• Sat, 07 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ششی تھرور کی واشنگٹن پوسٹ پر تنقید، بیٹے ایشان کی برطرفی کو ’’بے معنی‘‘ قرار دیا

Updated: February 06, 2026, 8:05 PM IST | New Delhi

ہندوستان کی سیاسی جماعت کانگریس کے لیڈر ششی تھرور نے واشنگٹن پوسٹ کی جانب سے اپنے بیٹے اور صحافی ایشان تھرور کو برطرف کرنے کے فیصلے پر سخت تنقید کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایشان کا ’’ورلڈویو‘‘ نیوز لیٹر عالمی سطح پر مقبول تھا اور اسے بند کرنا اخبار کے لیے نقصان دہ قدم ہے۔

Senior Congress leader Shashi Tharoor. Photo: INN
کانگریس کے سینئر لیڈر ششی تھرور۔ تصویر: آئی این این

کانگریس کے سینئر لیڈر ششی تھرور نے معروف امریکی اخبار دی واشنگٹن پوسٹ کی جانب سے اپنے بیٹے اور صحافی ایشان تھرور کو برطرف کرنے کے فیصلے پر شدید تنقید کی ہے۔ یہ برطرفی اخبار میں حالیہ بڑے پیمانے پر کی گئی ملازمتوں میں کٹوتیوں کے تحت عمل میں آئی۔ششی تھرور نے اس فیصلے کو ’’بے معنی‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایشان تھرور کا WorldView نیوز لیٹر واشنگٹن پوسٹ کے سب سے زیادہ پڑھے جانے والے عالمی امور کے پلیٹ فارمز میں شامل تھا۔ ان کے مطابق، اس نیوز لیٹر کے پانچ لاکھ سے زائد سبسکرائبرز تھے اور اسے دنیا بھر میں قارئین کی توجہ حاصل تھی۔ انہوں نے کہا کہ ایسے وقت میں جب میڈیا ادارے نئے ریونیو ماڈلز تلاش کر رہے ہیں، ایک مقبول اور وسیع عالمی قارئین رکھنے والے پلیٹ فارم کو بند کرنا ادارتی اور کاروباری دونوں حوالوں سے نقصان دہ فیصلہ ہے۔ ششی تھرور کے مطابق، اس نیوز لیٹر کو ختم کرنے کے بجائے اسے مونیٹائز کیا جا سکتا تھا، جو اخبار کے لیے آمدنی کا ایک مؤثر ذریعہ بن سکتا تھا۔

یہ بھی پڑھئے: راجپال یادو کا چیک باؤنس معاملہ:پانچ کروڑ کا قرض، چھ ماہ کی جیل اور اب خود سپردگی

انہوں نے کہا کہ ایشان تھرور نے عالمی سیاست اور بین الاقوامی امور پر گہرے تجزیے کے ذریعے واشنگٹن پوسٹ کے قارئین میں اپنی ایک الگ شناخت قائم کی تھی۔ اس کے باوجود، اخبار کی جانب سے اس پلیٹ فارم کو بند کرنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ موجودہ کٹوتیوں میں مواد کی قدر کے بجائے صرف مالی پہلو کو ترجیح دی گئی۔ یہ ردعمل ایسے وقت سامنے آیا ہے جب واشنگٹن پوسٹ سمیت کئی بڑے بین الاقوامی میڈیا ادارے مالی دباؤ، ڈجیٹل منتقلی اور اشتہاری آمدنی میں کمی کے باعث اسٹاف میں کمی کر رہے ہیں۔ حالیہ برطرفیوں کے بعد متعدد صحافیوں نے بھی سوشل میڈیا پر اپنے تحفظات اور خدشات کا اظہار کیا ہے۔ واشنگٹن پوسٹ کی جانب سے ایشان تھرور یا ششی تھرور کے بیان پر فی الحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ اخبار کی انتظامیہ نے عمومی طور پر ان برطرفیوں کو تنظیمِ نو اور مستقبل کے لیے مالی استحکام سے جوڑا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ’’الیکشن کمیشن کو فی الحال سیاسی جماعتوں کا رجسٹریشن منسوخ کرنے کا اختیار نہیں ہے‘‘

میڈیا مبصرین کے مطابق، اس معاملے نے ایک بار پھر اس بحث کو جنم دیا ہے کہ آیا روایتی میڈیا ادارے معیاری صحافت اور مالی پائیداری کے درمیان درست توازن قائم کر پا رہے ہیں یا نہیں۔ خاص طور پر ایسے پلیٹ فارمز کا خاتمہ، جن کی عالمی سطح پر مضبوط رسائی ہو، ادارتی حکمت عملی پر سوالات کھڑے کرتا ہے۔ششی تھرور نے کہا کہ یہ فیصلہ نہ صرف ایشان تھرور بلکہ واشنگٹن پوسٹ کے قارئین کے لیے بھی نقصان دہ ہے، کیونکہ ایک مستند عالمی آواز کو خاموش کر دیا گیا ہے۔ ان کے مطابق، ایسے اقدامات طویل مدت میں میڈیا اداروں کی ساکھ اور اثر کو کمزور کر سکتے ہیں۔

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK