شیوپال کا سماجوادی تحریک کو زندہ کرنے اورکسی پارٹی میں انضمام کےبجائےمشروط اتحاد کا اعلان

Updated: February 16, 2021, 8:24 AM IST | Agency | Lucknow

پرگتی شیل سماجوادی پارٹی کے سربراہ نے کہا کہ اگر ملک بھرکے تمام سماج وادی ایک ساتھ ہو جاتے تو آج کم از کم تین صوبوں میں مضبوط سوشلسٹ حکومت قائم ہوتی

Mulayam Singh Yadav and Shivpal Singh Yadav - PIC : INN
ملائم سنگھ یادو اور شیو پال سنگھ یادو ۔ تصویر : آئی این این

کسی زمانے میں ملائم سنگھ کے دست راست سمجھے جانے والے شیوپال یادو نے حالانکہ سماجوادی پارٹی سے علاحدگی اختیار کرکے اپنی الگ پارٹی تشکیل دے دی ہے لیکن وہ آج بھی سماجوادی تحریک سے وابستہ ہیں۔ انہوں نے ایک بار پھر اعلان کیا ہے کہ وہ سماجوادی تحریک کو زندہ کرنے کیلئے پوری کوشش کریں گے ۔اسی کے ساتھ انہوں نے اس بات کی وضاحت بھی کی کہ اس کا یہ ہرگز مطلب نہیں کہ وہ اپنی پارٹی کو کسی پارٹی میں ضم کردیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ایسا نہیں ہوگاالبتہ وہ مشروط اتحاد کیلئے سنجیدگی سے غور کریںگے۔ گزشتہ لوک سبھا الیکشن میں اپنی پارٹی کو انتخابی میدان میں اُتارنے والے پرگتی شیل سماجوادی پارٹی (پی ایس پی) کے سربراہ شیوپال سنگھ یادو کا دعویٰ ہے کہ وہ پورے ملک کے تمام سماج وادیوں کو ایک کرکے نیتا جی (ملائم سنگھ یادو) یا اکھلیش یادو کو نریندر مودی کا متبادل بنانا چاہتے تھے لیکن بعض وجوہات سے انہیں اس مقصد میں کامیابی نہیں مل سکی۔ انہوں نے کہا کہ اگر ملک  بھرکے تمام سماج وادی ایک ساتھ ہو جاتے تو آج کم از کم تین صوبوں میں مضبوط سوشلسٹ حکومت قائم ہوتی لیکن رکاوٹ پیدا کرنے والے کچھ لوگ تھے جو آج بھی اسی راستے پر ہیں۔ 
 شیوپال سنگھ یادو نے کہا کہ ’’اب چونکہ ہم نے اپنی سیاسی جماعت تشکیل دے دی اور جد و جہد کے راستے پر نکل چکے ہیں،اسلئے اب اسی کے ساتھ آگے بڑھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اِس وقت پوری ریاست میں ہماری تنظیم مضبوطی کے ساتھ کھڑی ہوئی ہے،اسلئے اب کسی پارٹی میں پی ایس پی کا انضمام نہیں ہوگا البتہ مشروط اتحاد ہو سکتا ہے۔  میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پی ایس پی کے صدر شیوپال یادو نے سوال کیا کہ ۲۰۱۴ء میںمودی کے وزیراعظم بننے کے فوراً بعد سماجوادی پارٹی کے سلور جبلی تقریبات کے دوران پورے ملک کے سماج وادیوں کو ایک اسٹیج پر لانے کی جو کوشش کی تھی، اس کوشش کو تباہ کرنے والے کون لوگ تھے، کیا آپ نہیں جانتے ہیں؟ کیا میں یہ سب اپنے لئے کر رہا تھا؟ میں نے تو اس وقت اکھلیش یادو کو اپنا لیڈر قبول کر لیا تھا اور جو کچھ کرنا چاہتا تھا، وہ نیتا جی (ملائم اور ان کیلئے ہی تھا لیکن اس اسٹیج پر جو کچھ ہوا اور اس کے بعد آج تک خاندان کو ایک ہونے سے کون روک رہا ہے؟ یہ اب کسی سے چھپا نہیں ہے۔
 انہوں نے کہا کہ ۲۰۱۴ء میں مودی کے وزیراعظم بننے کے بعد  سماجوادی پارٹی نے محض ۵؍ سیٹیں جیتی تھیں۔ ملک میں بکھرے ہوئے سماجوادی خاندان کو ایک کرنے  پہل میں نے ہی کی تھی اور اس وقت نتیش کمار، ایچ ڈی دیوے گوڑا، شرد یادو، اوم پرکاش چوٹالا کا پورا خاندان، لالو یادو، کمل مرارکا، اجیت سنگھ اور انصاری برادارن تک سماج وادی پارٹی میں انضمام کیلئے تیار ہو گئے تھے۔ ان سبھی نے ملائم سنگھ  یادو کو اپنا لیڈر مان لیا تھا۔ اگر یہ سب ہو جاتا تو نیتا جی ملک کے سامنے بی جےپی کا متبادل بن سکتے تھے لیکن اسے بننے سے پہلے ہی توڈ دینے کی کوشش کی گئی تھی اور یہ کس نے کیا تھا، سبھی جانتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK