‘‘ ادھر واروک پویل نے ایک انٹرویو میں کہا کہ ’’یہ واضح ہوتا جا رہا ہے کہ مذاکراتی فریم ورک امریکہ کے بجائے ایران کی جانب سے سامنے آیا، جو اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ واشنگٹن اس مرحلے پر کمزور پوزیشن میں تھا۔‘‘
انہوں نے امریکی بیانیے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’’بیانات میں تضاد اور غیر واضح حکمت عملی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ معاملے کو مؤثر انداز میں پیش نہیں کیا گیا۔‘‘ ایرانی امریکی تعلقات کے ماہر ٹریٹا پارسی نے بھی معاہدے کے بعض پہلوؤں کو غیر واضح قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’’یہ ابھی واضح نہیں ہے کہ ایران آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر کسی قسم کی فیس عائد کرے گا یا نہیں، تاہم یہ ضرور ہے کہ اس مرحلے پر تہران کی مذاکراتی پوزیشن مضبوط دکھائی دیتی ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’’ایران عارضی جنگ بندی کے بجائے ایک مستقل حل کی طرف بڑھنا چاہتا ہے تاکہ خطے میں بار بار ہونے والی کشیدگی سے بچا جا سکے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: اردگان اور ٹرمپ کی فون پر بات چیت، کہا جنگ بندی کو سبوتاژ کیا جاسکتا ہے
ماہرین کے مطابق اس تنازع کے نتیجے میں علاقائی طاقت کے توازن میں تبدیلی کے آثار بھی نمایاں ہو رہے ہیں۔ کچھ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران کی داخلی پوزیشن مضبوط ہوئی ہے، جبکہ امریکہ کو سفارتی سطح پر چیلنجز کا سامنا ہے۔ اس دوران صدر ٹرمپ کے بیانات میں بھی تبدیلی دیکھی گئی۔ ابتدائی طور پر انہوں نے ایرانی تجویز کو ’’قابل عمل بنیاد‘‘ قرار دیا، تاہم بعد میں اسے مسترد کرتے ہوئے اسے دھوکہ دہی پر مبنی قرار دیا، اگرچہ اس کی تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔
جنگ بندی کا اعلان اس وقت سامنے آیا جب امریکہ کی جانب سے دی گئی ڈیڈ لائن ختم ہونے میں بہت کم وقت باقی تھا، جس میں ایران کو سخت نتائج کی وارننگ دی گئی تھی۔ موجودہ صورتحال میں عالمی توجہ اس بات پر مرکوز ہے کہ آیا یہ عارضی جنگ بندی ایک مستقل معاہدے میں تبدیل ہو سکے گی یا نہیں، جبکہ مختلف ماہرین اس کے طویل مدتی اثرات کا جائزہ لے رہے ہیں۔