Inquilab Logo Happiest Places to Work

اس سال چاندی فی کلو ۶۵؍ ہزار روپے سستی ہوئی، کیا اب خریداری کا وقت آ گیا؟

Updated: August 02, 2026, 9:11 PM IST | New Delhi

چاندی کی قیمتوں میں ۲۰۲۶ء دوران نمایاں گراوٹ دیکھی گئی ہے۔ سال کے آغاز سے اب تک عالمی مارکیٹ میں چاندی تقریباً ۲۳؍ فیصد سستی ہو چکی ہے، جبکہ صرف جون کے مہینے میں اس کی قیمت میں ۲۲؍ فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔

Silver.Photo:INN
چاندی کی قیمت۔ تصویر:آئی این این

چاندی کی قیمتوں میں ۲۰۲۶ء دوران نمایاں گراوٹ دیکھی گئی ہے۔ سال کے آغاز سے اب تک عالمی مارکیٹ میں چاندی تقریباً ۲۳؍ فیصد سستی ہو چکی ہے، جبکہ صرف جون کے مہینے میں اس کی قیمت میں ۲۲؍ فیصد  کمی ریکارڈ کی گئی۔ ہندوستان میں فی الحال چاندی کی قیمت تقریباً  ۲۰ء۲؍ لاکھ روپے فی کلوگرام  ہے، یعنی اس سال اب تک اس کی قیمت میں تقریباً۶۵؍ ہزار روپے فی کلوگرام کی کمی آ چکی ہے۔

یہ بھی پڑھئے:کنگنا رناوت کا رتیک روشن کو جواب’’اپنی ساتھی کو شرمندہ کرنا بند کریں‘‘


قیمتوں میں کمی کی بڑی وجہ کیا ہے؟
ماہرین کے مطابق چاندی کی قیمتوں پر سب سے بڑا دباؤ  خام تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں  کی وجہ سے آیا ہے۔ ایران جنگ کے بعد آبنائے ہرمز میں کشیدگی بڑھنے سے تیل کی سپلائی متاثر ہوئی، جس کے نتیجے میں برینٹ کروڈ کی قیمت تقریباً ۸۶؍ ڈالر فی بیرل  تک پہنچ گئی، جو جنگ سے پہلے کے مقابلے میں تقریباً ۲۰؍ فیصد زیادہ  ہے۔ تیل مہنگا ہونے سے عالمی مہنگائی بڑھتی ہے، جس کے باعث امریکی مرکزی بینک  فیڈرل ریزرو  (فیڈ) پر شرح سود بڑھانے کا دباؤ آتا ہے۔
فیڈ کی شرح سود کا چاندی سے کیا تعلق ہے؟
جب شرح سود بڑھتی ہے تو امریکی ڈالر مضبوط ہو جاتا ہے۔ ایسے ماحول میں سرمایہ کار سونا اور چاندی جیسے بغیر منافع والے اثاثوں سے نکل کر ڈالر پر مبنی سرمایہ کاری کو ترجیح دیتے ہیں، جس سے چاندی کی قیمتوں پر دباؤ برقرار رہتا ہے۔
چاندی سونے کے مقابلے میں زیادہ اتار چڑھاؤ کیوں دکھاتی ہے؟
چاندی صرف قیمتی دھات نہیں بلکہ ایک اہم  صنعتی دھات بھی ہے۔اس کا استعمال  سولر پینلز،الیکٹرانکس،  الیکٹرک گاڑیاں (EVs)،  ڈیٹا سینٹرز اور  پاور گرڈز ہوتاہے۔  اس لیے صنعتی طلب میں معمولی تبدیلی بھی قیمتوں پر بڑا اثر ڈال سکتی ہے۔
 گولڈ-سلور ریشو کیا ہوتا ہے؟
 گولڈ اور سلور ریشو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ایک اونس سونا خریدنے کے لیے کتنے اونس چاندی درکار ہوگی۔ اگر یہ ریشو ۷۵؍ یا اس سے زیادہ  ہو تو چاندی نسبتاً سستی سمجھی جاتی ہے۔  اگر ریشو ۵۰؍ سے۶۰؍ کے درمیان یا اس سے کم ہو تو سونا نسبتاً سستا تصور کیا جاتا ہے۔فی الحال یہ ریشو تقریباً ۷۰؍ کے آس پاس ہے، جسے ماہرین طویل مدتی اوسط کے قریب قرار دے رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے:ورلڈ کپ کی مایوسی کے بعد لیونل میسی کی واپسی، انٹر میامی کا کولمبس کریو سےمیچ ڈرا


کیا ابھی چاندی خریدنے کا مناسب وقت ہے؟
 بونانزا  کے سینئر ریسرچ اینالسٹ  نریپیندر یادو  کے مطابق موجودہ ریشو ظاہر کرتا ہے کہ چاندی سونے کے مقابلے میں قدرے سستی ہے، خاص طور پر اگر صنعتی طلب مضبوط رہتی ہے۔ ماہرین کے مطابق  اگر امریکی فیڈ شرح سود میں کمی کرتا ہے،  ڈالر کمزور ہوتا ہے  اور عالمی مینوفیکچرنگ سرگرمیوں میں بہتری آتی ہے تو چاندی سونے کے مقابلے میں بہتر کارکردگی دکھا سکتی ہے اور گولڈ اور سلور ریشو  کم ہو کر ۶۰؍ سے ۶۵؍ تک آ سکتا ہے۔ تاہم اگر عالمی جغرافیائی کشیدگی بڑھتی ہے، کساد بازاری کے خدشات میں اضافہ ہوتا ہے، یا سرمایہ کار محفوظ سرمایہ کاری کی طرف رخ کرتے ہیں، تو سونا چاندی سے بہتر کارکردگی دکھا سکتا ہے اور ریشو ۷۰؍ سے اوپر  برقرار رہ سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK