Inquilab Logo Happiest Places to Work

سنگاپور کا شرحِ پیدائش بڑھانے کیلئے بڑا مالی پیکیج، فی بچہ۵۵؍ ہزارڈالر کا اعلان

Updated: August 26, 2026, 10:00 PM IST | Singapore

سنگاپور نے گرتی ہوئی شرحِ پیدائش پر قابو پانے کیلئے خاندانوں کو مالی مراعات اور بچوں کی تعلیم و نگہداشت میں اضافی سہولتیں دینے کا بڑا پیکیج پیش کیا ہے۔ حکومت ہر بچے کی پیدائش سے۱۷؍ سال کی عمر تک تقریباً۷۰؍ ہزار سنگاپور ڈالر(تقریباً۵۲؍ لاکھ ۶۰؍ ہزار روپے) کی مدد فراہم کرے گی، تاکہ زیادہ سے زیادہ خاندانوں کو بچے پیدا کرنے کی ترغیب دی جا سکے۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

 سنگاپور اپنی گرتی ہوئی شرح پیدائش سے نمٹنے کیلئے ایک بڑا قدم اٹھا رہا ہے۔ حکومت پیدائش سے لے کر ۱۷؍سال کی عمر تک کے ہر بچے کیلئے تقریباً ۷۰ ؍ ہزا ر سنگاپور ڈالر یا تقریباً ۵۵ ؍ ہزار یو ایس ڈالر یا ۴۰ ؍ ہزار پاؤنڈس فراہم کرنے کیلئے تیار ہے۔ کیونکہ دنیا کی سب سے کم شرح پیدائش والے ملک کی شرح پیدائش بڑھانے کی کوششیں تیز ہوسکیں۔ وزیر اعظم لارنس وونگ نے سنگاپور کی سالانہ نیشنل ڈے ریلی کے دوران ان اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے انہیں ’’ خاندانوں کی کفالت کرنے میں بنیادی تبدیلی‘‘ کے طور پر بیان کیا۔ نیا پیکج ۱۰ ؍ ہزار سنگاپور ڈالر بچے کے تحفے کے ساتھ شروع ہوگا، جب کہ بچے کے ۱۷؍ سال کے ہوجانے پر اعلیٰ تعلیم کیلئے بھی اسی طرح کی مدد دستیاب ہوگی۔ اسی طرح سےپری اسکول کے بچوں کیلئے نرسری کی کم فیس کے ساتھ ساتھ تعلیم، صحت کی دیکھ بھال اور بچوں کی دیکھ بھال کیلئےاضافی گرانٹ بھی ملے گی۔ 

یہ بھی پڑھئے: نیدرلینڈز کا غزہ سے متعلق خدشات کے باعث ’یوروویژن ۲۰۲۷ء‘ میں شرکت سے انکار

والدین کیلئے چائلڈ کیئر سپورٹ
 حکومت بچوں کی دیکھ بھال کیلئے والدین کی چھٹیوں میں بھی توسیع کرے گی اور اخراجات کو حکومتی فنڈنگ کے ذریعے پورا خرچ پورا کرے گی۔ حکومت کو امید ہے کہ اس تبدیلی سے ان خدشات میں کمی آئے گی کہ والدین، یا ایسے افراد جن کے مستقبل میں بچے ہو سکتے ہیں، ملازمت دینے والوں کیلئے اضافی اخراجات پیدا کر سکتے ہیں۔ سبسڈی والی پبلک ہاؤسنگ کیلئے درخواست دینے والے خاندانوں کیلئے مختص بیلٹ میں ہر اضافی بچے کے ساتھ ان کے امکانات بڑھتے جائیں گے۔ وونگ نے کہا کہ’’آج، ہر جگہ خاندان بڑھتے ہوئے دباؤ میں ہیں، ہم چاہتے ہیں کہ ہر خاندان جان لے اگر آپ بچے پیدا کرنے کا انتخاب کرتے ہیں، تو حکومت آپ کے ساتھ کھڑی ہوگی۔ ہم مزید سالوں میں مزید مدد فراہم کریں گے۔ ‘‘
سنگاپور میں شرح پیدائش کم ترین سطح پر پہنچ گئی
 یہ تمام اقدامات اس وقت سامنے آئے ہیں جب سنگاپور شرح پیدائش میں طویل کمی کے ساتھ جدوجہد کر رہا ہے۔ گزشتہ ماہ ۱۸؍ سے ۴۴؍ سال کی عمر کے ۴۹۶؍ سنگاپوریوں کے’ YouGov‘ کے ذریعے کئے گئے سروے سے پتا چلا کہ تقریباً چار میں سے ایک کا کوئی بچہ نہیں ہے اور انہوں نے مستقبل میں بھی بچہ پیدا کرنے کاکوئی ارادہ نہیں کیا۔ تقریباً ۳۰؍ فیصد نے کہا کہ حکومت نے انہیں پہلےبچے پیدا کرنے کیلئے مزید آمادہ کرنے کی غرض سے کچھ نہیں کیاتھا۔ سنگاپور نے ۲۰۰۱؍ میں اپنی بے بی بونس اسکیم متعارف کرائی، جب شرح پیدائش ۱ء۴۱ ؍ تھی۔ ایک دہائی بعد یہ شرح ۱ء۲؍ تک گر گئی اور پچھلے سال ۰ء۸۷؍ کے ریکارڈ کے ساتھ کم ترین سطح پر پہنچ گئی۔ یہ جاپان کی ۱ء۱۴ ؍ سے کم تھی اور عالمی سطح پر ریکارڈ کی جانے والی سب سے کم شرح پیدائش میں سے تھی۔ 

یہ بھی پڑھئے: شام اور اسرائیل کے درمیان اردن میں مذاکرات

سنگاپور لوگوں کو بچے پیدا کرنے پر آمادہ کرنے کیلئے کیوں جدوجہد کر رہا ہے؟ 
حکومت کو ایک وسیع چیلنج کا سامنا ہے جو ترقی یافتہ معیشتوں میں دیکھا جاتا ہے، جہاں بچوں کی پرورش کی مالی لاگت، رہائش کے دباؤ اور کریئر پر ممکنہ اثرات لوگوں کو والدین بننے کی حوصلہ شکنی کر سکتے ہیں۔ سنگاپور کی نیشنل یونیورسٹی میں سماجیات کے پروفیسر ونسنٹ چوا نے کہا کہ جدید کام کے تقاضوں کی وجہ سے بہت سے لوگوں کے پاس خاندانی زندگی کیلئے بہت کم وقت یا توانائی باقی رہ جاتی ہے۔ وونگ نے توسیعی پروگرام کی کل لاگت کی وضاحت نہیں کی، لیکن کہا کہ حکومت بچوں کی دیکھ بھال اور پری اسکول کے اخراجات کا بہت بڑا حصہ برداشت کرنےکیلئے تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ مجھے یقین ہے کہ یہ ان بہترین سرمایہ کاری میں سے ایک ہے جو ہم کر سکتے ہیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK