بامبے ہائی کورٹ کی بی ایم سی کو ہدایت، انتظامیہ کو وارڈ افسران کیلئے صفائی کے انتظامات کرنے کیلئے جامع پالیسی تیار کرنے کی بھی ہدایت،شہریوں کی بری عادتوں کی بھی نشاندہی۔
EPAPER
Updated: July 27, 2026, 12:31 PM IST | Shahab Ansari | Mumbai
بامبے ہائی کورٹ کی بی ایم سی کو ہدایت، انتظامیہ کو وارڈ افسران کیلئے صفائی کے انتظامات کرنے کیلئے جامع پالیسی تیار کرنے کی بھی ہدایت،شہریوں کی بری عادتوں کی بھی نشاندہی۔
بامبے ہائی کورٹ نے بی ایم سی کو حکم دیا ہے کہ سڑکوں اور عوامی مقامات پر کچرا اور پلاسٹک پھینکتے پائے جانے والوں کے خلاف کیس درج کروایا جائے۔ ججوں نے بی ایم سی انتظامیہ کو ہدایت دی ہے کہ وہ تمام وارڈ آفیسروں کیلئے جامع پالیسی تیار کریں جس سے شہر و صاف ستھرا رکھا جاسکے۔
جسٹس جی ایس کلکرنی اور جسٹس آرتی ساٹھے پر مشتمل دو رکنی بنچ نے کانجور مارگ ڈمپنگ گرائونڈ سے لگاتار اٹھنے والی ناقابل برداشت بدبو اور یہاں سے نکلنے والی گیس وغیرہ کے تعلق سے داخل کی گئی متعدد پٹیشنوں پر سماعت کے دوران شہریوں پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ان کی بری عادتیں گنوا ئیں۔
یہ بھی پڑھئے: سائبر فراڈ کے متاثرہ کو رقم حاصل کرنے کیلئے بینک گارنٹی دینے کی ضرورت نہیں
ججوں نے شہری انتظامیہ کو ہدایت دی ہے کہ وہ عوامی مقامات پر کچرا اور پلاسٹک پھینکنے والوں کے خلاف کارروائی کریں اور جو کارروائی کی جائے اس میں حسب ضرورت گندگی پھیلانے والوں کے خلاف فوجداری کیس بھی درج کرایا جائے۔
شنوائی کے دوران ججوں نے اپنے مشاہدے میں کہا کہ شہریوں کے ذریعہ لاپروائی والا رویہ نہ صرف مقامی میونسپل کارپوریشن کے کام کاج پر دبائو کو بڑھاتا ہے بلکہ اس سے ماحولیات کو بھی شدید نقصان پہنچتا ہے،اس لئے اس مسئلہ کا واحد حل یہ ہے کہ قانون پر سختی سے اس طرح عملدرآمد کیا جائے کہ لوگ قانون شکنی سے گریز کرنے لگیں۔ ججوں کے مطابق جب تک اس طرح کی کارروائیاں زمینی سطح پر نہیں کی جائیں گی تب تک میونسپل کارپوریشن کو اس طرح کی شکایتوں اور کام کے دبائو سے نجات نہیں ملے گی۔
ان کے مطابق یہ مصیبت خود شہریوں کے ذریعہ پیدا کی ہوئی ہے۔ ججوں نے مانسون کے دوران ہر سال سمندر سے ہزاروں ٹن کچرا ساحلوں پر جمع ہونے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کچروں کا انبار سمندر میں پھینک دیا جاتا ہے اور مانسون میں وہی کچرا سمندر ساحلوں پر ڈال دیتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: مین ہول میں اسلم شیخ کے گرنے کی تفتیشی رپورٹ عام نہیں ہوئی
ججوں نے یہ بھی کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ لوگ اپنی عادتوں کو سدھاریں کیونکہ ان کی بُری عادتوں کے انتہائی نقصاندہ نتائج برآمد ہوں گے۔ اب صرف سمجھا بجھا کر شہریوں کی عادت بدلنا انتہائی مشکل ہوگیا ہے اس لئے بی ایم سی کو سختی برتنی پڑے گی۔ ججوں کے مطابق جب ہندوستانی شہری دیگر ممالک میں جاتے ہیں تو وہاں کے قانون کی پاسداری کرتے ہیں کیونکہ وہاں قوانین پر سختی سے عمل ہوتا ہے۔
میونسپل افسران کو آڑے ہاتھوںلیتے ہوئے ججوں نے کہا کہ صرف مخصوص علاقوں کو صاف ستھرا بنادینا کافی نہیں ہوگا بلکہ شہر و مضافات کے تمام علاقوں میں یکساں صفائی کا انتظام کرنا ضروری ہے۔