ریاستی محکمہ ٹرانسپورٹ نے شہر اور ریاست کے الگ الگ ڈویژن میں جعلی دستاویزات کی مدد سے سیکڑوں آٹو رکشا اور ٹیکسی ڈرائیوروں کو لائسنس اور پرمٹ جاری کئے جانے کا حیرت انگیز دعویٰ کیا ہے۔
اب رکشا ڈرائیوروں کیلئے لائسنس حاصل کرنا آسان نہیں ہوگا ۔ تصویر:آئی این این
ریاستی محکمہ ٹرانسپورٹ نے شہر اور ریاست کے الگ الگ ڈویژن میں جعلی دستاویزات کی مدد سے سیکڑوں آٹو رکشا اور ٹیکسی ڈرائیوروں کو لائسنس اور پرمٹ جاری کئے جانے کا حیرت انگیز دعویٰ کیا ہے۔ جعلی دستاویزات کی مدد سے لائسنس جاری کئے جانے سے متعلق ابتدائی جانچ میں یہ بات منظر عام پر آنے کے بعد ہی مذکورہ معاملہ میں اسپیشل انویسٹی گیشن ٹیم( ایس آئی ٹی) تشکیل دینے اور اس سے جانچ کرانے کا فیصلہ کیا گیاہے ۔ ریاستی محکمہ ٹرانسپورٹ کو اس بات کی شکایت ملنےاور شبہ ہونے پر کہ شہر اور ریاست کے تقریباً ہر آر ٹی او سےٹیکسی اور رکشا ڈرائیوروں کو جعلی دستاویزات کی مدد سے نہ صرف لائسنس بلکہ پرمٹ بھی جاری کیا گیا ہے ، محکمہ جاتی جانچ کرائی گئی تھی ۔ ابتدائی جانچ کے بعد ممبئی میٹروپولیٹن ریجن ( ایم ایم آر )میں محکمے کو آٹو رکشا اور پرمٹ حاصل کرنے کے لئے فریب دہی اور جعلسازی کرنے کا پتہ چلا۔ جانچ میں جب یہ بات واضح ہوئی کہ سیکڑوں رکشا اور ٹیکسی ڈرائیوروں کو جعلی دستاویزات کی مدد سے لائسنس اور پرمٹ جاری کئے گئے ہیں تو ٹھوس جانچ کے لئے ایس آئی ٹی تشکیل دینے کا فیصلہ کیا گیا ۔ ابتدائی جانچ میں یہ بات بھی واضح ہوئی ہے کہ آر ٹی او کے افسران اور لائسنس مافیا ایجنٹوں کی مدد سے مبینہ ریکٹ کو انجام دیا گیا ہے ۔
ایس آئی ٹی کی جانچ کا دائرہ ممبئی میٹروپولیٹن ریجن کے ارد گرد ہوگا جہاں سب سے زیادہ بے ضابطگیاں کئے جانے کا شبہ ہے ۔ اس ریکٹ کا پردہ میرا بھائندر کے بی جے پی لیڈر اور ایم ایل اے نریندر مہتا نے فاش کیا تھا ۔یہی نہیں مذکورہ معاملہ میں میرا بھائندر کے شیگاؤں پولیس نے جعلی دستاویزات اور ٹرانسپورٹ افسران و ایجنٹوں کی مدد سےلائسنس اور پرمٹ حاصل کرنے کے جرم میں ۲۷؍ افراد کے خلاف کیس بھی درج کیا ہے ۔
تفتیش کے مطابق رکشا اور ٹیکسی ڈرائیوروں نے لائسنس اور پرمٹ حاصل کرنے کے لئے جعلی راشن کارڈ ، ڈومیسائل اور آدھار کارڈ کا استعمال کیا تھا۔یہ بھی کہا جارہاہے کہ یہ جعلسازی اور فریب دہی گزشتہ ایک سال سے جاری ہے۔ریاستی محکمہ ٹرانسپورٹ نے مذکورہ بالا معاملہ کی سچائی کا پتہ لگانے کے لئے شہر اور ریاست کے مقامی آر ٹی او سے اس ضمن میں تفصیلات بھی طلب کی تھیں جس میں اس ریکٹ کو انجام دیئے جانے کی تصدیق ہوئی تھی ۔