• Wed, 28 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

مہاراشٹر ایم ایل سی انتخابات میں کانٹے کی ٹکر

Updated: October 28, 2026, 10:40 AM IST | Iqbal Ansari/ Abdullah Arshad | Mumbai/Lucknow

ابتدائی رجحانات میںمہاوکاس اگھاڑی کو ۲؍ جبکہ این ڈی اے کو ۳؍ سیٹیں ملنے کا امکان ،یوپی میں ۱۱؍ میں سے ۸؍ سیٹوں کے رجحان میں۴؍ پر بی جے پی اور ۴؍ پر سماج وادی پارٹی آگے ،وزیر اعظم کے حلقے وارنسی کی دونوں سیٹوں پر سماج وادی پارٹی آگے چل رہی ہے ، بہار میں جن سوراج کو ایک سیٹ۔

Polling officials sorting ballot papers at a counting center in Nagpur. Photo: PTI
ناگپور کے گنتی مرکز پر پولنگ افسران بیلٹ پیپر کی چھٹنی کرتے ہوئے۔ تصویر: پی ٹی آئی

مہاراشٹر قانون ساز کونسل کی ۵؍نشستوں  (۳؍ گریجویٹس: پونے ، ناگپور اور اورنگ آباد) اور ۲؍ ٹیچر ( پونے اور امراؤتی)  کے انتخابات کے ووٹوں کی گنتی منگل کو۴؍ مراکز پر شروع ہوئی۔تادم تحریر کسی بھی سیٹ کے نتیجے کا باقاعدہ اعلان تو نہیں کیا گیا تھا لیکن رجحانات میں مہایوتی  کو ۳؍ سیٹوں اور مہا وکاس اگھاڑی( ایم وی اے ) کو ۲؍سیٹوں  پر برتری حاصل تھی ۔ مقابلہ کانٹے کا چل رہا تھا کیوںکہ کچھ نیوز چینل پر رجحانات میں مہاوکاس اگھاڑی کو ۳؍ اور مہایوتی کو ۲؍ سیٹیں دکھائی جارہی تھیں۔  یاد رہے کہ  ان نشستوں پر پولنگ کا عمل ۲۳؍اکتوبر  کو مکمل ہوا تھا جس میں کل۱۸۲؍ امیدوار  میدان میںہیں۔ واضح رہے کہ ان انتخابات کو ریاست میں حکمراں اتحاد مہایوتی (بی جے پی، شیو سینا، این سی پی۔اجیت) اور اپوزیشن اتحادمہا وکاس اگھاڑی (کانگریس، شیو سینا۔ادھو، این سی پی۔شرد) کے درمیان طاقت کا ایک بڑا مقابلہ مانا جا رہا ہے۔

  اورنگ آباد گریجویٹ سیٹ پر این سی پی(شرد) آگے تھی۔ اس سیٹ پر بڑا الٹ پھیر دیکھنے کو مل رہا ہے۔ مہا وکاس اگھاڑی کی جانب سے این سی پی (شرد) کے امیدوار پرتاپ سنگھ پاٹل تقریباً ۴؍ہزار ۸۰۰؍ ووٹوں سے آگے چل رہےتھے جبکہ مہایوتی کے موجودہ ایم ایل سی ستیش چوہان پیچھے تھے۔ اسی طرح پونے گریجویٹ سیٹ پر بھی کانٹے کی ٹکر تھی ۔ ابتدائی رجحانات میں این سی پی( شرد)کی امیدوار ہرشدا دیشمکھ جادھو نے بی جے پی کی ڈاکٹر اسمتا جادھو پر برتری حاصل کر رکھی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ناگالینڈ : فٹ بال کے ذریعے نایاب پینگولن کو بچا نے کی کوشش

اس سینٹر پر۱۲؍ بیلٹ باکس کی سیل ٹوٹے ہونے کے الزامات پر ہنگامہ آرائی بھی ہوئی۔ ناگپور سیٹ پر بی جے پی کے سدھاکر کوہلے اور کانگریس کے ابھیجیت ونجاری کے درمیان سخت مقابلہ ہے۔ ابتدائی طور پر بی جے پی کے سدھاکر کوہلے آگے چل رہے تھے۔ اسی طرح  امراؤتی ٹیچرز سیٹ پرمہایوتی کے حمایت یافتہ شیو سینا (شندے)  کے امیدوار کرن سرنائک پہلے راؤنڈ کی گنتی کے بعد واضح برتری بنائے ہوئے تھے۔    پونے ٹیچر سیٹ پر بی جے پی کے کوسُتوبھ گاؤنڈے اور آزاد امیدوار دتا ساونت کے درمیان سخت ٹکر تھی جبکہ موجودہ ایم ایل سی جینت آسگاؤنکر پیچھے ہیں۔ بیلٹ پیپرز کی چھنٹی اور ترجیحی ووٹوں کی منتقلی کے طویل عمل کی وجہ سے حتمی اور باضابطہ فاتحین کا اعلان منگل کی دیر رات یا بدھ کی صبح تک ہی  ہوسکے گا۔  

دوسری جانب اترپردیش قانون ساز کونسل کے اساتذہ اور گریجویٹ زمرے کےالیکشن کی ووٹ شماری جاری ہے۔ مجموعی طو رپر ۱۱؍ سیٹوںمیں سے۸؍ سیٹوںکے جو رجحان ملے ہیں ان میں چار سیٹوں پر بی جے پی اور چار پر  سماجوادی پارٹی آگے ہے۔ یاد رہے کہ اتر پردیش میں اساتذہ اور گریجویٹ زمرے کی گیارہ سیٹوں کے لئے الیکشن کرائے گئے تھے، جس میں لکھنؤ ، وارانسی ، آگرہ ، میرٹھ، الہ آباد - جھانسی گریجویٹ ، بریلی- مرادآباد گریجویٹ و ٹیچر اور گورکھپور- فیض آباد ٹیچر سیٹ کے لئے  ۲۳ ؍اکتوبر کو ووٹ ڈالے گئےتھے۔

وزیر اعظم کے حلقے وارانسی کی دونوں سیٹوں پر سماج وادی آگے
وزیراعظم مودی کے پارلیمانی حلقے وارانسی کی اساتذہ نشست پر سماج وادی پارٹی کے امیدوار لال بہاری یادو پہلے مرحلے کی گنتی میں آگے چل رہے ہیں جبکہ وارانسی کے گریجویٹ حلقہ سے سماج وادی پارٹی کے امیدوار اشوتوش سنہا آگے چل رہے تھے۔ ان دونوں نشستوں پر فتح بی جے پی اور یوگی دونوں کے لئے وقار کا سوال ہے۔ ایسےمیں دونوں ہی جگہوں پر سماج وادی پارٹی کے امیدوار کو برتری بی جے پی کے لئے بری خبر ثابت ہو سکتی ہے۔ خبر لکھے جانے تک کسی بھی نشست کا حتمی نتیجہ نہیں آیا تھا ۔ چونکہ پولنگ بیلٹ پیپر پر ہوئی ہے اس لئے ووٹوں کی گنتی جاری تھی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK