Updated: October 23, 2026, 10:09 PM IST
| New Delhi
ہندوستان میں اسمارٹ فون بازار کو۲۰۲۶ء کی تیسری سہ ماہی میں بڑا جھٹکا لگا ہے۔ میموری چپس کی ریکارڈ بلند قیمتوں اور اسمارٹ فون بنانے کی لاگت میں اضافے کے باعث ستمبر میں ختم ہونے والی سہ ماہی کے دوران ملک میں اسمارٹ فون کی ترسیل میں گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں۲۰؍ فیصد کمی درج کی گئی۔
موبائل۔ تصویر:آئی این این
ہندوستان میں اسمارٹ فون بازار کو۲۰۲۶ء کی تیسری سہ ماہی میں بڑا جھٹکا لگا ہے۔ میموری چپس کی ریکارڈ بلند قیمتوں اور اسمارٹ فون بنانے کی لاگت میں اضافے کے باعث ستمبر میں ختم ہونے والی سہ ماہی کے دوران ملک میں اسمارٹ فون کی ترسیل میں گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں۲۰؍ فیصد کمی درج کی گئی۔ کاؤنٹرپوائنٹ ریسرچ کی جمعہ کو جاری ہونے والی رپورٹ کے مطابق، اس گراوٹ کے ساتھ اسمارٹ فون کی ترسیل گزشتہ ایک دہائی کی کم ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔رپورٹ کے مطابق، ہندوستان میں اسمارٹ فون کی مانگ مسلسل کمزور ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تہواروں کے موسم سے پہلے بھی کمپنیوں نے بازار میں ضرورت سے زیادہ اسٹاک بھیجنے سے گریز کیا۔ میموری چپس سمیت دیگر اہم پرزوں کی قیمتوں میں اضافے نے اسمارٹ فون کی تیاری مہنگی کردی ہے، جس کا سب سے زیادہ اثر کم قیمت اور درمیانی قیمت والے فون پر پڑ رہا ہے۔ ان زمروں میں قیمتوں میں اضافے نے عام صارفین کے لیے نیا اسمارٹ فون خریدنا مشکل بنا دیا ہے۔
کاؤنٹرپوائنٹ ریسرچ کی رپورٹ کے مطابق ۲۰؍ ہزار روپے سے کم قیمت والے اسمارٹ فون کی ترسیل میں ۴۷؍ فیصد کی نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی۔ کئی اسمارٹ فون ماڈل مہنگے ہونے کے بعد اپنی سابقہ قیمت کی حد سے اوپر چلے گئے، جس کے نتیجے میں کم بجٹ رکھنے والے صارفین کی قوتِ خرید متاثر ہوئی ہے۔ کاؤنٹر پوائنٹ کے تحقیقی تجزیہ کار شبھم سنگھ نے کہا کہ اسمارٹ فون کے مختلف پرزوں کی بڑھتی ہوئی لاگت نے فون کی قیمتوں کو اوپر دھکیل دیا ہے۔ اس کا براہِ راست اثر خاص طور پر ۱۵؍ ہزار روپے سے کم قیمت والے فون کے بازار پر پڑا ہے۔ یہ وہ طبقہ ہے جو طویل عرصے سے ہندوستان میں اسمارٹ فون بازار کی ترقی کا اہم محرک رہا ہے۔
کم قیمت والے فون عام صارفین، طلبہ اور محدود آمدنی والے خاندانوں کی پہلی پسند سمجھے جاتے ہیں۔ ایسے میں قیمتوں میں اضافہ اس طبقے کی خریداری کو متاثر کر رہا ہے۔ صارفین یا تو نیا فون خریدنے کا ارادہ مؤخر کر رہے ہیں یا اپنے موجودہ فون کو پہلے کے مقابلے میں زیادہ عرصے تک استعمال کرنے پر مجبور ہیں۔کاؤنٹرپوائنٹ کے تحقیقی ڈائریکٹر ترون پاٹھک کے مطابق، پورے ۲۰۲۶ء میں ہندوستان کے اسمارٹ فون بازار میں تقریباً ۱۳؍ فیصد کمی آنے کا اندازہ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ فون کی بڑھتی ہوئی قیمتیں نہ صرف نئے اسمارٹ فون خریدنے کی مانگ کو متاثر کر رہی ہیں بلکہ پرانے فون کی جگہ نیا فون خریدنے کے معمول کو بھی سست کر رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:ہیری بروک کی ڈبل سنچری رائیگاں، سری لنکا کی انگلینڈ پر سنسنی خیز جیت
انہوں نے خبردار کیا کہ تہواروں کا موسم ختم ہونے کے بعد بازار میں عام طور پر آنے والی سستی صورتِ حال کو مزید مشکل بنا سکتی ہے۔ اس کے علاوہ، اگر اسمارٹ فون کے پرزوں کی قیمتیں بلند رہتی ہیں تو کمپنیاں تہواروں کے دوران دی جانے والی رعایتوں کے بعد دوبارہ قیمتوں میں اضافہ کرسکتی ہیں۔ اس سے صارفین کی خریداری کی صلاحیت پر مزید دباؤ پڑنے کا امکان ہے۔ رپورٹ کے مطابق، اسمارٹ فون کی تیاری کی بڑھتی ہوئی لاگت کا اثر پہلے ہی کم قیمت والے بازار میں دکھائی دینے لگا ہے۔ اخراجات کو قابو میں رکھنے کے لیے کئی کمپنیاں اپنے مصنوعات کے مجموعے میں زیادہ فور جی اسمارٹ فون اور نسبتاً کم خصوصیات والے ماڈل شامل کر رہی ہیں۔
کچھ قیمتوں کے زمروں میں کمپنیاں فون کی قیمت برقرار رکھتے ہوئے اس کی خصوصیات یا تکنیکی صلاحیتوں میں کمی کرنے کی حکمتِ عملی بھی اختیار کر رہی ہیں۔ اس کا مقصد پیداواری لاگت کو محدود رکھنا ہے، تاہم صارفین کو اسی قیمت پر پہلے کے مقابلے میں کم سہولتیں ملنے کا امکان ہے۔
اس صورتِ حال سے اسمارٹ فون بنانے والی کمپنیوں کے لیے بھی مشکلات بڑھ رہی ہیں۔ ایک جانب پرزوں کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں تو دوسری جانب کمزور مانگ کے باعث قیمتوں میں ہر اضافے کو صارفین تک منتقل کرنا آسان نہیں رہا۔ اس سے کمپنیوں کے منافع پر بھی دباؤ پڑ سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق، ہندوستان کے اسمارٹ فون بازار کو ۲۰۲۷ء میں بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ فون کی بڑھتی ہوئی قیمتیں صارفین کو اپنا موجودہ فون زیادہ عرصے تک استعمال کرنے پر مجبور کر رہی ہیں، جس سے پرانے فون کی جگہ نیا فون خریدنے کا دورانیہ طویل ہو رہا ہے۔ اس رجحان کے باعث بازار میں تیزی سے بحالی کے امکانات محدود ہوسکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:رجنی کانت کی’ ’جیلر۲‘‘نے دنیا بھر میں ۶۰۰؍ کروڑ روپے کا ہندسہ عبور کرلیا
رپورٹ کے مطابق، مستقبل میں اسمارٹ فون بازار کی ترقی کا بڑا حصہ مہنگے اور درمیانی سے اوپر کی قیمت والے فون کے زمروں سے آنے کا امکان ہے، جبکہ کم قیمت والے فون کا بازار صارفین کی محدود قوتِ خرید اور کمپنیوں کے کم ہوتے منافع کے دباؤ میں رہ سکتا ہے۔ کاؤنٹرپوائنٹ ریسرچ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آنے والے وقت میں بغیر اضافی لاگت کی قسطوں، پرانے فون کے بدلے نئے فون کی خریداری پر رعایت اور دکانداروں کی جانب سے خصوصی تشہیری پیش کشوں کی اہمیت بڑھ سکتی ہے۔ ان سہولتوں کے ذریعے صارفین کے لیے مہنگے اسمارٹ فون خریدنا نسبتاً آسان بنایا جاسکتا ہے۔مجموعی طور پر میموری چپس کی بلند قیمتیں، اسمارٹ فون کی تیاری کے بڑھتے ہوئے اخراجات اور صارفین کی کمزور مانگ بھارتی اسمارٹ فون بازار کے لیے بڑے چیلنج بن گئے ہیں۔ اگر لاگت میں کمی نہیں آتی اور صارفین کی قوتِ خرید بہتر نہیں ہوتی تو کم قیمت والے فون کی فروخت پر دباؤ برقرار رہ سکتا ہے، جس سے بازار کی مجموعی ترقی بھی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔