Inquilab Logo Happiest Places to Work

فرضی برتھ سرٹیفکیٹ معاملے کی تفتیش کیلئے ’ایس آئی ٹی‘ تشکیل

Updated: May 06, 2026, 12:57 PM IST | Shahab Ansari | Mumbai

پرانے سسٹم سے ۲۰۲۴ء سے ۲۰۲۶ء کے درمیان ۸۷؍ ہزار سے زائد پیدائشی سرٹیفکیٹ جاری کئے جانے کا الزام ہے۔ میئر ریتوتاؤڑے نے تمام سرٹیفکیٹ منسوخ کرنے کا حکم دیا۔

Mayor Ritu Tadde Is Talking To The Concerned Officers While Kret Soumya Is Also Present.Photo:INN
میئرریتوتاؤڑے متعلقہ افسران سے گفتگو کررہی ہیں جبکہ کریٹ سومیا بھی موجود ہیں- تصویر:آئی این این
 کرائم برانچ کی تفتیش میں مبینہ طورپر فرضی دستاویز کی بنیاد پر برتھ سرٹیفکیٹ حاصل کرنے کا معاملہ سنگین  ہونے پر ممبئی کے پولیس کمشنر نے اس معاملے کی تحقیق کیلئے جوائنٹ پولیس کمشنر (کرائم) کی سربراہی میں ’اسپیشل انویسٹی گیشن ٹیم(ایس آئی ٹی)‘ تشکیل دی ہے۔ برہن ممبئی میونسپل کارپوریشن (بی ایم سی) کی اپنی جانچ میں یہ انکشاف ہوا ہے کہ ۲۰۲۴ء سے ۲۰۲۶ء کے درمیان فرضی دستاویز اور سرکاری ریکارڈ میں چھیڑ چھاڑ کرکے ۸۷؍ ہزار سے زائد برتھ سرٹیفکیٹ جاری کئے گئے ہیںاور منگل کو میئر ریتو تائوڑے نے ان تمام سرٹیفکیٹ کو منسوخ کرنے کا حکم دے دیا ہے۔
جعلی سرٹیفکیٹ کے تعلق سے منگل کی دوپہر ممبئی کی میئر ریتو تائوڑے کے بی ایم سی کے صدر دفتر میں واقع چیمبر میں متعلقہ افسران اور اس تعلق سے شکایت کرنے والے بی جے پی لیڈر کریٹ سومیا کی ایک میٹنگ ہوئی جس میں میئر نے افسران کو حکم دیا کہ تمام ۸۷؍ ہزار سرٹیفکیٹ منسوخ کردیئے جائیں۔ واضح رہے کہ بنیادی طور پر کریٹ سومیا نے جعلی دستاویز کی بنیاد پر برتھ سرٹیفکیٹ جاری کئے جانے کا معاملہ اٹھایا تھا۔  کریٹ سومیاکا الزام ہے کہ غیر قانونی طور پر ممبئی میں مقیم بنگلہ دیشی اور روہنگیا باشندو ں  نے  پوری ریاست کے مختلف مقامات پر جعلی برتھ سرٹیفکیٹ حاصل کئے ہیں۔ انہوں نے گزشتہ برس آزاد میدان پولیس اسٹیشن میں اس تعلق سے ایف آئی آر درج کروائی تھی۔ اس کے بعد ۸؍ مہینوں کے دوران انہوں نے ملنڈ، دیونار، شیواجی نگر، کرلا اور مانخورد پولیس اسٹیشنوں میں درجن بھر شکایتیں درج کروائیں اور وزیر اعلیٰ دیویندر فرنویس سے بھی اس تعلق سے ملاقات کی تھی۔
 
 
گزشتہ ہفتے تک ۲۳۷؍ برتھ سرٹیفکیٹ جعلی ہونے کی تصدیق کے بعد میئر نے بی ایم سی افسران کو ان تمام ۲۳۷؍ برتھ سرٹیفکیٹ کو متعلقہ افراد کے پاس سے ایک مہینے میں ضبط کرنے اور ان کیخلاف قانونی کارروائی کا حکم دیا تھا۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ ہاکرس اور غیرملکیوں کے ذریعہ حاصل کی گئی برتھ سرٹیفکیٹ کی سختی سے جانچ کی جائے گی اور جو افسران ان سرٹیفکیٹ کو جاری کرنے میں خاطی پائے جائیں گے، ان کے خلاف بھی سخت کارروائی کی جائے گی۔ ان سرٹیفکیٹ کو بی ایم سی کی ویب سائٹ پر منسوخ کیا جاچکا ہے۔پولیس کے مطابق مختلف مقامات سے جعلی برتھ سرٹیفکیٹ جاری ہونے کی شکایات مل رہی تھیں جس پر کرائم برانچ نے تفتیش شروع کردی تھی لیکن اس معاملے کی شدت اور سنگینی کو دیکھتے ہوئے ممبئی کے پولیس کمشنر دیوین بھارتی نے ’اسپیشل انوسٹی گیشن ٹیم‘ تشکیل دی ہے تاکہ اس کی گہرائی سے جانچ ہوسکے۔ جوائنٹ پولیس کمشنر (کرائم) لکھمی گوتم اس ایس آئی ٹی کے سربراہ ہیں جبکہ ایڈیشنل کمشنر آف پولیس (کرائم)، ایڈیشنل کمشنر آف پولیس (اسپیشل برانچ) اور ڈپٹی کمشنر آف پولیس (ڈٹیکشن برانچ) اس ٹیم کا حصہ ہیں۔ 
 
 
۸۷؍ ہزار کا عدد کہاں سے آیا؟
بی ایم سی میں برتھ سرٹیفکیٹ کے رجسٹریشن کیلئے ماضی میں ’ایس اے پی۔سی پی ڈبلیو ایم‘ سسٹم استعمال ہوتا تھا جسے ۳۱؍ دسمبر ۲۰۱۵ء سے بند کردیا گیا ہے۔ اس کی جگہ ’سی آر ایس(سول رجسٹریشن سسٹم) شروع کیا گیا ہے۔ تاہم یہ بات سامنے آئی ہے کہ یکم جنوری ۲۰۲۴ء سے ۳۱؍ مارچ ۲۰۲۶ء تک دونوں سسٹم متوازی طور پر استعمال کئے جارہے تھے۔ پرانا سسٹم منسوخ اور سی آر ایس لازمی قرار دیئے جانے کے باوجود ’میڈیکل ہیلتھ آفیسر(ایم ایچ او)‘ ’ایس اے پی۔سی پی ڈبلیو ایم‘ پر نام وغیرہ کی تصحیح کرکے برتھ سرٹیفکیٹ جاری کررہے تھے۔ تعجب خیز بات یہ ہے کہ نئے سسٹم پر سے ۲۰۲۴ء سے ۲۰۲۶ء کے درمیان ۳۳؍ ہزار ۷۷۲؍ برتھ سرٹیفکیٹ جبکہ اس کے مقابلے پرانے سسٹم سے اسی مدت کے دوران اس سے دوگنے سے بھی زیادہ ۸۷؍ ہزار ۳۴۷؍ برتھ سرٹیفکیٹ جاری کئے گئے ہیں۔ چونکہ یہ بی ایم سی کے ہی سسٹم سے جاری ہوئے ہیں اس لئے تمام تفصیل موجود ہے کہ بی ایم سی کے کس وارڈ سے کتنے سرٹیفکیٹ پُرانے سسٹم سے جاری ہوئے ہیں۔ اسی اعداد و شمار کی بنیاد پر یہ دعویٰ کیا جارہا ہے کہ ۸۷؍ ہزار سے زائد فرضی برتھ سرٹیفکیٹ جاری کئے گئے ہیں۔

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK