• Sat, 07 November, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

’بگ بازار‘ کے کشور بیانی کے خلاف ۹۰۴؍ کروڑ کے مبینہ بینک فراڈ کا سی بی آئی کیس

Updated: November 07, 2026, 3:34 PM IST | Mumbai

بگ بازار کے بانی کشور بیانی، ان کے بھائی راکیش بیانی اور فیوچر ریٹیل لمیٹڈ کے خلاف اسٹیٹ بینک آف انڈیا کو ۳۲ء۹۰۴؍ کروڑ روپے کے مبینہ نقصان کے معاملے میں سی بی آئی نے ایف آئی آر درج کرلی۔ ممبئی میں کمپنی کے پروموٹرز اور ڈائریکٹروں سے وابستہ کئی مقامات پر چھاپے مار کر دستاویزات ضبط کی گئی ہیں۔ بینک کا الزام ہے کہ قرض کی رقم مقررہ کاروباری مقاصد کے بجائے متعلقہ کمپنیوں کے ذریعے دوسری جگہ منتقل کی گئی۔

Big Bazaar founder Kishore Biyani. Photo: X
بگ بازار (Big Bazaar) کے بانی کشور بیانی۔ تصویر: ایکس

کبھی ہندوستان کے ریٹیل کاروبار میں انقلاب برپا کرنے والے بگ بازار (Big Bazaar) کے بانی کشور بیانی ایک بار پھر مالیاتی تنازع کے مرکز میں ہیں۔ مرکزی تفتیشی بیورو (CBI) نے فیوچر ریٹیل لمیٹڈ (Future Retail Ltd) اور اس کے پروموٹرز کشور بیانی اور ان کے بھائی راکیش بیانی کے خلاف اسٹیٹ بینک آف انڈیا (SBI) سے مبینہ طور پر ۳۲ء۹۰۴؍ کروڑ روپے کے بینک فراڈ کے معاملے میں مقدمہ درج کیا ہے۔ اس معاملے میں نامعلوم سرکاری ملازمین اور دیگر افراد کو بھی ملزم بنایا گیا ہے۔ سی بی آئی کے مطابق ایف آئی آر ۴؍ نومبر ۲۰۲۶ء کو ممبئی میں ایس بی آئی کی اسٹریسڈ ایسیٹس مینجمنٹ برانچ-III کی شکایت پر درج کی گئی۔ سی بی آئی کے ترجمان کے مطابق، شکایت میں الزام لگایا گیا ہے کہ فیوچر ریٹیل نے ایس بی آئی اور ۹؍ بینکوں کے کنسورشیم سے مختلف مالیاتی سہولتیں حاصل کرنے کے لیے مبینہ طور پر مجرمانہ سازش کی۔ ان سہولتوں میں ورکنگ کیپیٹل لون، ٹرم لون اور لیٹر آف کریڈٹ شامل تھے۔ بینکوں نے یہ رقوم کمپنی کے ریٹیل کاروبار، خریداری، تجارتی سرگرمیوں اور دیگر منظور شدہ ضروریات کے لیے فراہم کی تھیں، لیکن الزام ہے کہ رقم کو ان مقاصد پر خرچ کرنے کے بجائے متعلقہ اور منسلک کمپنیوں کے ذریعے دوسری جگہ منتقل کیا گیا۔ سی بی آئی کے مطابق اس مبینہ کارروائی کے نتیجے میں ایس بی آئی کو ۳۲ء۹۰۴؍ کروڑ روپے کا نقصان پہنچا۔ 

یہ بھی پڑھئے: مہاراشٹر: ایف ڈی اے نے بلنکٹ، زیپٹو اور دیگر کے لائسنس معطل کردیئے

ایجنسی نے کشور بیانی اور راکیش بیانی کے علاوہ کمپنی کے دیگر پروموٹرز، منیجنگ ڈائریکٹروں، ایگزیکٹیو ڈائریکٹروں، ضامنوں اور نامعلوم سرکاری و نجی افراد کے کردار کی بھی تفتیش شروع کی ہے۔ مقدمے میں مجرمانہ سازش اور دھوکہ دہی کے الزامات کے ساتھ انسدادِ بدعنوانی قانون (Prevention of Corruption Act) کی دفعات بھی شامل کی گئی ہیں۔ سی بی آئی نے ۶؍ نومبر کو ممبئی میں کمپنی کے پروموٹرز اور ڈائریکٹروں سے وابستہ متعدد مقامات پر تلاشی لی۔ اس دوران تفتیش سے متعلق اہم دستاویزات برآمد کرکے ضبط کی گئیں۔ ایجنسی اب ان ریکارڈوں کی جانچ کے ذریعے قرض کی رقم کی منتقلی، اس کے آخری استعمال اور اس عمل میں شامل افراد کی ذمہ داریوں کا تعین کرنا چاہتی ہے۔ اس معاملے میں بینک کی شکایت کے ساتھ ایک فارینزک آڈٹ بھی اہمیت رکھتا ہے۔ اکنامک ٹائمز کی ۷؍ نومبر کی رپورٹ کے مطابق، بی ڈی او انڈیا ایل ایل پی (BDO India LLP) نے یکم اپریل ۲۰۱۷ء سے ۳۰؍ اپریل ۲۰۲۲ء تک کمپنی کے مالیاتی لین دین کا جائزہ لیا تھا۔ آڈٹ میں ۱۳؍ متعلقہ اور منسلک اداروں کو فیوچر ریٹیل کی جانب سے مجموعی طور پر ۲۴؍ ہزار کروڑ روپے کی ادائیگیوں اور ان اداروں سے تقریباً ۱۸؍ ہزار کروڑ روپے کی وصولیوں کا ذکر کیا گیا۔ اس طرح ان اداروں کو خالص ادائیگی کم و بیش ۶؍ ہزار کروڑ روپے رہی۔ آڈٹ میں ۹؍ متعلقہ اداروں کو کی گئی ۶۸ء۱۲۶۳؍ کروڑ روپے کی خالص ادائیگیوں پر بھی سوال اٹھایا گیا، کیونکہ مبینہ طور پر ان اداروں کی مالی استعداد اور ظاہر کردہ آمدنی ان رقوم کے مقابلے میں غیر متناسب تھی۔ یہ آڈٹ کے مشاہدات ہیں، جن کی بنیاد پر تفتیش جاری ہے؛ انہیں عدالت میں ثابت شدہ جرم نہیں سمجھا جا سکتا۔ 
اسی رپورٹ کے مطابق، فیوچر ریٹیل کی گروپ کمپنی سنٹیکس ٹریڈنگ اینڈ ایجنسی پرائیویٹ لمیٹڈ (Syntex Trading & Agency Pvt Ltd) کو مالی سال ۲۰۲۰ء کے دوران ۶۰ء۶۰۶؍ کروڑ روپے کے قرض دیے گئے تھے۔ آڈٹ میں اس کمپنی کے مختصر مدتی قرضوں اور ایڈوانسز میں بھی غیر معمولی اضافہ درج کیا گیا۔ یہ رقم ۳۱؍ مارچ ۲۰۱ء۹ کو ۵۷ء۸؍ کروڑ روپے تھی، جو ۳۱؍ مارچ ۲۰۲۱ء تک بڑھ کر ۱۴ء۸۵۰؍ کروڑ روپے ہوگئی۔ آڈٹ میں خدشہ ظاہر کیا گیا کہ فیوچر ریٹیل سے حاصل ہونے والی رقم کو جائز کاروباری سرگرمیوں کے بجائے گروپ کی دوسری کمپنیوں کو قرض دینے کے لیے استعمال کیا گیا ہو سکتا ہے۔ رپورٹ میں کمپنی کے سکیورٹی ڈپازٹس اور سپلائرز کو دیے گئے ایڈوانسز میں بھی ایسے اضافے کی نشاندہی کی گئی ہے جن کی کاروباری اعداد و شمار سے مطابقت پر سوال اٹھائے گئے۔ فیوچر ریٹیل کبھی ہندوستان کے سب سے بڑے ریٹیل کاروباری گروپس میں شمار ہوتی تھی۔ اس کے تحت بگ بازار، فیشن ایٹ بگ بازار (Fashion@Big Bazaar) اور فوڈہال (Foodhall) جیسے معروف برانڈز کام کرتے تھے۔ کمپنی ملک بھر میں ہائپرمارکیٹس اور سپرمارکیٹس چلاتی تھی اور روزمرہ استعمال کی اشیا، فاسٹ موونگ کنزیومر گڈز (FMCG) اور ملبوسات کی تجارت بھی کرتی تھی۔ کشور بیانی کو ہندوستان میں جدید منظم ریٹیل کاروبار کو مقبول بنانے والے نمایاں صنعت کاروں میں شمار کیا جاتا رہا ہے۔ بگ بازار نے ایک عرصے تک متوسط طبقے کے صارفین کے لیے بڑے اسٹورز میں خریداری کا نیا تجربہ متعارف کرایا تھا۔

یہ بھی پڑھئے: ’’کولہاپور گوکل کوآپریٹیو دودھ یونین پر قبضے کیلئے مہایوتی حکومت سازش کررہی ہے‘‘

تاہم کمپنی کو بعد کے برسوں میں شدید مالی مشکلات، قرضوں اور کاروباری تنازعات کا سامنا کرنا پڑا۔ ریلائنس انڈسٹریز کے ساتھ اسٹورز کے حصول کا معاملہ اور ایمیزون کے ساتھ قانونی کشمکش بھی اس کے زوال کے اہم واقعات میں شامل رہے۔ نیشنل کمپنی لا ٹریبونل (NCLT) کے ممبئی بنچ نے ۲۰۲۴ء میں فیوچر ریٹیل کو لیکویڈیشن کے عمل میں داخل کرنے کا حکم دیا تھا۔ اس طرح وہ کمپنی جس نے کبھی ملک کے ریٹیل بازار میں بڑی موجودگی قائم کی تھی، اب اپنے مالیاتی معاملات اور قرضوں سے متعلق تحقیقات کا سامنا کر رہی ہے۔ سی بی آئی نے کہا ہے کہ تحقیقات کا مقصد مبینہ سازش کی مکمل نوعیت کا تعین کرنا، سرکاری ملازمین اور نجی افراد سمیت تمام متعلقہ فریقوں کے کردار کی نشاندہی کرنا اور بینک سے حاصل کردہ قرضوں کے آخری استعمال کا سراغ لگانا ہے۔ کمپنی یا کشور بیانی کی جانب سے اس مقدمے پر فوری ردعمل سامنے نہیں آیا۔ واضح رہے کہ ایف آئی آر کا اندراج اور تفتیش الزامات کی بنیاد پر ہوتی ہے؛ کشور بیانی، راکیش بیانی یا دیگر نامزد افراد کے خلاف جرم ابھی عدالت میں ثابت نہیں ہوا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK